• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تنخواہوں، پنشن 7، ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ، بڑے تنخواہ دار کو ریلیف، 650 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات

اسلام آباد (تنویر ہاشمی، حنیف خالد، رانا غلام قادر) آئندہ مالی سال 2026-27 کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے کے مجموعی حجم کا حامل وفاقی بجٹ جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، جس میں اقتصادی ترقی، ٹیکس ریلیف، کم آمدنی والے طبقات، مہنگائی پر قابو پانے اور ہاؤسنگ و تعمیرات، زراعت و صنعت سمیت مختلف شعبہ جات کیلئے مراعات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7فیصد اور کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10فیصد اضافہ کر دیاگیا ہے، بڑے تنخواہ داروں کیلئے ریلیف، دفاع کیلئے 3ہزار ارب، قرض ادائیگی کیلئے 8ہزار ارب روپے مختص، قرض ادائیگی وفاقی بجٹ کا 42.9فیصد ہڑپ کر جائیگی، بی آئی ایس پی کیلئے 838 ارب روپے مختص ، سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر ٹیکس کے خاتمے کی تجویز، بیرون ملک سفر کیلئے بزنس کلاس پر ڈیوٹی ختم، جائیداد کی منتقلی پر وود ہولڈنگ ٹیکس فائلر کیلئے کم، کریڈٹ ڈیبٹ کارڈ کی عالمی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس میں کمی، آزاد جموں و کشمیر کیلئے 146 ارب، گلگت بلتستان کیلئے 88 ارب اور خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع کیلئے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے جبکہ ملکی دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 838 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ وہ اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات (07) فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کےلیے ٹیکس ریونیو کا ہدف 15264ارب روپے ، نان ٹیکس ریونیو 5336ارب روپے مقرر کر دیاگیا ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کےلیے 8054ارب روپے، دفاع کےلیے 3ہزار ارب روپے ، سبسڈیز کےلیے 1091ارب روپے ، پنشن کی ادائیگی کےلیے 1169ارب روپے ، وفاقی ترقیاتی پروگرام کےلیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کےلیے838ارب روپے مختص کر دیئے گئے ہیں اور گزشتہ برس کے مقابلے میں 17فیصد اضافہ کیاگیا ہے ،تنخواہ دار طبقے پر عائد 9فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کر دیاگیا ہے جبکہ تنخواہ کے چار سلیب پر انکم ٹیکس میں بھی کمی کر دی گئی ہے، 22لاکھ روپے سے 32لاکھ روپے تک سالانہ تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس 23فیصد سے کم کر کے 20فیصد ، 32لاکھ روپے سے 41لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس 30فیصد سے کم کرکے 25فیصد اور41لاکھ سے 56لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر 35فیصد سے کم کر کے 29فیصد کر دی گئی اور 56لاکھ روپے 70لاکھ روپے تک تک سالانہ تنخواہ حاصل کرنے والوں کےلیے انکم ٹیکس کی شرح 35فیصد سے کم کرکے 32فیصد کر دی گئی ہے22لاکھ روپے سے کم کی سالانہ تنخواہ کے سلیب پر عائد انکم ٹیکس میں کمی نہیں کی گئی ، جائیداد کی خریدوفروخت پر عائد ٹیکس فائلرز کےلیے عائد ٹیکس میں کمی کر دی گئ ، جائیداد کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 2.5فیصد سے کم کر کے 1.5فیصد اور جائیداد کی فروخت پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس 5.5فیصد سے کم کر کے 2.5فیصد کر دیاگیا ہے ، بیرون ملک سفر کےلیے بزنس کلاس پر عائد ڈیوٹی ختم کر دی گئی ، خواتین کے سینٹری پیڈز اور متعلقہ اشیاء اور مانع حمل مصنوعات پر عائد ٹیکس ختم کر دیاگیا ، بنکوں کے جاری کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال کی صورت میں ہر ٹرانزکشن پر عائد5فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کم کرکے 0.5فیصدکر دیاگیا ہے، درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ گیا ہے جبکہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پربھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 3 ہزارسی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ 2کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیرغور ہے، الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا، درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلزٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ کے مطابق کراچی کو چمن سے جوڑنے والی این 25 شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنے کے لیے 100ارب روپے، سکھر حیدر آباد موٹروے پر 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائیگی جبکہ ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن پر کام آئندہ سال شروع ہوگا جس کے لیے 25ارب مختص کیے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید