تاریخِ انسانی کے دفتر میں بعض واقعات ایسے ہیں جو زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہو کر ابدیت کے افق پر ثبت ہو جاتے ہیں۔ وہ محض ایک عہد کی داستان نہیں رہتے بلکہ تمام عہدوں کی آواز بن جاتے ہیں۔ واقعۂ کربلا بھی انہی حقائقِ جاوداں میں سے سر نامہ کلام حقیقت ہے۔ اگر تاریخ کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ چند ساعتوں پر مشتمل ایک معرکہ تھا، لیکن اگر روحِ تاریخ کے باطن میں جھانکا جائے تو یہ خیر و شر، حق و باطل، صداقت و جبر اور حریت و استبداد کے درمیان وہ فیصلہ کن کشمکش تھی جسکی گونج آج بھی انسانی ضمیر کے ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔اسی لیے جب صوفی روایت نے اپنے دل کی آواز کو شعر کے قالب میں ڈھالا تو اس کے تارِ دل سے جو نغمے ابھرے ان میں کربلا کی یاد ایک مقدس روشنی کی طرح جلوہ گر ہوئی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی ہوں یا سچل سرمست، خواجہ محمد زمان لواری ہوں یا بیدل فقیر اور روحل فقیر، سب کے کلام میں کربلا محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک زندہ روحانی حقیقت کے طور پر جلوہ گر ہے۔شاہ عبداللطیف بھٹائی کی سر کیڈارو کو پڑھیے تو محسوس ہوتا ہے کہ شاعر کا قلم نہیں چل رہا بلکہ کربلا کی ریت پر شہادتوں کی ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے وہ فرماتے ہیں ’’شب تاریک تھی مگر انہوں نے اپنے سر قربان کرکے روشنی پیدا کر دی؛ جن کا نام حق کے ساتھ وابستہ ہو جائے، موت بھی انہیں شکست نہیں دے سکتی‘‘۔ شاہ صاحب کے نزدیک حضرت امام حسینؓکی عظیم قربانی خانوادۂ نبوت کی محض ایک آزمائش نہ تھی بلکہ انسانی عظمت کی معراج تھی۔ دنیا کی تمام فتوحات وقتی ہوتی ہیں لیکن حق کیلئے دی جانیوالی قربانی ہمیشہ کیلئے امر ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انکے یہاں کربلا صرف المیہ داستان نہیں بلکہ فتحِ مبین کا اعلان ہے۔ یزید کے لشکر نے جسموں کو پامال کیا، لیکن حضرت امام حسینؓ نے روحِ انسانیت کو زندہ کر دیا۔
سچل سرمست کی طرف آئیے تو وہاں عشق اپنی تمام تر سرشاریوں کیساتھ جلوہ گر نظر آتا ہے۔ سچل کے نزدیک کربلا دراصل عشق کی آخری منزل ہے۔ وہ عشق جو اپنے محبوب کی رضا کے سامنے دنیا کی ہر متاع کو حقیر جانتا ہے۔ انکے کلام میں حضرت امام حسینؓاس عاشقِ کامل کی صورت میں ابھرتے ہیں جنہوں نے حیاتِ فانی کو حق کی بقا پر قربان کر دیا۔ سچل کے نزدیک کربلا یہ اعلان ہے کہ روح کی آزادی کو نہ تلوار مغلوب کر سکتی ہے اور نہ سلطنتیں خرید سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار میں حضرت امام حسینؓ حریتِ فکر اور آزادیِ ضمیر کے سب سے روشن استعارے کے طور پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔سید ثابت علی شاہ کی شاعری میں اہلِ بیت اطہارکی محبت ایک روحانی نسبت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ انکے نزدیک کربلا ایمان کی کسوٹی تھی جہاں انسانوں کے ظاہر نہیں بلکہ باطن تولے گئے۔ وہ شہدائے کربلا کو معرفت کے ان بلند میناروں کے طور پر دیکھتے ہیں جنکی روشنی رہتی دنیا تک سالکانِ راہِ حق کی رہنمائی کرتی رہے گی۔بیدل فقیر کی شاعری میں جب کربلا کا ذکر آتا ہے تو عشق اور معرفت ایک دوسرے سے ہم آغوش ہو جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک عشق کی صداقت کا پیمانہ قربانی ہے اور قربانی کی معراج کربلا ہے۔ وہ امام حسینؓکو اس مردِ کامل کے طور پر پیش کرتے ہیں جس نے باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے سرِ نیاز ہی کٹوا دینا پسند کیا۔ انکے اشعار میں کربلا انسانی روح کے اس باطنی جہاد کی علامت بن جاتی ہے جو ہر زمانے میں ظلم اور حق کے درمیان جاری رہتا ہے۔اکثر صوفیا کی شاعری میں یہی پیغام اپنی پوری معنویت کے ساتھ جلوہ گرہے۔وہ کربلا کو محبت، وفاداری اور اخلاقی جرات کا ایسا سرچشمہ سمجھتے ہیں جس سے انسانیت ہمیشہ سیراب ہوتی رہے گی۔ ان کے نزدیک حضرت امام حسینؓکی شہادت کسی ایک قوم، ملت یا مسلک کی میراث نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ کربلا کا درس یہ ہے کہ جب حق اور باطل آمنے سامنے آ جائیں تو اہلِ حق کو نتائج کی پروا کیے بغیر صداقت کا عَلَم بلند رکھنا چاہیے۔حقیقت یہ ہے کہ ان تمام صوفی شعرا نے واقعۂ کربلا کو محض ایک موضوع نہیں سمجھا بلکہ اسے حیاتِ انسانی کے ایک آفاقی اصول کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے نزدیک حضرت امام حسین ؓتاریخ کا ایک کردار نہیں بلکہ ضمیرِ انسانیت کی ابدی آواز ہیں۔ وہ آواز جو ہر دور کےنمرود ، فرعون اور یزیدکو للکارتی اورہر عہدکے مظلوموں کو حوصلہ عطا کرتی ہے۔چنانچہ اگر شاہ لطیف کی سر کیڈارو، سچل کا نغمۂ عشق، سید ثابت علی شاہ کی روحانی بصیرت، بیدل کی معرفت اور انسان دوستی ایک نقطے پر جمع ہوتے ہیں تو وہ نقطہ کربلا ہے۔
وہی کربلا جس نے ثابت کر دیا کہ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں مگر حق کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتیں؛ سلطنتیں زمینوں پر حکومت کر سکتی ہیں مگر دلوں کی سلطنت ہمیشہ حضرت امام حسینؓکے نام رہتی ہے۔ یہی وہ راز ہے جس نے صوفی شعرا کو صدیوں تک کربلاکےچراغ سے روشنی حاصل کرنے پر آمادہ رکھا، اور یہی وہ راز ہے جو آج بھی انسانیت کے افق پر ایک مینارۂ نور کی طرح درخشاں ہے۔