• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر نعمان نعیم

اسلام میں شہید کی عظمت بے مثال ہے۔ شہید وہ عظیم انسان ہے جو حق کی خاطر جان قربان کر دے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شہید کا مرتبہ اتنا بلند ہے کہ قرآن مجید کے مطابق وہ مرتے نہیں، بلکہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور انہیں اللہ کی طرف سے رزق بھی ملتا ہے۔ اسلام کی پوری تاریخ راہِ حق میں اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ پیش کرنے والے عظیم شہداء کے ایمان افروز تذکرے سے عبارت ہے۔

وطن اور حق کی راہ میں جان قربان کرنا بہت بڑا اعزاز ہے۔ اسلام اور اخلاقی اقدار میں شہید کا درجہ نہایت بلند ہے۔ شہید کو مردہ نہیں، بلکہ زندہ مانا جاتا ہے جو اپنے رب کے پاس رزق پاتا ہے۔

چناں چہ اسلام میں’’ شہید ‘‘کے مقام اور شہادت کی عظمت کے حوالے سے امام الانبیاءﷺ کا یہ ارشاد سند کادرجہ رکھتا ہے،صحابی رسول حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:جو شخص بھی جنت میں داخل ہو تا ہے وہ پسند نہیں کرتا کہ دوبارہ دنیا کی طرف لوٹ جائے اور اسے دنیاکی ہر چیز دے دی جائے، مگر شہید (اس کا معاملہ یہ ہے)کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں دوبارہ واپس لوٹ جائے اور دس مرتبہ قتل کیا جائے۔ (راہِ خدا میں باربار شہید کیا جائے) (صحیح بخاری، صحیح مسلم، بیہقی)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، میری یہ آرزو اور تمنا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل (شہید) کیاجاؤں، پھر زندہ کیاجاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیاجاؤں، پھر شہید کیا جاؤں، پھرزندہ کیاجاؤں اور پھر شہید کیا جاؤں‘‘۔(صحیح بخاری،مشکوٰۃ المصابیح)حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جان لو! کہ جنت تلواروں کے سائے میں ہے۔(صحیح بخاری)

شہید کی عظمت اور شہادت کے مقام کے حوالے سے ارشادِباری تعالیٰ ہے: ’’اور جولوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں، انہیں مُردہ مت کہو (وہ مردہ نہیں) بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں(ان کی زندگی کا) شعور نہیں ہے‘‘۔(سورۃ البقرہ)اسی طرح ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:’’اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے گئے ہیں، تم انہیں مردہ مت خیال کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں اور انہیں رزق بھی دیاجاتا ہے‘‘۔(سورئہ آل عمران)’’ سورۃ النساء ‘‘ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے شہدائے کرام کوان لوگوں کے ساتھ بیان کیا ہے، جن پراللہ تعالیٰ نے اپناخاص فضل وکرم اور انعام واکرام فرمایا اور انہیں صراطِ مستقیم اور سیدھے راستے کا معیاروکسوٹی قرار دیا ہے۔

چناںچہ ارشادِخداوندی ہے:’’جو کوئی اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول ﷺکی(ایمان اورصدقِ دل کے ساتھ) اطاعت کرتاہے،پس وہ(روزِقیامت)ان لوگوں کے ساتھ ہوگا، جن پراللہ تعالیٰ نے (اپناخاص ) انعام فرمایا ہے، جوکہ انبیاءؑ، صدیقین، شہداء اورصالحین ہیں اور یہ کتنے بہترین ساتھی ہیں‘‘۔(سورۃ النساء)

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا : شہدائے کرام جنت کے دروازے پر نہر بارق پر سبز قبے میں ہیں اور ان کا رزق انہیں صبح و شام پہنچتا ہے۔(مسند احمد،مستدرک ،طبرانی)

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب بندے قیامت کے دن حساب کتاب کے لیے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ اپنی تلواریں گردنوں پر اٹھائے ہوئے آئیں گے، ان سے خون بہہ رہا ہوگا، وہ جنت کے دروازوں پر چڑھ دوڑیں گے، پوچھا جائے گا یہ کون ہیں؟ جواب ملے گا یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور انہیں روزی ملتی تھی۔ (طبرانی۔ مجمع الزوائد)

حضرت مسروق تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی: ترجمہ: اور جو لوگ راہِ خدا میں قتل کردئیے گئے، انہیں مردہ مت خیال کرو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے پروردگار کے مقرّب ہیں، انہیں رزق بھی ملتا ہے۔ (صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جو شخص بھی اللہ کی راہ میں زخمی ہو – اور اللہ ہی جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہوتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اس کے زخم سے خون کا فوارہ بہہ رہا ہوگا، رنگ خون کا اور خوشبو کستوری کی۔ (صحیح بخاری ومسلم) 

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شہید کو (راہِ خدا میں) قتل کی اتنی تکلیف بھی نہیں ہوتی، جتنی کہ تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ (ترمذی،نسائی، دارمی)

شہادت کے فضائل سے قرآن وحدیث بھرے ہوئے ہیں اور اسلامی تعلیمات کی رو سے ایک مسلمان کی حقیقی ودائمی کامیابی یہی ہے کہ وہ ﷲ کے دین کی سربلندی کی خاطر شہید کردیا جائے، لہٰذا ایک مومن کی تو دلی تمنا یہی ہوتی ہے کہ وہ ﷲ کی راہ میں شہادت سے سرفراز ہو۔

حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : شہید کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں سات انعامات ہیں ( 1) خون کے پہلے قطرے کے ساتھ اس کی بخشش کر دی جاتی ہے اور اسے جنت میں اس کا مقام دکھا دیا جاتا ہے۔ ( 2) اور اسے ایمان کا جوڑا پہنایا جاتا ہے۔ (3) عذاب قبر سے اسے بچا دیا جاتا ہے۔ (4) قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے اسے امن دے دیا جاتا ہے۔ (5) اس کے سر پر وقار کا تاج رکھا جاتا ہے جس کا ایک یاقوت دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے بہتر ہے۔ (6 ) بہتّر حور عین سے اس کی شادی کر دی جاتی ہے۔ ( 7) اور اپنے اقارب میں ستّر آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول کی جاتی ہے۔ ( مسند احمد )

اسلام میں وطن عزیز یا اپنی سرزمین کی حفاظت کے لیے جان قربان کرنا بہت بڑا اعزاز ہے۔ اپنے ملک، دین اور اہل خانہ کی حفاظت کرتے ہوئے جان دینے والا "شہید" کہلاتا ہے۔ اسلام میں اس قربانی کو جہاد اور اعلیٰ ترین عبادت کا درجہ حاصل ہے۔

شہادت مومن کا اعلیٰ مقام اور باعثِ فخر ہے، شہداء کی عظمت کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ شہادت ایک ایسا اعزاز ہے جو صرف وہی حاصل کر سکتا ہے جس کے دل میں ایمان موجود ہو گا اور جو شہادت کی تمنا رکھتا ہو گا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے شہید کو بے شمار اعزازات سے نوازا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام شہدائے اسلام کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے والا بنائے…( آمین یا ربّ العالمین)