اسلام آباد (خالد مصطفیٰ) پاکستان کے ممکنہ واجبات، جو کہ زیادہ تر ریاستی ملکیتی اداروں کے لیے جاری کردہ سرکاری ضمانتوں کی شکل میں ہیں، مارچ 2026 تک بڑھ کر 4.32 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں، جو حکومت کی بیلنس شیٹ پر بڑھتے ہوئے مالیاتی خطرات کو نمایاں کرتے ہیں۔ بڑے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں سے وابستہ نئے وعدوں کے باعث، جون 2027تک یہ حجم مزید بڑھ کر 0.5 ٹریلین روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔یہ ضمانتیں، جو بنیادی طور پر ریاستی ملکیتی اداروں کو دی گئی ہیں، کم لاگت پر ادھار لینے کی سہولت فراہم کرنے، رعایتی فنانسنگ حاصل کرنے، اور اہم بنیادی ڈھانچے اور اقتصادی آپریشنز کی مدد کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