آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: کسی کے ہاں کئی سال بعد اولاد ہوئی ہے، وہ یہ سوچتا ہے کہ لوگوں کو خود بتانے سے نظر لگ سکتی ہے، اس لیے از خود اظہار نہیں کرتا، اس کی کیا حیثیت ہے؟ ہم یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ دین ِاسلام میں نظر بد کی کیا حقیقت ہے؟ کیا نظر لگتی ہے؟ کیا اس نیت سے ہم خوشخبری کو چھپاسکتے ہیں؟
جواب: نظر بد کا اثر ایک حقیقت ہے، صحیح مسلم میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نظر بد حق ہے، اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جاتی (یعنی تقدیر پر غالب ہوتی) تو نظر بد ہوتی، اور جب تم سے (نظر بد کے علاج کے لیے) غسل کے پانی کا مطالبہ کیا جائے تو تم غسل کر کے پانی دے دو۔
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ مجھے نظر بد سے دم کروانے کا حکم فرمایا کرتے تھے۔جامع ترمذی میں حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺجعفر کی اولاد کو بہت زیادہ نظر بد لگتی ہے، کیا میں ان پر کسی سے دم کروا لوں؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں، کیوں کہ اگر کوئی چیز تقدیر پر غالب ہوتی تو نظر بد ہوتی۔
نیل الاوطار میں بحوالہ مسند بزار حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امّت میں قضا و قدر کے بعد سب سے زیادہ لوگ نظر لگنے کی وجہ سے فوت ہوتے ہیں۔
احادیث کی روشنی میں یہ بات بخوبی واضح ہے کہ نظر لگ جانا حق ہے اور نظر لگ جانے کے اثرات بسا اوقات بہت گہرے بھی ہوسکتے ہیں، بلکہ موت کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ اس لیے اگر نظر لگنے کا اندیشہ اور ڈر ہے تو اس سے بچاؤ کی تدبیر کے طور پر خوشخبری کو مخفی رکھنے کی گنجائش ہے، از خود اس کا اظہار نہ کریں اس میں حرج نہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ نظر بد سے حفاظت کے جو اذکار و اعمال احادیثِ مبارکہ میں آئے ہیں، ان کا اہتمام بھی کرنا چاہیے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جبرائیل امین ؑ نبی کریم ﷺ کو ان کلمات کے ذریعے دم کرتے تھے: بِاسْمِ اللّٰهِ أَرْقِيْكَ ، مِنْ كُلِّ شَيْءٍ يُؤْذِيْكَ ، مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ أَوْ عَيْنٍ حَاسِدٍ ، اللّٰهُ يَشْفِيْكَ ، بِاسْمِ اللّٰهِ أَرْقِيْكَ۔ نبی اکرم ﷺ خود حضرات حسنین ؓ کو درج ذیل کلمات پڑھ کر دم کیا کرتے تھے: أُعِيْذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَّهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ۔اور آپ ﷺ یہ بھی فرماتے تھے کہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام (اپنے دونوں صاحب زادوں) اسحاق اور اسماعیل علیہما السلام کو ایسے ہی دم کیا کرتے تھے۔
نیز مذکورہ دعاؤں کے ساتھ ساتھ معوذّتین (سورۂ فلق اور سورۂ ناس) اور درج ذیل دعائیں اور کلمات پڑھ کر دم کرتے رہنا چاہیے:1- أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ۔2- أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ ، وَمِنْ شَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِيْنِ وَأَنْ يَّحْضُرُوْنَ.3- حَسْبِيَ اللّٰهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ۔(سورۃالتوبہ: 129)