واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک )امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں تکنیکی بات چیت مکمل‘ پابندیوں کے خاتمے‘ جوہری امور‘ تعمیر نو اور اقتصادی ترقی اور نگرانی و عملدرآمد کیلئے چار ورکنگ گروپس تشکیل دینے پر اتفاق کرلیا گیا جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اعلیٰ سطح کی جوہری نگرانی پر اتفاق کر لیا ہے۔
تنصیبات کا انسپکشن 100فیصد یقینی ہے‘ تہران کا یہ کہنا غلط ہے کہ انسپکٹرز کے کسی دورے کا شیڈول طے نہیں ہے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے علی بحرینی کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں انتہائی اچھی پیشرفت ہوئی ہے‘ اثاثوں کے استعمال کا فیصلہ تہران خود کریگا‘ ایٹمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو معائنے کی اجازت دینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ آئی اے ای اے کو جنگ میں تباہ /متاثر ہونے والی جوہری تنصیبات تک رسائی کی اجازت نہیں ہوگی‘ تہران نے جوہری معائنہ کاروں کے بارے میں کوئی نئے وعدے نہیں کیے۔
ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے کہا ہے کہ موجود معاہدے کے تحت تہران واشنگٹن سے خوراک خرید سکتا ہے لیکن وہ اس کا پابند نہیں۔
ادھر عمان اور ایران نے منگل کے روز ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا ہے کہ دونوں ممالک آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام اور فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض وصول کی جانے والی فیس کا جائزہ لیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ابو ظہبی پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہرمز بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے‘ کسی کو بھی بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر ٹول یا فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
یہ ناقابل قبول ہے‘ایران کے ساتھ معاہدے میں لبنان شامل نہیں‘ یہ بالکل الگ معاملہ ہے‘ ہم براہ راست لبنانی حکومت کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
حزب اللّٰہ کے سربراہ نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ ایک انچ بھی اپنے پاس رکھے بغیر تمام لبنانی سرزمین سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ جائے۔ انخلاء ایک ٹائم ٹیبل کے مطابق ہونا چاہیے۔
لبنان کے صدر جوزف عون نے امریکا میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے پانچویں دور کے آغاز پر کہا ہے کہ لبنان ملک کے جنوبی علاقوں سے اسرائیلی قبضے کے خاتمے سے کم کسی چیز کو قبول نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر پزشکیان نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار متفقہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور ان کے درست نفاذ پر منحصر ہو گا۔