ڈاکٹر ندیم اللہ خان
پروفیسر اور چیئرمین، شعبۂ ایمرجنسی میڈیسن آغاخان یو نیورسٹی اسپتال
جیسے ہی پاکستان بھر میں درجۂ حرارت بڑھتا ہے، شدید گرمی محض ایک موسمی پریشانی نہیں رہتی بلکہ ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ اور کئی صورتوں میں جان لیوا ہنگامی صورتحال بن جاتی ہے۔ پاکستان عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا براہِ راست سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
ہمارے ہاں گرمیوں کا دورانیہ طویل، زیادہ سخت اور دن بہ دن خطرناک ہوتا جا رہا ہے، جب کہ بار بار آنے والی ہیٹ ویوز درجۂ حرارت کو 40 ڈگری سینٹی گریڈ بلکہ بعض اوقات 50 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر لے جاتی ہیں۔ تیزی سے بڑھتی شہری آبادی، گنجان آباد علاقے اور ٹھنڈک فراہم کرنے والی سہولیات تک محدود رسائی لاکھوں افراد کو مختلف بیماریوں سے دو چار کر رہی ہیں۔
ہر سال ملک بھر کے اسپتالوں میں ایسے مریضوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے جو پانی کی کمی، ہیٹ ایگزاسشن، ہیٹ اسٹروک اور شدید گرمی کے باعث بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ بیماریاں انسانی جسم پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے۔
گرم موسم میں انسانی جسم بنیادی طور پر پسینہ خارج کرنے اور خون کی نالیوں کے پھیلاؤ کے ذریعے اپنے اندرونی درجۂ حرارت کو متوازن رکھتا ہے۔ جسم کا قدرتی نظام بھی ایک حد میں رہتا ہے، خاص طور پر جب شدید گرمی کے ساتھ نمی بھی زیادہ ہو تو پسینہ مؤثر طریقے سے بخارات میں تبدیل نہیں ہو پاتا، جس سے جسم کا بنیادی ٹھنڈک پیدا کرنے والا نظام متاثر ہو جاتا ہے۔ اس صورتحال کے ساتھ ہوا یا پانی کی کمی بھی شامل ہو جائے تو جسم کی ٹھنڈا رہنے کی صلاحیت آسانی سے جواب دے جاتی ہے، یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں گرمی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا آغاز ہوتا ہے۔
شدید گرمی میں زیادہ دیر رہنے کا ایک عام نتیجہ پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن ہے۔ گرم موسم میں جسم پسینے کے ذریعے بڑی مقدار میں پانی اور الیکٹرولائٹس (جسم کے ضروری معدنیات) کھو دیتا ہے۔ اس کی ابتدائی علامات میں پیاس لگنا، منہ خشک ہونا، تھکن، سر درد، چکر آنایا پیشاب کی مقدار کم ہونا شامل ہیں۔
بہت سے لوگ پانی کی کمی کو سنجیدہ مسئلہ نہیں سمجھتے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ بعد میں پانی پی کر اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے، تاہم پانی کی کمی بھی ذہنی یکسوئی کو متاثر کر سکتی ہے، جسمانی کارکردگی کم ہو سکتی ہے خاص طور پر باہر کام کرنے والے افراد میں بیمار ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
گرمی سے متعلق بیماری کی ابتدائی شکل اکثر ہیٹ کریمپس یعنی پٹھوں میں کھچاؤ کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ یہ دردناک پٹھوں کے کھچاؤ ہوتے ہیں جو شدید گرمی میں جسمانی مشقت کے دوران یا بعد میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی وجہ زیادہ پسینے کے ذریعے نمکیات اور پانی کا ضائع ہونا ہے۔ اگرچہ ہیٹ کریمپس جان لیوا نہیں ہوتے، لیکن یہ جسم کی پہلی وارننگ ہوتی ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
