• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتیاط علاج سے بہتر ہے، ’’گیسٹرو‘‘ معدے اور آنتوں کا انفکشن

فائل فوٹو
فائل فوٹو

 گرمی کی شدت میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے۔ درجۂ حرارت بھی 45ڈگری تک جارہا ہے۔ اوپی ڈی میں بھی بہت زیادہ رش ہے۔ کمرے میں ایک حواس باختہ سی عورت داخل ہوئی، جس کی گود میں۔ سات، آٹھ ماہ کا بچہ تھا۔’’ ڈاکٹر میرے بچے کو جلدی سے دیکھیں اس کی حالت خراب ہورہی ہے۔‘‘ بچہ بہت نڈھال تھا۔ آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں سانس بھی کچھ تیزلے رہا تھا، بخار بھی ہورہا تھا۔ ’’کیا تکلیف ہے بچے کو‘‘؟’’ کل شام سے مسلسل پانی جیسے دست اور الٹیاں ہورہی ہیں‘‘۔’’ آپ نے کسی ڈاکٹر کو دکھایا‘‘ …؟ ’’میڈیکل اسٹور سے دست اور بخار کا شربت منگوا کر پلایا تھا۔

پہلے بھی دست ہوئے تھے تو اس دوا سے آرام آگیا تھا، مگر اب تو بالکل ہی فرق نہیں پڑرہا ہے۔ نادست بند ہوئے اور ناہی الٹی‘‘۔’’ بچے کو دودھ کون سا دیتی ہیں’’؟’’ جی بھینس کا تھوڑا پانی ملا کر ۔‘‘ ہاتھ میں ایک بغیر ڈھکن کا فیڈر بھی تھا۔’’ کھلاتی کیا ہیں؟ کچھ نہیں کھاتا۔ بس دودھ ہی پیتا ہے اور ابھی تو دودھ بھی نہیں پی رہا ۔‘‘’’ کوئی نمکول وغیرہ دیا آپ نے‘‘ ؟’’ جی وہ الٹی زیادہ ہے اس لئے نہیں دیا‘‘۔ ’’بیٹا آپ کے بچے کو اسی وجہ سے پانی کی کمی ہوگئی ہے۔‘‘ جونیئر ڈاکٹر فوراً بولی میڈم یہ صبح سے گیسڑو کا پانچواں بچہ ہے۔

اگر مائیں تھوڑی سمجھ داری سے کام لیں دست ، الٹی کی صورت میں بچوں کو پانی اور (12/3)نمکول پلائیں اور الٹی اور دست کے خوف سے انھیں بھوکا پیاسا نا رکھیں تو بچوں کو گیسڑو کے نقصان سے بچایا جاسکتا ہے۔پاکستان میں 5 سال سے کم عمر بچوں میں ہونے والی اموات کا تقریباً 16 فی صد حصہ اسہال یا ڈائیریا کی وجہ سے ہوتا ہے۔سالانہ 53000 بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

GATSTRO ENTERITIS یا گیسٹرو جسے ہم’’ اسہال‘‘ بھی کہتے ہیں، ایک عام مگر خطرناک بیماری ہے جوزیادہ تر آلودہ پانی، غیر معیاری خوراک اور گندگی کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں اس سے متاثر مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے، جس میں بچوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، چھوٹے بچوں میں بروقت علاج پر توجہ نا دی جائے تو جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی خطرناک صورت اختیار کرلیتی ہے۔ گیسڑو، معدے اور آنتوں کا انفیکشن ہے۔ شدید گرمی اور نمی کے باعث جراثیم کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے۔

……وجوہات……

گیسٹرو کی سب سے بڑی وجہ آلودہ پانی ہے۔ نلکوں اور ٹینکروں کا گندہ پانی بغیر ابالے پینے سے یہ انفیکشن تیزی سے پھیلتا ہے۔غیر معیاری، کھلی اشیاء خوردونوش اور باسی کھانا بھی بڑی وجہ ہے۔ ناقص صفائی کی صورت یا صفائی کی کمی بھی ایک بڑی وجہ ہے ،مکھیاں اور کیڑے مکوڑے جنکی گرمیوں میں بہتات ہوتی ہے۔ جب گندگی پر بیٹھ کر کھانے پینے کی اشیاء پر بیٹھتے ہیں تو انھیں آلودہ کردیتے ہیں۔

گندے ہاتھ بھی بیماری پھیلنے کا بڑا سبب بنتے ہیں۔ بچوں میں خصوصاً غیر معیاری دودھ اور بازار میں ملنے والے کٹے ہوئے پھل ، برف والے مشروبات اور قلفی گولا گنڈا بھی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ اکثر بچے کھیلتے ہوئے گندے ہاتھ منہ میں لے لیتے ہیں ،جس سے جراثیم آسانی سے معدے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ ٭ غذائی قلت اور بچوں  میں مناسب خوراک کی کمی اور ماں کا دودھ ناملنا بھی اس بیماری کی بڑی وجہ ہیں۔

یہ بیماری وائرس یا بیکٹیریا کے جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہے۔ بچوں میں خاص طور پر روٹا وائرس شدید دست اور قے کی ایک اہم وجہ جانا جاتا ہے۔ روٹاوائرس ویکسن Rota virus Vaccine بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں شامل ہے۔ اس کی پہلی خوراک بچوں کو ابتدائی چھ ہفتے کی عمر میں اور دوسری خوراک 10 ہفتے کی عمر میں پلائی جاتی ہے۔

……علامات……

٭ گیسٹرو کی صورت میں بچے کو بار بار پتلے دست قے / الٹی، پیٹ میں درد، بخار اور بھوک میں کمی ہوسکتی ہے، جب کہ کچھ مریضوں میں جسم میں پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے،جس کی علامات میں  خشک ہونٹ، آنکھوں کا اندر دھنس جانا زیادہ پیاس لگنا، پیشاب کم آنا، سست یا نڈھال ہوجانا۔ ایسی صورت میں فوری طبّی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔

……علاج اور احتیاط ……

٭ گیسٹرو کی صورت میں والدین کو چاہئے کہ بچے کو بار بار او ۔آر ۔ایس کا محلول یا نمکول پلالیں، تاکہ بچےکو پانی کی کمی اور نمکیات کی کمی سے بچایا جاسکے۔ فوری طور پر گھر میں نمکول میسر نا ہو تو چینی نمک ملا پانی پلائیں ۔ ہلکی غذا جیسے دلیہ، کچھڑی، دہی اور کیلا کھلائیں۔بڑی عمر کے مریضوں کو بھی چاہئے کہ وہ نمکول کے ساتھ ہلکی غذا استعمال کریں۔ لیکن اگر بلڈپریشر یا ذیابطیس کا مریض ہو تو ڈاکڑ سے فوری رجوع کریں۔

ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی اینٹی بایوٹک یا کوئی اور دوا استعمال نا کریں۔ خصوصاً دست روکنے کی دوائیں نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ بچاؤ کے لئے ضروری ہے کہ بچوں کو صاف یا اُبال کر پانی پلائیں۔ اگر بچے کو بوتل یا فیڈر سے دودھ دے رہی ہیں۔ تو اسکو بھی اچھی طرح صاف کرکے ابال لیں تاکہ جراثیم کا خاتمہ ہوسکے۔

بچوں کو بوتل کی بجائے چمچ یا کپ سے دودھ پلائیں۔ بچوں کے برتن بھی اچھی طرح دھویں۔ کھانے سے پہلے اور ٹوائلٹ کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو صابن سے اچھی طرح ضرور دھوئیں۔ بچوں کو بھی ہاتھ دھونے کی تاکید کریں۔ بازار سے کھانے کی کھلی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہئے۔

طبی ماہرین اور WHO کے مطابق گیسٹرو سے ہونے والی پیچیدگیوں اور اموات کو بروقت اور سادہ علاج سے روکا جاسکتا ہے۔ پانی تو زندگی ہے اور گیسٹرو کی صورت میں تو پانی اور نمکول ہی زندگی ہے۔ 

ویکسی نیشن، بچوں کو روٹا وائرس کی ویکسین بروقت پلائیں، تاکہ آپ کا بچہ شدید گیسٹرو اور پانی کی کمی کے خطرات سے محفوظ رہ سکے۔ ہمیشہ یاد رکھیں بے ضرر محسوس ہونے والی بیماریاں کبھی خطرناک بھی ہوسکتی ہیں۔ احتیاط علاج سے بہترہے۔ تو احتیاط کریں اپنے پیاروں اور پیارے بچوں کی حفاظت کریں۔

صحت سے مزید