تفہیم المسائل
سوال: میں اور میری اہلیہ امریکا میں رہتے ہیں۔ میری اہلیہ نے مجھ سے خود ساختہ علیحدگی اختیار کر رکھی ہے اور مجھے طلاق دینے پر مجبور کررہی ہے، میرے بارہا بلانے پر بھی واپس نہیں آرہی۔
اس صورتِ حال میں کہ جب وہ حقوقِ زوجیت ادا کرنے پر کسی طور پر آمادہ نہیں ہے، تو کیا اس کا نفقہ مجھ پر لازم ہے، نیز مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میرے علم میں لائے بغیر عدالت سے یک طرفہ خلع حاصل کرلے گی، جبکہ میں مہر پہلے ادا کرچکا ہوں، کیا وہ مہر کی رقم مجھے واپس کرے گی ؟ (عبداللہ ، لاہور)
جواب: جو عورت کسی معقول عذر کے بغیر شوہر کی اجازت کے بغیر اُس کا گھر چھوڑ کر کسی دوسری جگہ یا والدین کے گھر منتقل ہوجائے، شوہر بیوی کے حقوق میں کوتاہی نہیں برتتا، شوہر ساتھ رکھنا چاہتاہے، شوہر کے بلانے پر بھی واپس نہیں آتی اور حقوقِ زوجیت ادا کرنے پر آمادہ نہ ہو، تو ایسی بیوی کو فقہی اصطلاح میں ’’ ناشزہ (نافرمان) ‘‘ کہا جاتا ہے اور ایسی بیوی کا نفقہ شوہر کے ذمے نہیں ہوتا، علّامہ نظام الدین لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اگر عورت نافرمان ہوکر شوہر کے گھر سے نکل جائے تو جب تک وہ واپس (شوہر کے) گھر لوٹ کر نہ آجائے، اُس کا نان نفقہ شوہر کے ذمے نہیں ہے ، (فتاویٰ عالمگیری،جلد1،ص:545)‘‘۔
آپ کے بیان کے مطابق آپ بیوی کے جملہ حقوق بھی اداکرنا چاہتے ہیں، لیکن آپ کی بیوی کسی طور پر شوہر کے حقوق ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہے، تو آپ پر اس کا نفقہ لازم نہیں ہے۔
امام احمد رضا قادری ؒ الانوار لاعمال الابرار کی عبارت کا خلاصہ لکھتے ہیں: ترجمہ: ’’ نافرمان بیوی کے لیے نفقہ کا استحقاق نہیں اگر بیوی شوہر کا گھر چھوڑ کر بھاگ گئی ہو یا اُ س کی اجازت کے بغیر گھر سے نکل گئی ہو تو وہ نافرمان ہی قرار پائے گی ،خواہ وہ جبراً اُسے واپس لانے پر قدرت رکھتا ہو،(فتاویٰ رضویہ ، جلد12، ص:473)‘‘۔
آپ نے اپنی اہلیہ کا مہر ادا کر دیا ہے، مہر کی واپسی تو صرف خلع کی صورت میں ہوسکتی ہے، عدالتی فسخِ نکاح کی صورت میں مہر واپس نہیں ہوگا، آپ لوگ چونکہ امریکا میں رہتے ہیں، ان کے اپنے سول قوانین ہیں، جن پر ان کی عدالتیں عمل کرتی ہیں اور آپ ان کو بدلنے پر قادر نہیں ہیں، اس لیے اگر آپ لوگوں کا شرعی حدود میں رہتے ہوئے نکاح کو قائم رکھنا اور ازدواجی زندگی کو جاری رکھنا عملاً ممکن نہیں رہا توآپ قرآنی تعلیمات کے مطابق ’’تسریحٌ باحسان‘‘ کردیں اور اُنہیں طلاق دیدیں تاکہ وہ غیر شرعی تفریق کے ذریعے گناہ میں مبتلا نہ ہوں۔
طلاق کے مسائل کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ترجمہ:’’ شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعد کوئی اور (بہتر) صورت مقدر فرمادے،( الطلاق:1) ‘‘ ۔ یعنی شاید اللہ تعالیٰ آپ کے لیے اطاعت گزار ، محبت کرنے والی اور نیک اولاد والی رفیقۂ حیات مقدر فرما دے۔