• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ زرعی یونیورسٹی: شدید مالی و انتظامی بحران، زراعت کیلئے سُم قاتل

ڈاکٹر نظیر احمد ابڑو، ٹنڈو جام

صوبۂ سندھ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے اس وقت تاریخ کے بدترین مالی و انتظامی بُحران سے گزر رہے ہیں۔ جامعہ کراچی سے لے کر سندھ یونی ورسٹی تک، صوبے کی بڑی درس گاہیں پینشن اور تن خواہوں کی ادائی تک سے قاصر ہیں، جس کا سب سے ہول ناک اثر تعلیمی معیار پر مرتّب ہو رہا ہے۔ مستقل اور تجربہ کار پروفیسرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد نئی بھرتیاں منجمد ہیں اور جامعات عارضی اساتذہ کے سہارے چلائی جا رہی ہیں۔

مستقل فیکلٹی کی جگہ ایڈہاک یا وزیٹنگ اساتذہ کی خدمات حاصل کرنے سے یونی ورسٹی کے اخراجات تو کم ہو جاتے ہیں، لیکن تعلیم کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے، کیوں کہ معمولی معاوضے اور وقت کی کمی کے باعث عارضی اساتذہ طلبہ پر بھرپورتوجّہ اور جامعات میں ریسرچ کلچر کو فروغ نہیں دے پاتے۔

علاوہ ازیں، مستقل اساتذہ کی کمی سے عالمی پیمانے پر جامعات کی ڈگریوں کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ طُرفہ تماشا یہ ہے کہ ایک جانب جامعات میں مستقل اساتذہ کی شدید کمی ہے، تو دوسری طرف ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اسکالرشپس پر مقامی اورغیر مُلکی جامعات سے پی ایچ ڈی کرنے والے نوجوان بے روزگاری کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں، جب کہ ان اسکالرز کی خدمات سے استفادہ نہ کرنا قومی سرمائے کا زیاں ہے۔

یہ نوجوان اسکالرز جدید ترین سائنسی اور سماجی تحقیق سے لیس ہیں۔ حکومت کو فی الفور جامعات کے لیے ان کی مستقل بنیادوں پر خدمات حاصل کرنی چاہئیں، جس کے نتیجے میں درس و تدریس کےمعیار اورجامعات کی رینکنگ میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔ یاد رہے، سندھ کے تعلیمی نظام کو اس نہج پر پہنچانے کی ذمّےدار وفاقی و صوبائی حکومت کی ترجیحات ہیں اور تعلیم پر سرمایہ کاری کو اخراجات سمجھنا اُن کی سب سے بڑی بُھول ہے۔

اگر صوبے کی جامعات کو مالی بُحران سے نہ نکالا گیا اور پی ایچ ڈی اسکالرز کو مستقل روزگار دے کرکلاس رومز تک نہ پہنچایا گیا، تو ہماری آئندہ نسلیں معیاری تعلیم سے محروم رہ جائیں گی۔ لہٰذا، حکومت کو فوری طور پر جامعات کے لیے بیل آؤٹ پیکیج کا اعلان کرنا چاہیے اور فیکلٹی کی مستقل بھرتی پر عائد غیرعلانیہ پابندی ختم کرنی چاہیے۔

سندھ زرعی یونی ورسٹی، ٹنڈو جام (ایس اے یو) صوبے کی معیشت اور زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن بدقسمتی سے سندھ کی دیگر جامعات کی طرح یہ اہم ترین تحقیقی ادارہ بھی اس وقت شدید مالی و انتظامی بُحران کی زد میں ہے اور زرعی ماہرین پیدا کرنے والی یہ جامعہ اب اپنے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ ریگولر فیکلٹی کا خاتمہ، وزیٹنگ اساتذہ پر حد سے زیادہ انحصار اور جدید ریسرچ کے لیے فنڈز کی عدم دست یابی نے اس ادارے کا مستقبل داؤ پر لگا دیا ہے۔

واضح رہے، زرعی تعلیم دیگر نظریاتی علوم سے قدرے مختلف ہوتی ہے، کیوں کہ اس میں فیلڈ ورک، لیبارٹری ریسرچ اور تجرباتی کاشت کاری شامل ہوتی ہے، جب کہ جامعہ میں مستقل اساتذہ کی قلّت نے اس پورے عمل کو معطل کر کے رکھ دیا ہے۔

فنڈز کی کمی کے باعث جدید زرعی لیبارٹریز کے لیے کیمیکلز اور آلات خریدنا ناممکن ہو چُکا ہے، جس کے نتیجے میں عملی تعلیم کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے۔ یہاں یہ اَمر بھی قابلِ ذکر ہے کہ صوبۂ سندھ کو اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ان کٹھن حالات میں ایس اے یو کا کام نئے بیج تیار کرنا تھا، جو فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے رُک چُکا ہے۔

دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والے افراد کی اکثریت زراعت سے وابستہ ہے اور اس شعبے کو ترقّی دینے کے لیے ایس اے یو کو زرعی ماہرین اور سائنس دانوں کی اشد ضرورت ہے اور بے روزگار نوجوان پی ایچ ڈی اسکالرز مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

اگر ان اسکالرز کو مستقل بنیادوں پر جامعہ میں تعینات کیا جائے، تو وہ جدید ریسرچ کے ذریعے سندھ کے ہاریوں اور آباد گاروں کی فصلوں کی پیداوار دُگنی کر سکتے ہیں۔ یاد رہے، سندھ زرعی یونی ورسٹی، ٹنڈو جام کو محض ایک روایتی جامعہ سمجھ کر نظرانداز کرنا سندھ کی زراعت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔

حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر یونی ورسٹی کے لیے خصوصی زرعی ریسرچ گرانٹ کا اعلان کرے۔ نیز، یونی ورسٹی میں فیکلٹی کی تمام خالی اسامیوں پر فوری طور پر اہل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو مستقل بنیادوں پر بھرتی کرے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں خوراک کے بُحران سے محفوظ رہ سکیں۔

سندھ کی زرعی معیشت کو موسمیاتی تبدیلیوں، ٹڈی دَل کے حملوں اور نِت نئی وبائی بیماریوں کے باعث سالانہ اربوں روپے کا نقصان اُٹھانا پڑتا ہے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سندھ زرعی یونی ورسٹی، ٹنڈو جام کی ’’فیکلٹی آف پلانٹ پروٹیکشن‘‘ سب سے اہم دفاعی لائن ہے، مگر افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ یہ کلیدی فیکلٹی اس وقت شدید مالیاتی بُحران اور مستقل اساتذہ کی عدم دست یابی کے باعث خُود وینٹی لیٹر پر ہے۔

مذکورہ فیکلٹی میں پروفیسرز، ایسوسی ایٹ پروفیسرز اور اسسٹنٹ پروفیسرز کی درجنوں اسامیاں طویل عرصے سےخالی پڑی ہیں اور مستقل اساتذہ کی بجائے عارضی یا وزیٹنگ اساتذہ سے کام چلا کر سندھ کی زراعت کا مستقبل داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب مستقل اساتذہ کی کمی کے باعث ریسرچ جرنلز اور تھیسز کی نگرانی کرنے والا کوئی نہیں اورسندھ کی اہم فصلوں، کپاس، گندم، چاول اور آم پر نِت نئےامراض حملہ آور ہو رہے ہیں، لیکن جب متعلقہ فیکلٹی میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مستقل اساتذہ ہی موجود نہیں ہوں گے، تو ان بیماریوں کے تدارک کے لیے تحقیق کون کرے گا؟

نئے پی ایچ ڈی اسکالرزبائیوٹیکنالوجی، جدید بائیولوجیکل کنٹرول اور ماحول دوست کیڑے مارادویہ پر مہارت رکھتے ہیں اور ایس اے یو میں ان کی خدمات حاصل کر کے نہ صرف سندھ کے کسانوں کو ہر سال اربوں روپے کے خسارے سے بچایا جا سکتا ہے، بلکہ مقامی زرعی شعبے کو بھی خاصی ترقّی دی جا سکتی ہے۔ 

درحقیقت، یہی فیصلہ کُن اقدام کا وقت ہے۔ ایس اے او کی فیکلٹی آف پلانٹ پروٹیکشن میں خالی اسامیوں کو فوری طور پر پُر نہ کرنا سندھ کے زمیں داروں، کسانوں اور مجموعی زرعی معیشت کےساتھ دشمنی کےمترادف ہے۔ حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ وہ مذکورہ جامعہ کے فنڈز فوری طور پر بحال کرے اور اہل پی ایچ ڈی اسکالرز کو ان خالی اسامیوں پر مستقل بنیادوں پر تعینات کرے، تاکہ سندھ زرعی یونی ورسٹی، ٹنڈو جام ایک مرتبہ پھر سندھ کی زراعت کی حقیقی محافظ بن سکے۔

سنڈے میگزین سے مزید