• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے ٹریک اینڈ ٹریس نظام سے جعلی، غیر معیاری، نقلی دواؤں کی نشاندہی و خاتمہ ہو گا: مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال—فائل فوٹو
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال—فائل فوٹو

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہو گی۔

ترجمان وزارتِ صحت کے مطابق ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانے کے لیے وزارتِ صحت نے اہم قدم اٹھایا ہے، اس حوالے سے وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جعلی دواؤں کے خاتمے کے لیے پاکستان میں ادویات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا ہے کہ نئے نظام کے تحت جعلی، غیر معیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہو گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے دواؤں پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978ء میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے اور یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

وفاقی وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا اور اس نئے نظام کے نفاذ سے عام صارف باآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکے گا۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اہم فیصلہ دواؤں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کے لیے کیا ہے، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا۔

مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ نئے نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا اور عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

وفاقی وزیرِ صحت نے یہ بھی کہا کہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں، ڈریپ صنعت کی سہولت کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کرے گا۔

صحت سے مزید