• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مصنّف: صادق جعفری

صفحات: 288، قیمت: 1500 روپے

ناشر: ریسرچ اینڈ ڈسکوری، ایس ایچ جے پبلشرز، اویسیہ سوسائٹی، ٹاؤن شپ، لاہور۔

فون نمبر: 4605683 - 0318

چند ماہ قبل صادق جعفری کی انگریزی تصنیف’’ The Delayed Line: Partition of British India and the Perfect Crime‘‘منظرِ عام پر آئی تھی اور اب اُسی تحقیق کا اُردو رُوپ’’نامکمل انتقالِ اقتدار: 20 لاکھ قتل، ڈیڑھ کروڑ کی جبری نقل مکانی‘‘کے عنوان سے شایع ہوا ہے۔

مختصر عرصے میں ایک ہی کتاب کے انگریزی اور اُردو ایڈیشنز کی اشاعت اِس امر کا اظہار ہے کہ برّ ِعظیم کی آزادی اور قیامِ پاکستان سے متعلق سنجیدہ اور تحقیقی لٹریچر کے قارئین آج بھی موجود ہیں، حالاں کہ عمومی طور پر کتاب بینی میں مسلسل کمی کی شکایت کی جاتی ہے۔

ایک ہی تحقیق کا چند ماہ کے اندر دو زبانوں میں قارئین تک پہنچنا بلاشبہ ایک خوش گوار اور نسبتاً کم دیکھنے میں آنے والا واقعہ ہے۔برّ ِعظیم کی آزادی پر اب تک شایع ہونے والے بیش تر لٹریچر میں یا تو واقعات ترتیب وار بیان کیے جاتے ہیں یا قتل و غارت، جبری نقل مکانی اور انسانی المیوں کی تفصیلات پیش کی جاتی ہیں، لیکن سینئیر صحافی اور محقّق کے طور پر معروف، صادق جعفری نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا ہے۔

ایک تجربہ کار صحافی کی طرح اُنھوں نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ فیصلے کس نے کیے، جن کے نتیجے میں کروڑوں انسان متاثر ہوئے، کن افراد، رہنماؤں اور اداروں کی کوتاہی، غفلت یا خود غرضی اِس سانحے میں شامل تھی اور کون سے فیصلے اگر نہ کیے گئے ہوتے، تو اِتنی بڑی تباہی اور بربادی رُونما نہ ہوتی یا بہت کم حد تک وقوع پذیر ہوتی۔

اور اِن فیصلوں کے ذمّے داروں سے کبھی جواب طلبی کیوں نہ کی گئی۔ اِس مقصد کے لیے برٹش لائبریری، انڈیا آفس ریکارڈز، لائبریری آف کانگریس، پاکستان اور بھارت کے قومی آرکائیوز اور خاص طور پر پابندیاں ختم ہونے کے بعد دست یاب ہونے والی متعدد دستاویزات سے، جن میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی ڈائری بھی شامل ہے، استفادہ کیا گیا ہے۔ کتاب کا ایک دل چسپ پہلو یہ بھی ہے کہ اِس میں ایسے متعدّد واقعات اور قانونی و انتظامی سوالات کی نشان دہی کی گئی ہے، جنہیں اُس دَور کے اخبارات میں یا تو اہمیت نہیں دی گئی یا اُن کا مکمل پس منظر سامنے نہیں لایا گیا۔

مثال کے طور پر مصنّف اِس امر کی طرف توجّہ دِلاتے ہیں کہ آزادی14 اور15 اگست کی درمیانی شب حاصل ہوئی، لیکن دونوں ممالک کی سرحدوں کا اعلان 17 اگست کو کیا گیا، جب وائسرائے ہند کا منصب ختم ہوچُکا تھا۔ مصنّف کے مطابق، اِس غیر معمولی صُورتِ حال کے قانونی اور انتظامی مضرّات پر اُس وقت خاطر خواہ بحث نہیں ہوئی، حالاں کہ یہ سوال آج بھی تحقیق کا متقاضی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید