بھارتی ٹریول وی لاگر انکیتا کمار نے افغانستان کے 13 روزہ اکیلے سفر (سولو ٹرپ) کے دوران طالبان اہلکاروں کے ساتھ پی گئی چائے اور افغان خواتین کے ساتھ ملاقات کی تصویریں شیئر کی ہیں۔
تقریباً 6 لاکھ سوشل میڈیا فالوورز رکھنے والی انکیتا کمار نے بتایا کہ یہ افغانستان جانے کی میری چوتھی کوشش تھی، پہلے 3 مواقع خاندانی مسائل، پرواز کی منسوخی اور علاقائی کشیدگی کے باعث ناکام ہوئے تاہم اس بار میں تاجکستان سے سرحد عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوئی۔
وی لاگر انکیتا کمار کے مطابق میں نے کابل، بامیان، بندِ امیر، غور، ہرات، قندھار اور مزارِ شریف سمیت کئی شہروں کا دورہ کیا، کابل خوبصورت پہاڑوں کے باوجود غربت، بھیک مانگتے بچوں اور خواتین پر سخت پابندیوں کا منظر پیش کرتا ہے۔
انکیتا نے بتایا کہ افغانستان میں اکیلی خاتون مسافر ہونے کے باعث ہر شہر میں طالبان حکام میری سفری دستاویزات اور اجازت ناموں کی جانچ کرتے رہے، خواتین کے لیے مرد سر پرست کے بغیر سفر ممکن نہیں جبکہ کئی عوامی مقامات پر رسائی محدود ہے۔
بندِ امیر میں خواتین کو صبح 8 بجے کے بعد داخلے کی اجازت نہیں جبکہ قندھار میں خواتین کو گاڑی کی اگلی نشست پر بیٹھنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔
انکیتا کمار نے قندھار کو اپنے سفر کا سب سے غیر آرام دہ مقام قرار دیا۔
وی لاگر کے مطابق غور صوبے اور مینارِ جام کے قریب میری طالبان ارکان کے ساتھ ملاقات بھی ہوئی جہاں چائے پر افغانستان، پاکستان، بھارت اور عالمی سیاست پر گفتگو ہوئی۔
انکیتا کے مطابق طالبان نے میرے ساتھ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا لیکن میں افغان خواتین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں کو ناقابلِ قبول سمجھتی ہوں۔
ہرات شہر انکیتا کا پسندیدہ مقام رہا جہاں انہوں نے خواتین کی قائم کردہ آرٹ گیلریوں، مٹی کے برتن بنانے کے مراکز اور خواتین کے مخصوص کیفے کا دورہ کیا۔
انہوں نے ایک 21 سالہ افغان خاتون سے بھی ملاقات کی جو آن لائن تعلیمی ادارہ چلا رہی ہیں اور تقریباً 12000 لڑکیوں کو آن لائن تعلیم فراہم کر رہی ہیں۔
انکیتا کا کہنا ہے کہ افغان خواتین کھلے احتجاج کے بجائے خاموش مگر مؤثر انداز میں مزاحمت کر رہی ہیں کیونکہ بلند آواز احتجاج ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کو صرف طالبان کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ وہاں رہنے والے عام لوگوں کی زندگی، مشکلات اور انسانیت کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
بھارتی خاتون ویلاگر کا کہنا ہے کہ افغانستان کے مختلف علاقوں میں لوگوں نے بتایا کہ کئی دہائیوں کی جنگوں کے بعد اب انہیں امن میسر آیا ہے۔