دنیا ان دنوں غیر معمولی حالات سے دو چار ہے۔ ضرورت غیر معمولی تدبر کی ہے ۔مگر ایک دو حکمرانوں کو چھوڑ کر زیادہ تر اپنے اپنے ملکوں پر بیساکھیوں کے سہارے حکمرانی کر رہے ہیں۔ پاکستان کے متوسط خاندانوں میں یہ تدبر بھی ہے اور بصیرت بھی اس سرزمین میں قدرتی معدنی اور افرادی وسائل ہیں، بحرانوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ایکس ، فیس بک، انسٹاگرام نے حکمت عملی کی گردن دبوچ لی ہے۔ ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھ رہی ہے۔ جب دنیا کی سب سے طاقتور فوجی سیاسی اقتصادی مملکت کا منتخب سربراہ کسی آئین، کانگرس، سینٹ،کابینہ کو خاطر میں نہیں لائے گا۔ اسے جیتے جاگتے انسانوں رونقوں بھری بستیوں کی تباہی سے کوئی تشویش نہیں ہوگی۔پھر چھوٹی چھوٹی ایشیائی افریقی ریاستوں کے غیر منتخب یا مسلط کردہ حاکموں کو اپنی رعایا کی غربت بھوک اور بقا کی فکر کیوں ہونے لگی۔ ڈکشنری اب کوئی نہیں دیکھتا تاریخ کی کوئی نہیں سنتا۔ روسو ،ٹائن بی ،ابن خلدون سے اپنے آپ کو کوئی کم نہیں سمجھتا ۔اسلئے تاریخ کے جھروکوں میں جھانکنے کی ضرورت کیوں محسوس کرینگے۔ اس پورے ادبار اور زوال کے کھنڈرات میں کھڑے ہونے کے باوجود آج صبح سے نہ جانے میں پر امیدی سے کیوں سرشار ہوں۔ ہوا مجھے کیوں اچھے دنوں کی نوید دے رہی ہے۔ صبح دم جھومتے پیڑ ،کھلتے پھول، مسجد کے مینار بشارت کیوں دے رہے ہیں۔ درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا !کیا واقعی درد حد سے گزر رہا ہے۔ ایسا ہے تو پھر دوا بھی ہو جائیگا۔ ہوا یہ ہے کہ میں اپنے قابل فخر سیاحتی وی لاگرز کی آنکھوں سےآزاد جموں کشمیر گلگت ،بلتستان، خیبر پختونخوا میں ضم شدہ قبائلی اضلاع سندھ کے ریگزار اور ڈیم ،بلوچستان میں صدیوں کے تراشے ہوئے خاکی پہاڑ دیکھ رہا ہوں۔ اپنے عظیم وطن پاکستان کے وسائل میرے سامنے خزانوں کے در کھول رہے ہیں۔ پنجاب کے جنگلات میں گھوم رہا ہوں۔ سینکڑوں سال پرانے قلعوں کی عظمت بحال ہوتے دیکھ رہا ہوں ۔ایک ایک ویڈیو شواہد کیساتھ ناظر کو قائل کرتی ہے، ذرا نم ہو تویہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔ مگر 79 سالہ شکی ذہن کہتا ہے کہ یہ سب کچھ تو 1947 ء سے موجود تھا اسے بروئے کار کیوں نہیں لایا گیا۔ یہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں اتنا مایوس کر دیا ہے کہ ہم بہتری کی امید ہی چھوڑ چکے ہیں ۔موجود ہ پاکستان اگرچہ قائد اعظم کا پاکستان نہیں ہے۔ مشرقی پاکستان ہمارے ساتھ نہیں رہا غیر ملکی ماہرین معیشت۔ مورخ اس خطے پر پاکستان بننے سے پہلے سے نظر رکھے ہوئے تھے ۔یہاں کے معدنی خزانوں سے واقف تھے خاص طور پر آسٹریلیا کے کان کنی کے ماہرین ،چلی کے کانکن،کینیڈا کے سونے کے متلاشی۔ اُنہوں نے 1972ءمیں ببانگ دہل کہا تھا کہ سندھو ندی کے دونوں طرف آباد یہ وادی جسے 1947ءمیں پاکستان کا نام دیا گیا۔ ایک قابل اعتبار اقتصادی وحدت ہے۔ جس میں ترقی اور کامیابی کے یقینی امکانات ہیں۔ مگر ہم سول اور ملٹری کے تصادم میں الجھ کر رہ گئے۔ آگے بڑھنے کی رفتار رک گئی۔ پاکستان میں معدنی وسائل بھی ہیں قدرتی وسائل بھی۔اور سب سے بڑھکر افرادی وسائل بھی۔ یہ سرزمین صدیوں سے خوشحالی کا مثالی علاقہ رہی ہے ۔یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ اس میں سمندر، ساحلی علاقے، بنجر پہاڑ سرسبز کوہسار،برف پوش چوٹیاں، وادیاں، میدان ،کھیت کھلیان ، ریگزار، دریا ،ندیاں، چشمے، بیلے سب یکجا ہو گئے۔ بلھے شاہ، سلطان باہو، شاہ حسین، وارث شاہ، رحمان بابا، خوشحال خٹک، مست توکلی، میاں محمد بخش ،شاہ لطیف ،سچل سرمست پھر بیسویں صدی کی نامور ہستیوں کو پڑھ لیں ۔