• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: ڈاکٹر مختار احمد ظفر

صفحات: 400، قیمت: 2000روپے

ناشر: ظفر بُکس اینڈ پبلی کیشنز(ملتان)

فون نمبر: 6100784 - 0333

جن صاحبانِ علم و دانش نے ملتان کی ادبی فضا متحرّک رکھی ہوئی ہے، اُن میں ایک نمایاں نام ڈاکٹر مختار احمد ظفر کا بھی ہے۔ اُن کی زندگی کے کئی حوالے ہیں اور ہر حوالہ معتبر ہے۔ ماہرِ تعلیم، نقّاد، محقّق، مصنّف اور مترجّم۔ اُن کی مطبوعہ کتابیں ملاحظہ فرمائیں۔ ’’نگارش کدہ‘‘،’’ شاعرانِ خوشنوا‘‘،’’ شعر و ادب کی محفلیں: ملتان کی‘‘،’’ ملتان کی اردو شعری روایت‘‘،’’ ملتان: ادب اور تصوّف‘‘،’’ابوالکلام آزاد… متاعِ گم گشتہ‘‘،’’آفاقی و سرمدی سرائیکی شاعر…خواجہ غلام فرید۔‘‘ 

ہمارے پیشِ نظر اُن کی نویں کتاب ہے، جو اُن کی خودنوشت ہے، جسے ابواب میں تقسیم نہیں کیا گیا، جو ذہن میں آیا، لکھتے چلے گئے۔ علم و ادب، سیاست، معیشت، گویا جن جن پہلوؤں نے اُنہیں متاثر کیا، وہ سب اِس خودنوشت میں موجود ہیں، بظاہر یہ ایک آپ بیتی ہے، لیکن ڈاکٹر مختار احمد ظفر نے اپنے اسلوب کی تازہ کاری سے اسے جگ بیتی بنادیا۔ یہ خودنوشت، تصنّع اور ملاوٹ سے پاک ہے۔

عموماً اِس نوعیت کی کتابوں کی ضخامت بڑھانے کے لیے غیر ضروری باتیں بھی شامل کرلی جاتی ہیں، لیکن اِس خُود نوشت نے اختصار کی حد پار نہیں کی کہ’’دریا کو کوزے میں بند کرنا‘‘ اِسی کو کہتے ہیں۔مصنّف نے اپنی زندگی کے تمام اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا، کوئی گوشہ تشنہ نظر نہیں آتا۔ اُنہوں نے خُود لکھا ہے کہ’’ مَیں ایک غیّور کسان اور غیرت مند انسان کے گھر پیدا ہوا۔‘‘ گویا، یہ ایک محنت کش انسان کی داستانِ حیات ہے، جسے پڑھ کر بہت کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید