کسی بھی قوم کی اصل دولت اس کے سونے، تیل کے ذخائر یا قدرتی وسائل نہیں ہوتے بلکہ اسکے تعلیم یافتہ، صحت مند اور باصلاحیت انسان ہوتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنے شہریوں پر سرمایہ کاری کی، وہ غربت اور پسماندگی سے نکل کر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں جا کھڑے ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جاپان مکمل تباہی کا شکارہو چکا تھا۔ایٹمی حملوں سےشہر کھنڈر بن چکے تھے، صنعتیں مفلوج تھیں اور معیشت بکھر چکی تھی، مگر جاپانیوں نے ہمت نہ ہاری۔
انہوں نے تعلیم، سائنسی تحقیق، صنعتی معیار، وقت کی پابندی اور انسانی وسائل کی ترقی کو قومی پالیسی بنایا۔ صرف چند دہائیوں میں جاپان دنیا کی بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہوگیا۔جنوبی کوریا کی کہانی بھی اسی عزم کی مثال ہے۔ 1950ء کی کورین جنگ کے بعد اسے دنیا کے غریب ترین ممالک میں شمار کیا جاتا تھا۔ فی کس آمدنی نہ ہونے کے برابر تھی، لیکن حکومت نے تعلیم، تکنیکی تربیت، برآمدات، صنعتی پیداوار اور خاندانی منصوبہ بندی کو قومی ترجیح بنایا۔ آج جنوبی کوریا سیمی کنڈکٹرز، الیکٹرانکس، آٹوموبائل، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔چین نے 1978ء کے بعد معاشی اصلاحات کا آغاز کیا۔
دیہی اصلاحات، صنعتی زونز، برآمدات، انفراسٹرکچر، تعلیم اور آبادی کے نظم و نسق پر توجہ دیکر اس نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا۔ اگرچہ اسکی ایک بچہ پالیسی بعد میں تبدیل کرنا پڑی، لیکن اس دور میں آبادی کی رفتار کو محدود رکھنے سے معیشت کو سنبھلنے کا موقع ملا۔ اسی طرح ملائیشیا نے صنعتی تنوع، تعلیم اور غیر ملکی سرمایہ کاری جبکہ ویتنام نے زرعی اصلاحات، برآمدات اور انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے اپنی معیشت کو نئی زندگی دی۔ تائیوان اور آئرلینڈ نے بھیاسی راہ پر چل کر چند دہائیوں میں ترقی حاصل کی۔یہ تمام مثالیں ایک ہی حقیقت بیان کرتی ہیں کہ ترقی کا راز صرف معاشی منصوبوں میں نہیں بلکہ انسانوں پر سرمایہ کاری میں پوشیدہ ہے۔
اگر آبادی کو تعلیم، صحت اور ہنر سے آراستہ نہ کیا جائے تو وہ قومی سرمایہ بننے کے بجائے وسائل پر دباؤ بن جاتی ہے۔پاکستان آج ایسے ہی ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ ملک کو مہنگائی، بیروزگاری، قرضوں کے بوجھ، سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی، توانائی کے بحران، پانی کی قلت، صحت اور تعلیم جیسے بے شمار مسائل کا سامنا ہے، لیکن ان تمام مشکلات کے پس منظر میں ایک ہی بنیادی مسئلہ ہے ، اور وہ ہے آبادی میں مسلسل اور تیز رفتار اضافہ۔جب آبادی وسائل اور معیشت سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے تو ترقی کے ثمرات تقسیم ہونے کے بجائے سکڑنے لگتے ہیں۔ پاکستان میں روزانہ تقریباً انیس ہزار بچے پیدا ہوتے ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ایک اہم قومی سوال ہے کہ کیا ہم ان لاکھوں بچوں کو معیاری تعلیم، صاف پانی، مناسب خوراک، حفاظتی ٹیکے، صحت کی سہولیات اور مستقبل میںباعزت روزگار فراہم کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں؟2023ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی چوبیس کروڑ پندرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی جبکہ حالیہ تخمینوں کے مطابق یہ پچیس کروڑ سے بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن نوجوان صرف اسی وقت قومی طاقت بنتے ہیں جب انہیں تعلیم، ہنر اور روزگار میسر ہو۔
بصورت دیگر یہی قوت مایوسی، بیروزگاری اور سماجی مسائل میں اضافہ کر سکتی ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں انسانی وسائل کی ترقی کا سفر ابھی بہت پیچھے ہے۔ تقریباً دو کروڑ اکاون لاکھ بچے آج بھی اسکول سے باہر ہیں، چھیاسی لاکھ سے زائد بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ لاکھوں بچے غذائی قلت اور جسمانی و ذہنی نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔ ماہرین کے مطابق زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دن بچے کی مستقبل کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی بنیاد رکھتے ہیں، لیکن اگر اسی مرحلے پر مناسب غذا اور صحت کی سہولتیں نہ ملیں تو نقصان پوری زندگی ساتھ رہتا ہے۔اقتصادی ترقی بھی اسی حقیقت سے جڑی ہے۔ اگر قومی معیشت تین یا چار فیصد کی رفتار سے آگے بڑھے لیکن آبادی بھی اسی رفتار سے بڑھتی رہے تو فی کس آمدنی میں نمایاں اضافہ نہیں ہو پاتا۔ دوسری طرف دیہی علاقوں میں زرعی زمین مسلسل تقسیم ہو رہی ہے، پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اور روزگار کی تلاش میں نوجوان شہروں کا رخ کر رہے ہیں، جہاں پہلے ہی رہائش، ٹرانسپورٹ، صحت اور تعلیم کی سہولتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔آج پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج صرف آبادی کا بڑھنا نہیں بلکہ اس آبادی کو معیاری انسانی سرمایہ نہ بنانا ہے۔ اگر حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، مذہبی قیادت، ذرائع ابلاغ اور سول سوسائٹی مل کر خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی، لڑکیوں کی تعلیم، ماں اور بچے کی صحت، اسکول سے باہر بچوں کی تعلیم میں واپسی، چائلڈ لیبر کے خاتمے، غذائی قلت کے تدارک اور ہنرمند نوجوانوں کی تیاری کو قومی ترجیح بنا لیں تو یہی آبادی پاکستان کی سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وسائل کی کمی سے نہیں بلکہ وژن کی کمی سے پیچھے رہتی ہیں۔ جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور، چین، ملائیشیا، ویتنام، تائیوان اور آئرلینڈ نے یہی ثابت کیا کہ منصوبہ بندی، تعلیم، نظم و ضبط اور انسانی سرمایہ کاری کے ذریعے ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی نوجوانوں کی صورت میں ایک عظیم سرمایہ موجود ہے۔
اگر آج درست فیصلے کیے گئے تو یہی نوجوان کل ملک کی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے، لیکن اگر غفلت جاری رہی تو بڑھتی آبادی اور سکڑتے وسائل آنے والی نسلوں کیلئے ایک مزید مشکل پاکستان چھوڑ جائیں گے۔ کل کا پاکستان آج کے فیصلوں سے تشکیل پائے گا، اور یہی فیصلہ ہماری آنے والی نسلوں کی تقدیر کا تعین کرے گا۔