• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت اور پاکستان کی 117 ممتاز شخصیات کا شہباز شریف اور نریندر مودی کو کھلا خط

کراچی (رفیق مانگٹ) بھارت اور پاکستان کی 117 ممتاز شخصیات کا شہباز شریف اور نریندر مودی کو کھلا خط، دوطرفہ تعلقات معمول پر لانے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ۔

پاک بھارت کشیدگی لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کیلئے خطرہ، مواقع و خوشحالی متاثر، سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس کا مشترکہ خط میں امن و مکالمے کی فوری بحالی کی اپیل کی گئی ہے۔

فاروق عبداللہ، منوج جھا، اشرف جہانگیر قاضی، خورشید قصوری، پرویز ہودبھائی امن مہم میں پیش پیش، سفارتی تعلقات، ہائی کمشنرز تعیناتی اور ویزا سروسز اجرا پر زور، فضائی حدود اور کمرشل پروازوں کی بحالی سمیت اعتماد سازی اقدامات کی سفارش کی گئی۔ 

اطلاعات کے مطابق بھارت اور پاکستان کی 100 سے زائد ممتاز شخصیات نے مشترکہ طور پر بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان امن، مکالمہ اور معمول کے دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے ٹھوس اور مستقل اقدامات کریں۔ 

یہ اپیل سنٹر فار پیس اینڈ پروگریس کی جانب سے جاری کی گئی، جس پر مجموعی طور پر 117 افراد نے دستخط کیے، جن میں 61 بھارت اور 56 پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں۔ 

خط میں دونوں حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ طویل عرصے سے جاری کشیدگی کا خاتمہ کریں، کیونکہ اس کے باعث لاکھوں نوجوانوں کو مواقع، خوشحالی اور محفوظ مستقبل سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ 

بھارتی دستخط کنندگان میں نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ، حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق، پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی، آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ منوج جھا اور سابق ٹی ایم سی وزیر و موجودہ اے جے یو پی رہنما ہمایوں کبیر شامل ہیں۔ 

پاکستانی دستخط کنندگان میں سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق سفارتکار اشرف جہانگیر قاضی، رکن قومی اسمبلی اسفندیار بھنڈارا اور جوہری فزکس دان و مصنف پرویز ہودبھائی شامل ہیں۔ 

خط میں دونوں رہنماؤں پر زور دیا گیا کہ وہ اعتماد سازی کے اقدامات کو بحال کریں، جن میں مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی، نئی دہلی اور اسلام آباد میں ہائی کمشنرز کی دوبارہ تعیناتی، ویزا سروسز کی بحالی اور کمرشل پروازوں کے لیے فضائی حدود کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔ 

دستخط کنندگان نے اٹاری واہگہ زمینی سرحد کو تجارت اور آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولنے، سرینگر مظفرآباد بس سروس کی بحالی اور دیگر سرحد پار روابط کے منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ 

خط میں کہا گیا کہ بھارت اور پاکستان مل کر دنیا کی تقریباً پانچویں آبادی کا گھر ہیں، اور ہماری بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

اہم خبریں سے مزید