• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک شریک دوسرے شریک کا حصہ اجارے پر لے سکتا ہے

فائل فوٹو
فائل فوٹو

تفہیم المسائل

سوال: ایک شخص نے 12ایکڑ زمین60لاکھ روپے میں خریدی، دوسرے فریق نے 24لاکھ روپے انویسٹ کیے، دونوں کی شراکت ہوگئی، فریقِ اول کی 75فیصد اور فریقِ دوم کی25فیصد شراکت طے پائی، دونوں کے درمیان زمین پر فارم ہاؤس بناکر فروخت کرنے کا معاہدہ ہوا تھا، لیکن کسی وجہ سے ایسا نہیں ہوا۔

12ایکڑ میں 9ایکڑ پہلے فریق ِ اول کی اور 3ایکڑ فریقِ دوم کی زمین تھی، زمین کی حد بندی کردی گئی تھی کہ یہ تین ایکڑفریقِ دوم کا ہے۔ 75فیصد شراکت والا فریق دوسرے فریق کا 25فیصد حصہ بھی بغیر اجازت استعمال کرتا رہا ،22سال سے اُس زمین پر پنک سالٹ کاکاروبار کررہا ہے، فریقِ دوم کا انتقال ہو گیا ،فریقِ اول کا کہنا ہے کہ اُس کی نو ایکڑ زمین میں سے چار ایکڑ زمین k4 منصوبے کی زد میں آگئی اور گورنمنٹ نے زمین واپس لے لی ہے ، میں آپ کی رقم24لاکھ روپے واپس دینا چاہتا ہوں، ہمارا مطالبہ ہے کہ یہ رقم تو2004ء میں انویسٹ کی تھی، اب 2026ء کے مطابق رقم ادا کرو۔

اب ہم یہ تین ایکڑ پہلے فریق کو فروخت کرتے ہیں تو قیمت کس حساب سے ہوگی، پہلا فریق زمین22سال استعمال کرتا رہا، کیا اس پر اس عرصے کا کرایہ لازم ہے؟( محمد امین صدیقی ، کراچی)

جواب: بنیادی طورپر یہ معاملہ ’’شرکتِ عقد ‘‘ کا ہے ،اس کی فقہی تعریف یہ ہے: ترجمہ:’’ دویا دو سے زائد افراد کی اس شرط پر کسی کاروبار میں شرکت کہ وہ دونوں یا سب سرمائے اور نفع( دونوں) میں شریک ہوں گے، شرکت العقد کہلاتا ہے، (مجلّۃ الاَحکام العدلیہ، مادّہ:1329)‘‘۔تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: ترجمہ:’’ دو شریکوں کے درمیان اصل سرمائے اور منافع میں شرکت کا معاملہ کرنے کا نام شراکت یا مُشارَکہ ہے ،(حاشیہ ابن عابدین ،جلد13، ص: 258)‘‘۔

آپ کے بقول زمین کی حد بندی کردی گئی تھی کہ یہ تین ایکڑ فریقِ دوم کی ہے، K4 منصوبے میں فریقِ اول کی چار ایکڑ زمین واپس لے لی ہے، سوال میں اس امر کی وضاحت نہیں ہے کہ حکومت نے زمین کا معاوضہ دیاہے یا معاوضے کے بغیر قبضے میں لے لی ہے، تاہم اس سے نفسِ مسئلے پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا، بہرصورت اُس کا بار فریقِ دوم پر نہیں ہوگا، یہ فریقِ اول کا ہی نقصان شمار ہوگا، فریقین کے فعل اور اختیار سے یہ شرکت منعقد ہوئی، علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ ہر شریک دوسرے فریق کے حصے میں اجنبی ہے یعنی ہر شریک صرف اپنے حصے میں تصرُّف کرسکتا ہے، دوسرے کے حصے میں اس کی اجازت کے بغیر بمنزلہ اجنبی کے ہے، کیونکہ اس میں وکالت کا مفہوم شامل نہیں ہے ،(البحرالرائق ،جلد5،ص:180)‘‘۔

بین الاقوامی اسلامی فقہ اکیڈمی کے پندرہویں اجلاس میں کونسل نے ناقص مشارکت کے موضوع پرمندرجہ ذیل قراداد اور سفارشات منظور کیں:

(۱)’’مشارکت کے کسی ایک فریق کے لیے جائز ہوگا کہ وہ شریک کے حصے کو معلوم اجرت اور متعین مدت کے لیے اجارہ پر لے لے، دونوں شریکوں میں سے ہرایک اپنے حصے کے بقدر بنیادی دیکھ بھال کا ذمہ دار ہوگا ۔(۲)ناقص مشارکت جائز ہے ۔ ( …جاری ہے …)

اقراء سے مزید