مانچسٹر: برطانیہ میں پناہ کے ایسے متلاشی جنہیں ملک میں کام کرنیکا حق حاصل ہے انہیں مستقل طور پر آباد ہونے کا اہل ہونے کیلئے فلیٹ ریٹ فیس ادا کرنا ہوگی۔ پناہ کے نئے بل کے تحت تقریباً 10ہزار پاؤنڈز تک انہیں حکومت کو ادا کرنا پڑینگے۔
برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے والے لوگوں کو حکومتی منصوبوں کے تحت ایک بار جب وہ کمانا شروع کر دیتے ہیں تو انہیں اپنی رہائش اور مدد کی لاگت کے لیے تقریباً 10ہزار پاؤنڈ ادا کرنا پڑیں گے۔
نئے اقدامات امیگریشن اور اسائلم بل کا حصہ ہیں، جن لوگوں کے پناہ کے دعوے مسترد کیے جا چکے ہیں یا وہ ملک کو چھوڑ چکے ہیں، انہیں برطانیہ میں واپس آنے کیلئے اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔
سیکریٹری داخلہ شبانہ محمود نے کہا ہے کہ تبدیلیاں دعویداروں کو باور کروائیں گی پناہ کی درخواست جہاں انکا حق ہے وہیں یہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ کام کرنے والے اور ایک مخصوص رقم کمانے والے تارکین وطن کو فلیٹ ریٹ کی مقرر کردہ رقم واپس کرنا ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق سیکریٹری داخلہ کے پاس مستقبل میں چارج اور ادائیگی کی حد کو ایڈجسٹ کرنے کا اختیار ہوگا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ دونوں ٹیکس دہندگان کے لیے منصفانہ ہیں اور کسی بھی پناہ گزین کو مجبور نہیں کریں گے۔
یونیورسٹی آف آکسفورڈ کی مائیگریشن آبزرویٹری کی ڈائریکٹر ڈاکٹر میڈیلین سمپشن نے کہا کہ یہ اقدامات امیگریشن کے نظام کو زیادہ پابندی والی سمت میں لے جائیں گے۔