جب گرمی کا اثر برقرار رہتا ہے تو بعض افراد ہیٹ ایگزاسشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ایسی کیفیت ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم پسینے کے ذریعے بہت زیادہ پانی اور نمکیات کھو دیتا ہے۔ اس کی علامات میں شدید پسینہ آنا، کمزوری، چکر آنا، متلی، سر درد، دل کی دھڑکن تیز ہونا، اور بے ہوشی شامل ہیں۔ گرم ماحول کے باوجود جلد ٹھنڈی اور نم محسوس ہو سکتی ہے۔
اگرچہ ہیٹ ایگزاسشن، ہیٹ اسٹروک جتنا خطرناک نہیں ہوتا، لیکن اسے کبھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ گرمی میں سب سے خطرناک ہیٹ اسٹروک ہوتا ہے۔ یہ ایک طبی ایمرجنسی ہے جو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم کے ٹھنڈک پیدا کرنے والا نظام مکمل طور پر ناکام ہو جائےاور اندرونی درجہ ٔحرارت تیزی سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے اوپر پہنچ جائے۔
اس کے ساتھ اعصابی نظام شدید متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں الجھن، ذہنی انتشار، دورے پڑنا حتیٰ کہ کوما بھی ہو سکتا ہے۔ ہیٹ ایگزاسشن کے برعکس، اس مرحلے پر پسینہ کم ہو سکتا ہے یا مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے جبکہ جلد گرم اور سرخ ہو سکتی ہے۔
ہیٹ اسٹروک کی صورت میں فوری طبی امداد انتہائی ضروری ہوتی ہے، چونکہ یہ دماغ، دل، گردوں اور جگر سمیت اہم اعضا کو تیزی سے نقصان پہنچاتی ہے، اس لیے جسم کو جلد از جلد ٹھنڈا کرنا زندگی بچانے کے لیے سب سے اہم قدم ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو ہیٹ اسٹروک جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا ہوں۔
اگر آپ کسی شخص کو گرمی کے باعث گرتے ہوئے دیکھیں تو اسے فوراً سایہ دار اور نسبتاً ٹھنڈی جگہ پر منتقل کریں۔ اگر مریض بے ہوش ہو تو اس کے منہ میں زبردستی پانی نہ ڈالیں، کیوں کہ وہ دم گھٹنے یا پانی پھیپھڑوں میں جانے کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔ اس کے بجائے جسم پر ٹھنڈا پانی چھڑکیں، ہوادار جگہ پر لٹائیں یا ہاتھ کئ پھنکے سے ہوا دیں۔ گردن، بغلوں اور رانوں کے درمیان برف یا ٹھنڈے گیلے تولیے رکھیں اورفوری طور پر مریض کو قریبی ہسپتال منتقل کریں۔
گنجان شہری علاقوں میں رہنے والے افراد کو ’’اربن ہیٹ آئی لینڈ‘‘ اثر کی وجہ سے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جہاں کنکریٹ کی عمارتیں، سڑکیں اور سبزہ کم ہونے کے باعث گرمی دن کے ساتھ رات میں بھی برقرار رہتی ہے۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے درجہ ٔحرارت کو کنٹرول کرنے کی قدرتی صلاحیت کم ہو جاتی ہے۔
بڑی عمر کے افراد میں پسینہ کم آتا ہے اور خون کی نالیاں بھی مؤثر انداز میں نہیں پھیل پاتیں۔ اس کے علاوہ، پیاس کا احساس بھی کم ہو جاتا ہے، جس کے باعث انہیں اکثر اس وقت تک پانی کی کمی محسوس نہیں ہوتی جب تک وہ شدید متاثر نہ ہو جائیں۔ بہت سے بزرگ بلڈ پریشر، ذیابیطس یا دیگر دائمی بیماریوں کی ادویات استعمال کر رہے ہوتے ہیں، جو پسینہ آنے یا جسم میں پانی کے توازن کو متاثر کر سکتی ہیں۔
