صوبۂ پنجاب کے ضلع، ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ، جہاں کی ہاتھ اور پاور لُومز سے تیار کردہ کھدّر اپنی پائےداری، اور نفاست کے سبب بےحد مقبول ہے۔ وہی کمالیہ، زرعی پیداوار اور وسیع پولٹری فارمنگ کے لیے بھی مُلکی و بین الاقوامی سطح پر اپنی منفرد پہچان کے ساتھ اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیمی اداروں کے حوالے سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ نیز، شہر میں جدید اور معیاری تعلیم کی فراہمی میں ٹیکنیکل اور ہائر ایجوکیشن کے شعبہ جات بھی کام یابی سے فعال ہیں۔
2022ء میں قائم ہونے والی یونی ورسٹی آف کمالیہ نوجوانوں کو جدید ڈگری پروگرامز، انڈسٹری سے منسلک تعلیم اور پیشہ ورانہ مہارتیں فراہم کر رہی ہے،توگورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی طلبہ کو جدید ٹیکنالوجیز میں ڈپلوما آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ (DAE) سے بہرہ مند کررہا ہے، جب کہ کامرس کالج سےطلبہ کاروباری اور انتظامی تعلیم سے آراستہ ہو رہے ہیں۔
اسی طرح گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فارمین اور گورنمنٹ کالج فار ویمن پوسٹ گریجویٹ سطح تک تعلیم فراہم کرنے والے نمایاں ادارے ہیں۔ اس کے علاوہ خصوصی بچّوں کی تعلیم و تربیت اور اُنہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لیے الگ الگ ادارے بھی کام یابی سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
واضح رہے، پنجاب کی یہ واحد تحصیل ہے، جہاں 2005ء میں اسپیشل ایجوکیشن کے دوادارے قائم کیے گئے اور اُن اداروں کے قیام اور ترقی نے کمالیہ کے طلبہ کے لیے روزگار اور اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ان کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہےکہ قیامِ پاکستان سے قبل کے ٹیچر ٹریننگ کالج سمیت دیگرسرکاری تعلیمی ادارےاب بھی شہر کی پہچان ہیں۔
یہاں سے کےارکانِ قومی اسمبلی سمیت دیگر سیاسی شخصیات کی علم کے فروغ اور تعلیمی اداروں کی تعمیر کے ضمن میں خصوصی کاوشیں فراموش نہیں کی جاسکتیں۔1995ء میں ریاض فتیانہ، وزیرِ تعلیم کے منصب پر فائز ہوئے، تو حکومتِ پنجاب سےخصوصی بچّوں، خصوصاً قوتِ سماعت سے محروم بچّوں کی تعلیم و تربیت کے لیے پرائمری اسکول کا منصوبہ منظور کروایا، لیکن بدقسمتی سے مجوزّہ منصوبہ حکومت کی تبدیلی کے سبب التوا کا شکار ہوگیا۔
تاہم، بعدازاں ایک بار پھر منصوبے پر کام شروع ہوااور گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن اسکول برائے متاثرہ سماعت، کمالیہ کے قیام کے لیے بیرون ِکمالیہ، چاہ شاموں والا میں 56کنال کا رقبہ مختص کیا گیا۔ 1999ء میں اسکول کی عمارت کی تعمیر تو مکمل ہوگئی، مگر تدریسی سرگرمیوں کا آغازنہ ہوسکا۔
پھر 2003ء میں اسپیشل ایجوکیشن کو وزارتِ تعلیم سے الگ کرکے علیٰحدہ محکمہ بنا دیاگیا، جس کے بعد ستمبر 2004ء میں گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن اسکول برائے متاثرہ سماعت، کمالیہ کے لیے اسامیوں کی منظوری کے بعد فرنیچر اور دیگر ضروری سامان کی خریداری کے لیے فنڈزجاری کیے گئے اور اسپیشل ایجوکیشن اسکول، برائے متاثرہ سماعت، ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تعینات ہیڈ ماسٹر، حاجی محمد صدیق کو مذکورہ اسکول کا اضافی چارج تفویض کیا گیا، جب کہ گوجرہ سے تعلق رکھنے والےبشیراحمد ربّانی کو سربراہ مقررکیا گیا، اس طرح اپریل 2005ء سے قوتِ سماعت سے محروم بچّوں اور بچیوں کو مفت داخلہ دینے کے بعد تدریسی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
دریں اثناء، مل فتیانہ روڈ پر واقع گورنمنٹ ٹیکنیکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے عقب میں گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن سینٹر کی عمارت 2010ء میں مکمل ہوئی، جہاں ابتدا میں پرائمری تک تعلیم دی جاتی تھی۔ بعدازاں 2019ء میں اسے سیکنڈری اسکول کا درجہ دیاگیا اور گورنمنٹ اسپیشل ایجوکیشن اسکول کومڈل کا درجہ دے دیا گیا۔ اپریل 2005ء سے مارچ 2025ء تک کارکردگی کے لحاظ سےاس اسکول کا شمار پنجاب کے مثالی اسپیشل ایجوکیشن اداروں میں کیا جانے لگا۔
اسکول کے ایک حصّے میں پنجاب ووکیشنل ٹریننگ کائونسل میں عام بچّوں، بچیوں کے ساتھ خصوصی بچّوں، کومختلف ہنر کی تربیت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاکر باوقار روزگار حاصل کر سکیں۔ اسکول میں قوتِ سماعت سے محروم بچّوں کی تشخیص کے لیے جدید آڈیالوجیکل کلینک بھی قائم کیا ہے۔
واضح رہے، اس اسکول سے اب تک قوتِ سماعت سے محروم لاتعداد طلباء و طالبات تعلیم کے حصول کے بعد عملی میدان میں بھی کام یابیاں حاصل کر رہے ہیں۔ نیز، سماعت و گویائی سے محروم جوڑے شادی کے بعد بہترین خانگی زندگیاں بھی گزار رہے ہیں۔