• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر کی سیاست میں ایک پرانا سوال بار بار سر اٹھاتا ہے۔ ترقی کا مطلب کیا صرف نئی سڑکیں، بلند و بالا عمارتیں، جدید چوراہے اور خوبصورت پل ہیں یا ترقی کا اصل پیمانہ وہ انسان ہے جو ان سڑکوں پر چلتا ہے۔ یہ سوال آج پاکستان خصوصاً پنجاب کے تناظر میں پہلے سے زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ حکومتیں جب اپنی کارکردگی بیان کرتی ہیں تو اکثر میگا پراجیکٹس، انفراسٹرکچر اور تعمیراتی منصوبوں کی فہرست پیش کرتی ہیں۔ تصاویر دکھائی جاتی ہیں، افتتاحی تقریبات منعقد ہوتی ہیں، فیتے کاٹے جاتے ہیں اور اشتہارات کے ذریعے عوام کو بتایا جاتا ہے کہ ترقی کا سفر جاری ہے۔ لیکن دوسری طرف ایک عام شہری ہے جو روزانہ بازار جاتا ہے، بجلی کا بل دیکھتا ہے، بچوں کی فیس ادا کرتا ہے، دوائی خریدتا ہے اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اس کیلئے ترقی کا مطلب کچھ اور ہے۔

ایک مزدور کو اس بات سے زیادہ فرق نہیں پڑتا کہ شہر میں کتنے نئے چوراہے بنے ہیں۔ اس کیلئے اہم بات یہ ہے کہ اس کی اجرت اس کے گھر کا چولہا جلانےکیلئے کافی ہے یا نہیں۔ ایک بے روزگار نوجوان کیلئے ترقی کا پیمانہ یہ نہیں کہ کسی سڑک پر نئی ٹائلیں لگ گئی ہیں بلکہ یہ ہے کہ اسے باعزت روزگار میسر آیا یا نہیں۔ ایک ماں کیلئے ترقی کا مطلب یہ نہیں کہ کسی پارک کی تزئین و آرائش ہو گئی بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے بیمار بچے کا علاج کرا سکتی ہے یا نہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے ہاں ترقی کو اکثر کنکریٹ، سیمنٹ اور اینٹوں میں ناپا جاتا ہے۔ حکومتیں سمجھتی ہیں کہ جتنے زیادہ ترقیاتی منصوبے نظر آئیں گے اتنی ہی زیادہ عوامی پذیرائی حاصل ہوگی۔ لیکن تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ معاشرے صرف عمارتوں سے نہیں بلکہ انسانوں سے بنتے ہیں۔ اگر انسان پریشان، بے روزگار، مقروض اور مایوس ہو تو خوبصورت ترین انفراسٹرکچر بھی عوامی اطمینان پیدا نہیں کر سکتا۔

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں گزشتہ برسوں کے دوران بے شمار تعمیراتی منصوبے مکمل ہوئے۔ سڑکوں کی توسیع ہوئی، انڈر پاس اور اوور ہیڈ برج بنے، سرکاری عمارتوں کی تزئین و آرائش ہوئی اور شہری خوبصورتی کے کئی منصوبے متعارف کرائےگئے۔ان منصوبوںکی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ جدید انفراسٹرکچر کسی بھی ترقی پذیر معاشرے کی ضرورت ہوتا ہے۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں حکومت کی تمام توجہ ظاہری ترقی پر مرکوز ہو جائے اور انسانی ترقی پس منظر میں چلی جائے۔

آج ایک متوسط طبقے کا فرد اپنے گھر کا بجٹ بناتے ہوئے شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل دباؤ میں ہیں، یوٹیلیٹی بلوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے اور معیاری تعلیم و صحت عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر حکومت اپنی کامیابیوں کی بنیاد صرف تعمیراتی منصوبوں کو بنائے تو عوام کے ذہن میں ایک فطری احساس پیدا ہوتا ہے کہ اس ترقی میں ان کا حصہ کہاں ہے۔

