کوئٹہ ( خ ن) وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کوئٹہ کے سول ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کے انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت اور معاشرتی اقدار پر ایک سیاہ دھبہ قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ خواتین، خاص طور پر فرنٹ لائن پر خدمات سرانجام دینے والی ڈاکٹرز پر اس طرح کے وحشیانہ حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحاؤں پر اس قسم کے حملے کسی بھی مہذب معاشرے کے ماتھے پر کلنک ہیں، اور صنفِ نازک بالخصوص فرض شناس خواتین افسران کو اس طرح نشانہ بنانا بزدلی کی انتہا ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے جدید خطوط پر تفتیش کی اور چند ہی گھنٹوں میں ملزم کا سراغ لگا کر اسے کیفر کردار تک پہنچایا۔ پولیس کی یہ بروقت اور تندہی سے کی گئی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبے میں قانون کی بالادستی قائم ہے اور جرائم پیشہ عناصر کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ صوبائی مشیر نے افسوسناک واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے متاثرہ خاتون ڈاکٹر کو بہتر علاج معالجے کی فراہمی کے لیے ائیر ایمبولینس کے ذریعے کراچی منتقل کرنے کے احکامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا یہ اقدام انسانی زندگیوں کے تحفظ کے حوالے سے ان کی سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔انہوں نے متاثرہ خاتون ڈاکٹر کے اہلخانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ زخمی لیڈی ڈاکٹر کو جلد اور مکمل صحت یابی عطا فرمائے۔