اسلام آباد (مہتاب حیدر، تنویر ہاشمی، رانا غلام قادر) وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل (NEC) نے بدھ کے روز آئندہ بجٹ 2026-27 کیلئے قومی ترقیاتی اخراجات میں متفقہ طور پر 1046 ارب روپے کی کٹوتی کر دی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے قومی اقتصادی کونسل اجلاس کے بعد بریفنگ میں بتایا کہ PSDP کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کیا گیا ہے، شرح ترقی 4 فیصد مقررکی گئی ہے جبکہ دفاع اور داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں ہوگا، 800 ارب روپے کی بچت کہاں استعمال ہوگی وزارت خزانہ سے پوچھیں، ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کو گزشتہ مالی سال کے بجٹ پر ہی منجمد کر دیاگیا ہے، پنجاب کا ترقیاتی بجٹ تقریباً نصف کم کرکے 749ارب روپے، سندھ کا 704ارب روپے، کے پی 455 ارب روپے مقرر کیا گیا جبکہ بلوچستان کا 308ارب روپے پر برقرار رکھا گیا ہے، مہنگائی کی اوسط شرح 8.2 فیصد ہوگی، وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہترین مفاد میں قومی فیصلے کئے، ملکی دفاع کیلئے وسائل کی فراہمی ترجیح، سنجیدگی سے صوبوں کے ساتھ مشاورت کی، تیل کی قیمتیں بڑا چیلنج ہیں، دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے این ایف سی اپڈیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔تفصیلات کے مطابق قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے قومی ترقیاتی بجٹ میں 1046 ارب روپے کی نمایاں کٹوتی کرتے ہوئے مجموعی ترقیاتی حجم 36.69 کھرب روپے منظور کر لیا ہے۔ وفاق اور صوبوں نے ترقیاتی اخراجات کم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تقریباً 800 ارب روپے کی بچت کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم اس رقم کے استعمال کی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔این ای سی کے مطابق وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) 1126 ارب روپے سے کم ہو کر 1000 ارب روپے رہ گیا ہے، جبکہ صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پیز) 3138 ارب روپے سے کم ہو کر 2218 ارب روپے کر دیے گئے ہیں۔ پنجاب کا ترقیاتی بجٹ 1450 ارب روپے سے کم ہو کر 749 ارب روپے (تقریباً 48 فیصد کمی)، سندھ کا 816 ارب سے 704 ارب روپے، خیبرپختونخوا کا 564 ارب سے 455 ارب روپے ہو گیا، جبکہ بلوچستان کا بجٹ 308 ارب روپے پر برقرار رکھا گیا ہے۔اجلاس کے بعد وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اتفاق رائے کے بعد ترقیاتی منصوبوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں صرف دفاع اور داخلہ کے شعبوں میں نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے۔ انہوں نے 800 ارب روپے کی بچت کے استعمال سے متعلق سوال پر کہا کہ اس بارے میں وزارت خزانہ بہتر وضاحت دے سکتی ہے۔این ای سی نے آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد شرح نمو، 8.2 فیصد افراط زر، 15 فیصد سرمایہ کاری اور 14.3 فیصد قومی بچت کا ہدف منظور کیا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ معیشت کا مجموعی حجم 143.6 کھرب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0.7 فیصد کے برابر رہنے کا امکان ہے۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستان ترقیاتی اہداف کے حصول میں خطے کی دیگر معیشتوں سے پیچھے ہے۔ ملک میں فی کس آمدن گزشتہ ایک دہائی سے تقریباً جمود کا شکار ہے، جبکہ پاکستان میں 2کروڑ 51 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ تعداد ہے۔ غربت کی شرح 28.9فیصد اور بے روزگاری 7.1 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔حکام کے مطابق پاکستان کو سب سے بڑا چیلنج تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ہے، جس کے باعث ہر سال بنیادی سہولیات، تعلیم، صحت اور روزگار کی اضافی ضرورت پیدا ہو رہی ہے۔