ترقی کے دو ماڈل ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس میں حکومت عمارتیں بناتی ہے۔ دوسرا وہ جس میں حکومت انسان بناتی ہے۔ پہلا ماڈل نسبتاً آسان ہے کیونکہ اس کے نتائج فوری طور پر نظر آتے ہیں۔ ایک سڑک چند ماہ میں بن جاتی ہے اور اس کی تصویر اشتہار میں شائع ہو جاتی ہے۔ لیکن دوسرا ماڈل مشکل ہے۔ ایک اچھا اسکول،صحت کامعیاری نظام، ہنرمند نوجوان، مضبوط معیشت اور خوشحال خاندان تیار کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ مگر پائیدار ترقی کا راستہ یہی ہے۔کسی بھی حکومت کی اصل کامیابی اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب عوام کی قوت خرید بہتر ہو، روزگار کے مواقع بڑھیں، کاروبار پھلے پھولیں اور نوجوان مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوں۔ اگر معاشی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہو اور عوام کی اکثریت اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہو تو پھر کنکریٹ کی ترقی عوامی خوشحالی میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ عوام نے ہمیشہ اسی قیادت کو پذیرائی دی جس نے ان کے معاشی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کی۔ عوام کا حافظہ اتنا کمزور نہیں جتنا اکثر سمجھا جاتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کی زندگی میں حقیقی تبدیلی کہاں آئی اور کہاں صرف نمائشی ترقی دکھائی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات اربوں روپے کے منصوبے بھی عوامی مقبولیت حاصل نہیں کر پاتے جبکہ ایک مؤثر عوامی فلاحی پروگرام لوگوں کے دل جیت لیتا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انفراسٹرکچر اور عوامی فلاح کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ذمہ دار حکومت کو دونوں شعبوں میں توازن قائم کرنا ہوتا ہے۔ سڑکیں بھی ضروری ہیں اور روزگار بھی۔ پل بھی ضروری ہیں اور اسپتال بھی۔ چوراہے بھی اہم ہیں اور اسکول بھی۔ لیکن جب وسائل محدود ہوں تو ترجیحات کا تعین عوام کی بنیادی ضروریات کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

آج اگر کسی حکومت کو واقعی عوامی مقبولیت حاصل کرنی ہے تو اسے اشتہاری ترقی سے آگے بڑھنا ہوگا۔ عوام اب صرف تصاویر اور افتتاحی تقریبات سے متاثر نہیں ہوتے۔ وہ اپنی زندگی میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کا بہتر مستقبل ہو، ان کی آمدنی میں اضافہ ہو، علاج سستا ہو، تعلیم معیاری ہو اور روزگار کے دروازے کھلیں۔آخرکار تاریخ یہ نہیں پوچھتی کہ کس حکومت نے کتنے فیتے کاٹے تھے۔ تاریخ یہ دیکھتی ہے کہ اس دور میں عوام کتنے خوشحال تھے۔ کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا تھا۔ کتنے خاندان غربت سے نکلے تھے۔ کتنے بچوں کو بہتر تعلیم ملی تھی۔ کتنے مریضوں کو علاج میسر آیا تھا۔ یہی وہ سوالات ہیں جو کسی بھی حکومت کی اصل کارکردگی کا تعین کرتے ہیں۔

کنکریٹ کی ترقی آنکھوں کو متاثر کر سکتی ہے لیکن بھوکے انسان کا پیٹ نہیں بھر سکتی۔ جب تک ترقی کے مرکز میں انسان نہیں آئے گا تب تک چمکتی ہوئی سڑکوں کے باوجود عوامی بے چینی ختم نہیں ہوگی۔ حقیقی ترقی وہ ہے جس میں عمارتوں کے ساتھ ساتھ انسان بھی بلند ہوں، سڑکوں کے ساتھ ساتھ خواب بھی تعمیر ہوں اور منصوبوں کے ساتھ ساتھ عوام کی زندگیوں میں بھی آسانیاں پیدا ہوں۔ یہی کسی بھی کامیاب حکومت کا اصل امتحان اور اصل معیار ہوتا ہے۔

تازہ ترین