• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

الیکٹرانک وارفیئر ... تیرکمان سے ڈرونز تک

دھاتوں کی دریافت سے قبل کا دَور’’سنگی یا پتھر کا دَور‘‘ کہلاتا ہے۔ اس طویل دَور میں انسان نے اپنی ضروریات کے اوزار پتھرسے بنانا شروع کیے۔ تحقیق کے مطابق، انسان نے پتھر کے اوزاروں کا استعمال لاکھوں برس قبل مشرقی افریقا کے ملک ایتھوپیا سے شروع کیا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ دنیا کےدیگر خطّوں میں پھیلتا چلا گیا۔

زمانۂ قدیم کا انسان جب غاروں سے نکلا تواسےخوراک کی تلاش کے لیے اوزاروں کی ضرورت محسوس ہوئی، پھر جب اس نے شکم پروری کے لیے شکارشروع کیا اور زراعت کی طرف آیا، توخوراک کی تلاش کے لیے پتھروں، ہڈیوں کو تراش کر مختلف اوزار بنانا اس کی بقا اورترقی کی جانب سب سے بڑا قدم تھا۔ یہ اوزار ابتدائی انسانی نسل ہومو ہبلیس (Homo habilis) یا ان کے قریبی آباؤ اجداد نے بنائے تھے۔ اس ایجاد نے ارتقا اور خوراک کی فراہمی میں ایک بڑا انقلاب برپا کیا۔ 2500 قبل مسیح کے آس پاس مصریوں نے پہلی مرتبہ شکار کے لیے تیرکمان کا استعمال شروع کیا۔

تاریخ سے یہ بھی چلتا ہے کہ326 قبل مسیح میں سکندرِاعظم کی فوج نے ہندوستان پر چڑھائی کے دوران راجا پورس کی فوج اور ہاتھیوں پر کس طرح تیروں اور نیزوں کی بارش کی تھی۔ حالاں کہ اس سےپہلے کی جنگوں میں دُوبدو لڑنے کا دستور تھا، لیکن تیرکمان اور نیزے کی ایجاد نے فاصلے سے دشمن پر حملہ آور ہونے کو رواج دیا تو سولہویں صدی تک نیزے اور تیرکمان سب سے بڑے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے لگے۔

دورِجدید میں جنگوں کاطریقۂ کاربدلا، توروایتی جنگوں کی کمان ’’الیکٹرانک وار‘‘نےسنبھال لی۔ اس تبدیلی کی بنیاد، دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ اورامریکا، پائلٹ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اُڑنے والی جدید مشین (ان مینڈائروہیکلز۔ یو اے ویز) کےطور پررکھ چُکےتھے، جسے بعد میں ’’ڈرونز‘‘ کا نام دیا گیا، جب کہ اس سے قبل عسکری سپہ سالار سوچتے کہ کبھی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ پہاڑوں کےاُس پاریا سرحدوں کے دوسری جانب کی صورتِ حال ایک کمرے میں بیٹھ کر دیکھی جاسکے؟

سپہ سالاروں کی یہ خواہش ڈرونزنے ایک حد تک پوری کردی، لیکن بہت حد تک تشنگی باقی رہ گئی۔ چناں چہ 1995ء میں امریکا نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں یو اے ویز میں ویڈیو کیمرے کا اضافہ کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی، جس سےایک طرف سرحد پار دشمن کی سرگرمیوں کے ثبوت ملنا شروع ہوگئے، تو دوسری جانب ہدف پرحملے میں آسانی ہوگئی۔ لیکن بڑی طاقتوں کےسرخیل اس سے بھی مطمئن نہ ہوئے۔ جھنجھلاہٹ یہ تھی کہ کیا ان خالی ڈرونز کو میزائلز سے لیس نہیں کیا جاسکتا؟ سو، امریکا نے زرخیز ذہنوں کو یہ ٹاسک سونپا۔

دراصل اس خفّت کے پسِ پردہ محرّک یہ بھی تھا کہ امریکا کے افغان، عراق جنگ میں انٹیلی جینس بنیاد پر ہونے والے ڈرون حملوں پہ دنیا بھر میں تنقید ہو رہی تھی۔ ان حملوں میں اصل ہدف کےعلاوہ بڑی تعداد میں عام شہری بھی مارے جارہے ہیں۔ بالآخر امریکا کی کوششیں رنگ لائیں اور2001ء میں وہ پہلی مرتبہ میزائلز سے لیس ’’پریڈیٹر‘‘ نامی ڈرون بنانے میں کام یاب ہوگیا۔

