کراچی (رفیق مانگٹ)برطانیہ، کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی بحث میں شدت۔70 ہزار سے زائد دستخطوں والی پٹیشن، حکومت کا 16 سال سے کم عمر بچوں پر پابندی لگانے پر غور ۔ہاؤس آف لارڈز نے سوشل میڈیا استعمال کیلئے کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کی ترمیم منظور کر لی۔ تفصیلات کے مطابقبرطانیہ اس وقت کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی سے متعلق ایک اہم قانونی اور سماجی موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ایک جانب عوامی دباؤ اور بچوں کے تحفظ کی ضرورت اس اقدام کو تقویت دے رہی ہے، تو دوسری جانب اس کے عملی نفاذ اور ممکنہ منفی اثرات پر سنجیدہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق وزیرِ اعظم سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے نقصان دہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی کے اعلان پر غور کر رہے ہیں، تاہم ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ فوری طور پر کسی باضابطہ پابندی کا امکان کم ہے اور حکومت پہلے بچوں کو جنسی استحصال سے متعلق آن لائن مواد سے بچانے کے اقدامات متعارف کرا سکتی ہے۔اس معاملے پر عوامی رائے بھی تیزی سے قانون سازی کے حق میں سامنے آ رہی ہے۔ ایک حالیہ پٹیشن، جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا، 70 ہزار سے زائد دستخط حاصل کر چکی ہے، جس کے بعد حکومت نے باقاعدہ مشاورت کا عمل شروع کر دیا ہے۔