آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: کیا شرعی پردے میں چہرے کا پردہ لازمی ہے؟ یعنی نقاب کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
جواب: شریعتِ مطہرہ نے پاکیزہ معاشرہ قائم کرنے اور برقرار رکھنے کے لیے کچھ راہ نما اصول بیان کیے ہیں، تاکہ معاشرے میں بے راہ روی نہ پھیلے، ان اصولوں میں سے نگاہوں کی حفاظت اور پردے کا اہتمام بھی ہے۔
نگاہوں کی حفاظت اور پردے کا اہتمام نہ کرنے کی وجہ سے عموماً گناہ کی طرف میلان ہوجاتا ہے اور معاشرے میں بے راہ روی کا خطرہ رہتا ہے، اس لیے قرآن و سنّت میں پردے کے متعلق واضح احکام بیان کیے گئے ہیں، مرد و عورت کو نگاہوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ خواتین کو یہ اضافی حکم دیا گیا ہے کہ وہ غیر محرم سے پردہ کریں اور چہرہ ڈھانپ کر گھر سے نکلیں۔
تاہم غیر محرم دو طرح کے ہیں:1. اجنبی غیر محرم، اس سے بوجۂ مصلحت و دفعِ فتنہ چہرے کا پردہ کرنا واجب ہے۔
2. غیر محرم جو رشتہ دار ہو، جیسے چچازاد، ماموں زاد وغیرہ، اس سے عورت کے لیے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ پورے جسم کا پردہ واجب ہے۔ غیر محرم رشتہ داروں سے چہرے کے پردے کے سلسلے میں شرعی حدود کو مدنظر رکھتے ہوئے اعتدال پر رہنا چاہیے، نہ تو اس حوالے سے شدت کرنی چاہیے، نہ ہی بالکل بے پروا ہونا چاہیے، لہٰذا فتنے میں مبتلا ہونے سے بچنے کے لیے جانبین کو احتیاطی تدابیر اختیار کرلینی چاہییں، مثلًا: دیور، جیٹھ، لڑکی کے چچازاد، ماموں زاد وغیرہ گھر میں آنے سے پہلے اطلاع دیں، گھر میں داخل ہونے سے پہلے گھنٹی وغیرہ بجا دیں یا بلند آواز سے سلام کرلیں، مرد و خواتین نگاہوں کی حفاظت کریں، خواتین دوپٹے یا بڑی چادر سے اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھیں، نیز بے تکلفانہ گفتگو، تنہائی میں ملاقات اور غیر ضروری اختلاط سے گریز کریں۔ لیکن اگر فتنے کا خوف ہو تو غیر محرم رشتے داروں سے بھی چہرے کا پردہ واجب ہوگا۔ (ردّ المحتار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل في النظر و المس 6/ 370 ط:سعيد، امداد الفتاویٰ، عورتوں کے پردے اور نظر ولمس وغیرہ کے احکام، ج:4،ص:177،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)