پریڈیٹر، سابقہ ڈرونز سے یوں مختلف تھا کہ پہلے ڈرونز میں ہدف کو صرف اُس کا چلانے والا دیکھ سکتا تھا،جس کی وجہ سے بسا اوقات غیریقینی صورتِ حال کا سامنا بھی کرنا پڑ جاتا تھا، لیکن پریڈیٹر میں ڈرون کے کیمروں، سینسرز کو عالمی مواصلاتی نظام سے منسلک کیا گیا، جس کے باعث پوری دنیا میں کہیں اور کسی بھی وقت تمام مناظر نہ صرف براہِ راست دیکھے جا سکتے ہیں، بلکہ اسے چلانے والا اپنے ہدف کو کہیں بھی بہ آسانی نشانہ بناسکتاہے۔

جدید ڈرونز کی ایجاد نے عالمی طور پر جنگوں کا نقشہ ہی بدل کے رکھ دیا ہے اور یہی دَورِجدید کی الیکٹرانک جنگ ہے، جسے’’الیکٹرانک وارفیئر‘‘ کا تیکنیکی نام دیا گیا ہے۔ بنیادی طورپران ڈرونزکا کام حریف کی سرگرمیوں پرنظر رکھنا، جاسوسی کرنا، دشمن کے ہدف کو نشانہ بنانا، دشمن فوج کی نقل وحمل پر نظر رکھنا اور اس کےاسلحے کے مراکز تباہ کرنا ہے۔

امریکی پریڈیٹر ڈرون اس وقت دنیا کےمنہگے،جدید ترین ڈرون مانے جاتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایک امریکی پریڈیٹر (MQ-9 Reaper) ڈرون کی قیمت تقریباً 3 کروڑ سے 3.2 کروڑ امریکی ڈالر ہے۔ موجودہ زرِمبادلہ کے لحاظ سے یہ رقم پاکستانی روپے میں تقریباً 8ارب 30 کروڑ سے 8 ارب 80 کروڑ روپے کے درمیان بنتی ہے۔ ان ڈرونز کا استعمال اس وقت تک صومالیہ، شام، عراق اور افغانستان میں ہوچُکا ہے۔

یہ ڈرون تباہی اور نشانہ بازی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ ابھی امریکی ڈرون پریڈیٹرکےچرچے ختم نہیں ہوئے تھے کہ گزشتہ دہائی کے وسط میں اس نے ’’ریپر‘‘ نامی ایک اورخطرناک ترین ڈرون ایجاد کرڈالا۔ یہ پریڈئیٹر کی نسبت زیادہ دُور تک زیادہ اسلحے کے ساتھ اور زیادہ لمبے عرصے تک پرواز کرسکتا ہے۔ 

اس سے متعلق امریکی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ ’’ریپر، دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود دشمن کو، جہاں پہنچنےکا سوچا بھی نہ جا سکتا ہو،کسی بھی وقت بہ آسانی نشانہ بناسکتاہے۔‘‘ جنوری 2020ء میں ایرانی جنرل، قاسم سلیمانی کو بغداد ائیرپورٹ کے باہر اِسی ڈرون کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔

ٹیکنالوجی کی تیزرفتار ترقی نےانسانی زندگی کے ہر شعبےمیں انقلاب برپا کردیا ہے،جس کے اثرات روزمرّہ زندگی، کام کرنے کےطریقوں اور معاشرتی رویّوں میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ایک طرف یہ ترقی معاشرتی، اقتصادی اور تعلیمی میدانوں میں انقلاب لا رہی ہے، دوسری طرف جدید سائنسی اور تیکنیکی پیش رفت کے سبب ماضی کی روایتی جنگوں کی جگہ الیکٹرانک وارلیتی جارہی ہے۔ ماضی کے جنگی میدانوں میں براہِ راست انسانوں کا عمل دخل تھا، تاہم اب یہ سارا کنٹرول انسان نے خُود مشینوں کےسپرد کردیا ہے۔ گویا اب دَورِجدید کی جنگیں ’’الیکٹرانک وارفیئر‘‘ کی شکل اختیارکرچکی ہیں۔

ماضی قریب میں طیاروں کے ذریعے جنگیں لڑی جاتی تھیں، اب ان طیاروں کا استعمال بہت محدود رہ گیا ہے، ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے ڈرونز نےلے لی ہیں، جومحض ایک ’’کِلک‘‘ پر کنٹرول روم سے نکل کر ہدف کو نشانہ بنا آتے ہیں۔ اب فتح اس کا انتظار کرتی ہے، جس کے پاس جدید ٹیکنالوجی میں برتری ہو۔ زیادہ دُورجانے کی ضرورت نہیں، حالیہ پاک، بھارت جنگ بھی ڈرونز کے بل بُوتے پرلڑی گئی، جس میں پاکستان نے برادرممالک کی جدید ٹیکنالوجی کی سہولت سے استفادہ کرتے ہوئے دشمن کا نظام مفلوج کرکےگھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