شیر خوار بچے اور کم عمر بچے بھی زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔ ان کے جسم ماحول سے گرمی زیادہ تیزی سے جذب کرتے ہیں، جب کہ ان کو پسینہ کم آتا ہے۔ چھوٹے بچے پیاس کو نہ تو مؤثر انداز میں محسوس کر پاتے ہیں اور نہ ہی بیان کر سکتے ہیں، جس کے باعث ان میں شدید پانی کی کمی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ دل کے مریضوں میں جسمانی درجۂ حرارت برقرار رکھنے کی اضافی کوشش دل پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔ سانس کے مریضوں کو شدید گرمی اور خراب آپ وہواکے دوران سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے۔
گرمی کی وجہ سے ہونے والی پانی کی کمی سے گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بعض ادویات بھی گرمی سے متعلق بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں، کیوں کہ وہ جسم کی مؤثر طریقے سے پسینہ پیدا کرنے کی صلاحیت میں مداخلت کرتی ہیں۔ ان میں بعض بلڈ پریشر ، نفسیاتی ادویات، اینٹی ڈپریسنٹس اور اینٹی ہسٹامینز شامل ہیں۔ ایسی ادویات استعمال کرنے والے افراد کوگرمی کے دوران احتیاطی تدابیر کے بارے میں اپنے ڈاکٹروں سے مشورہ کرنا چاہیے۔
شدید گرمی کا ایک ایسا اثر جسے اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے، وہ معدے اور آنتوں کی صحت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ زیادہ درجۂ حرارت کھانے کے خراب ہونے اور بیکٹیریا کی افزائش میں اضافہ کر سکتا ہے، جس سے فوڈ پوائزننگ اور دست و قے جیسی بیماریاں بڑھ سکتی ہیں، خاص طور پر بچوں اور بزرگوں میں پانی کی کمی کو تیزی سے سنگین بنا سکتی ہیں۔
اسی لیے شدید گرمی کے دوران خوراک کو محفوظ طریقے سے رکھنا، صفائی کا خیال رکھنا، اور صاف پانی پینا اہم ہوتا ہے۔ پانی کا مناسب استعمال سب سے مؤثر بچاؤ ہے۔پیاس محسوس ہونے سے پہلے ہی باقاعدگی سے پانی پیتے رہیں۔ اورل ری ہائیڈریشن سالٹس (او آر ایس) زیادہ پسینہ آنے کے باعث جسم سے پانی اور الیکٹرولائٹس کی کمی پوری کرنے میں خاص طور پر مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
دن کے سب سے گرم اوقات، جو عموماً صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک ہوتے ہیں، کے دوران بیرونی سرگرمیاں محدود رکھنی چاہئیں۔ جہاں ممکن ہو، سخت جسمانی مشقت، ورزش، اور بیرونی کام صبح سویرے یا شام کے وقت کیے جائیں جب درجہ ٔحرارت نسبتاً کم ہو۔ ہلکے، ڈھیلے اور ہوا گزرنے والے کپڑے جسم کو بہتر انداز میں ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ماہرینِ موسمیات خبردار کر رہے ہیں کہ آنے والے عشروں میں جنوبی ایشیا میں ہیٹ ویوز بار بار اور زیادہ شدت کے ساتھ آنے کا امکان ہے۔ اس کے نتیجے میں گرمی سے متعلق بیماریاں صرف موسمی مسئلہ نہیں بلکہ پورا سال جاری رہنے والی عوامی صحت کی ترجیح بن سکتی ہیں۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے صرف طبی تیاری کافی نہیں بلکہ بہتر شہری منصوبہ بندی، سبزہ بڑھانے، انفراسٹرکچر مضبوط بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
ضرورت اس بات کو تسلیم کرنے کی ہے کہ شدید گرمی ایک سنگین صحت کا خطرہ ہے، جس پر فوری توجہ اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔ مناسب مقدار میں پانی پینا، شدید گرمی سے بچاؤ، ابتدائی علامات کو پہچاننا کمزور افراد کی مدد کرنا گرمی سے ہونے والی بیماریوں کا بوجھ کم کرنے اور جانیں بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔ جب پاکستان ایک اور مشکل گرمیوں کے موسم کا سامنا کر رہا ہے تو آگاہی اور تیاری ہی ہمارا سب سے مضبوط دفاع ہیں۔