بلوچوں، براہویوں، پشتونوں، سرائیکیوں پنجابیوں، پوٹھوہاریوں، سندھیوں، کشمیریوں، بلتیوں کی خصوصیات عادات جفا کشی کے بارے میں جان لیں کہ وہ اپنی زمین سے کتنا پیار کرتے تھے کس کس قسم کے اناج اُگاتے تھے انگریز اس سرزمین پر حکمرانی کرنے کیوں آیا۔ یہاں اس نے اتنا انفراسٹرکچر کیوں بنایا اور پھر سرزمین سے وہ کیا کچھ نکال کر لندن نہیں لے گیا ۔اب آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، فرانس،سپین ہمارے تعلیم یافتہ انجینئر وں ڈاکٹروں پروفیسروں اور ان پڑھ محنت کشوںکیلئے اپنے دروازے کیوں کھولتے ہیں ۔انٹرنیٹ بھی میری امیدیں بڑھا رہا ہے۔سنیے پاکستان میں تانبا، سونا، لیتھیم، کرومائیٹ اور بہت سی قیمتی دھاتیں اور پتھر ہیں جن کی ممکنہ مالیت چھ سے آٹھ ٹرلین ڈالر ہے۔ زراعت میں 125بلین ڈالر کے سالانہ امکانات ہیں۔ پھلوں کی برآمد 15 بلین ڈالر ہو سکتی ہے۔ مال مویشی پر توجہ دی جائے تو 20 بلین ڈالرسالانہ مل سکتے ہیں اور پاکستان میں زبردست تاریخی تفریحی مذہبی سیاحت سےسالانہ30 سے 40 بلین ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی میں 10 بلین سے 18 بلین ڈالر سالانہ ہمارے منتظر ہیں۔ ہماری صنعتی برآمدات 60 سے 88 بلین ڈالر دے سکتی ہیں۔ مگر ہم آئی ایم ایف کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ جو ہمیں رلارلاکر قرضہ دیتا ہے۔وہ بھی صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے کام آتا ہے۔ہمارے نوجوانوں میں ذہانت ہے، بصیرت ہے، جدید ٹیکنالوجی کا منظر نامہ دیکھ لیں کہ کس طرح پڑھے لکھے بھی اور ان پڑھ بھی اس ٹیکنالوجی پر عبورحاصل کر گئے ہیں۔ مسئلہ کیا ہے کہ 1985ء کے بعد سے ریاست اور حکمرانوں کو اپنے ہم وطنوں کی فکر نہیں رہی ہے کیونکہ یہ عوام میں سے نہیں ہیں ۔ شاہی خاندان بنا دیے گئے ہیں۔ انہیں صرف اپنے شہزادوں شہزادیوں کی فکر ہے مگر اس کے باوجود ہماری مڈل کلاس، ہمارے غربت کی لکیر سے نیچے لوگ شاہی خاندانوں کی پیدا کردہ مشکلات کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ اپنے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ ہماری سرزمین اپنے فرزندوں کو روشن خیالی دیتی ہے۔ خیال کی وسعتیں عطا کرتی ہے۔ صوفیا کا کلام انکو حوصلہ دیتا ہے۔ کیسے کیسے سائنسدان، ریاضی کے ماہرین، انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایکسپرٹ مڈل کلاس سے ہی پیدا ہو رہے ہیں۔ بڑے شاعر ناول نگار نقاد بھی متوسط طبقوں سے ہی سامنے آرہے ہیں۔ قدرت نے شاہی خاندانوں سے تدبر، بلند خیالی، تخلیقی صلاحیت چھین لی ہے۔ ان غیرمعمولی علاقائی عالمی اور مقامی حالات میں جو غیر معمولی تدبر بصیرت اور معاملہ فہمی درکار ہے وہ ان شہزادوں شہزادیوں کے پاس نہیں ہے۔ اسلئے معاملات الجھے رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا جگا رہا ہے،جھنجھوڑ رہا ہے، انٹرنیٹ دنیا کے بہترین دماغ دکھاتا ہے۔ کامیاب ریاستوں کے مناظر ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اسلئے ہمارے وی لاگرز امکان کے دروازے کھول رہے ہیں۔ جان جوکھوں میں ڈالکر پاکستان کے عجائبات دکھا رہے ہیں۔ دور دراز کے نوجوانوں، بزرگوں، ماؤں، بہنوں کے پرعزم چہرے دیکھ کر ان کا اعتماد اور اطمینان جان کراپنی آبشاروں، مرغزاروں ،کھیتوں وادیوں، اپنے مال مویشیوں ،اپنی بلندیوں پر ہمارافخر بھی بڑھ رہا ہے ۔یہ جان کر خوشی ہو رہی ہے کہ مائیں ایسی نسلیں جنم دے رہی ہیں جو حالات سے پنجہ ازما ہورہی ہیں۔ یہ علاقے احمد ندیم قاسمی کا شعر گنگناتے دکھائی دیتے ہیں...
حالات سے پنجہ آزما ہو
حالات کو سازگار کر لے