ملٹری ٹیکنالوجی....پاکستان کہاں کھڑا ہے؟: الحمدللہ، پاکستان آرڈیننس فیکٹریز (POF)نےجدید ’’ابابیل‘‘(Ababeel)سیریز کے ڈرونز کام یابی سے تیار کیے ہیں،جو نہ صرف دن اور رات میں نگرانی (Surveillance) کی صلاحیت رکھتے ہیں، بلکہ دشمن کے ٹھکانوں پرمارٹرگولے گرانے اور ہنگامی حالات میں ریسکیو کے کام بھی آسکتےہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتیں بڑھاتے ہوئے مقامی سطح پر جدید ترین بغیر پائلٹ کے فضائی گاڑیاں (UAVs) تیار کی ہیں، جن میں ’’برّاق‘‘ اور’’شہپر‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔

یہ پاکستان کا مقامی طورپرتیار کردہ پہلا مسلح ڈرون (UCAV) ہے، جسے نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنسی کمیشن (NESCOM) اور پاکستان ایئرفورس (PAF) نےمشترکہ طور پر تیار کیا۔ یہ ڈرون دن اور رات میں نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ برق (Barq) نامی لیزر گائیڈڈ میزائل کے ذریعے ہدف کو کام یابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جب کہ شہپر، گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفینس سلوشنز (GIDS) کے زیرِانتظام تیار کیا گیا۔ اس کا جدید ترین ماڈل شہپر3- ہے،جوکہ 30گھنٹے تک فضا میں رہنےکی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ طویل فاصلےتک نگرانی (ISR)اورجدید ترین ہتھیاروں کی مددسےجنگی کارروائیوں میں انتہائی کارگر ہے۔ پاکستان کی جانب سے مقامی سطح پران ڈرونز کی تیاری دفاعی خود انحصاری کی جانب ایک بہت بڑا قدم ہے۔ اس حوالے سے غیرجانب دار عالمی مبصرین کا کہنا ہے، پاکستان دنیا میں چوتھی بڑی ڈرون طاقت مانی جاتی ہے۔ اس فہرست میں جدید ڈرونز، جدید فضائی انفرا اسٹرکچر، فوج اور بحری کارکردگی کوبھی شامل کیا گیا ہے۔ اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدید ڈرونز انفراسٹرکچر کے باعث پاکستان کو اسٹریٹیجک اور ٹیکنیکل برتری حاصل ہے۔

ڈرون کی تاریخ ..... : ڈرونز کی تاریخ بہت زیادہ پرانی نہیں۔ دنیا کا سب سے پہلا ڈرون (بغیر پائلٹ کا ہوائی جہاز)1916ء میں برطانوی موجد آرچیبالڈ لو (Archibald Low) نے پہلی جنگِ عظیم کے دوران ’’ایریل ٹارگٹ‘‘ (Aerial Target) نامی طیارہ تیار کیا، جو ریڈیو کے ذریعے کنٹرول ہوتا تھا اور اس کا مقصد طیارہ شکن توپچیوں کی مشق کے لیے ہدف فراہم کرنا تھا۔

بعدازاں، 1930ء کی دہائی میں برطانوی بحریہ نے’’کوئین بی‘‘ (Queen Bee) نامی ریڈیو کنٹرولڈ طیارہ بنایا، جسے باقاعدہ طور پر پہلا جدید ڈرون تسلیم کیا گیا۔ امریکا نے بھی ڈرون ٹیکنالوجی پرکام شروع کر رکھا تھا، جس کی تکمیل اکتوبر 1918 ء میں ہوئی۔

اس خودکار اور ریمورٹ کنٹرول ڈرون کو ’’کیٹرنگ بگ‘‘ کا نام دیا گیا۔اگرچہ یہ دونوں ابتدائی ڈرونز پہلی جنگِ عظیم کے دوران بنائے گئے، لیکن انہیں اس جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ برطانیہ اورامریکا نےہدف تک رسائی حاصل کرنے والے ڈرونزکے لیے تجربات جاری رکھےاور 1935ء میں برطانیہ کی جانب سے تیار کردہ اس طیارے کو’’ڈی ایچ 82 بی کوئین بی‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس میں نصب ریڈیو کنٹرول سسٹم اتنا جدید تھا کہ زمین سے بھیجے گئے سگنلز کی مدد سے پرواز کرنے، مُڑنے اور لینڈنگ کی مکمل صلاحیت رکھتا تھا۔اس کے فوری بعد امریکا نے بھی ہدف کو نشانہ بنانے والے پہلے ریڈیو کنٹرولڈ ڈرون کا کام یاب تجربہ کر ڈالا۔

بہرحال،’’تیرکمان سے ڈرون تک‘‘ کایہ سفرانسانی عقل، جنگی حکمت عملی اور ٹیکنالوجی کی صدیوں پرمحیط حیرت انگیز ارتقاء کی کہانی ہے، جس نے روایتی ہتھیاروں کی جگہ، دورِ حاضر کے جدید ترین بغیر پائلٹ ہوائی نظام کو دے دی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید