• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بابرسلیم خان، سلامت پورہ، لاہور

سائنس دانوں کا خیال ہے کہ آج سے تقریباً 10ارب سال قبل یہ وسیع وعریض کائنات ظہور پذیر ہوئی اور انسان نے کرّۂ ارض پر اب تک جو عرصہ گزارا ہے، اس کاننانوے فی صد حصّہ حجری دَور یا Stone Age پر مشتمل ہے۔ یہ دَور آج سے 20 لاکھ برس قبل شروع ہوا تھا۔

اُس عہد کا انسان خوراک کے حصول کے لیے شکار پر گزارہ کرتا تھا اور تب غار اور جھونپڑیاں اُس کی پناہ گاہیں تھیں۔ بعد ازاں، انسان نے بتدریج ترقّی کی منازل طے کیں، تو اُس کے رہن سہن کے طور طریقے بدل گئے۔ وہ ’’سماجی حیوان‘‘ بن گیا اور لوگوں نے مل جُل کر رہنا شروع کردیا۔ پھر انسان نے اخلاق و تہذیب سے آشنائی حاصل کی اور بستیاں اور شہر آباد کیے، تاکہ مہذّب انداز سے زندگی گزار سکے۔

پہلی انسانی بستی: تاریخ کے مطالعے سے یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ آج سے تقریباً 10000سال قبل مسیح میں پہلی انسانی بستی شمالی امریکا میں قائم ہوئی۔ یہ بستی اُن مہاجرین کی آماج گاہ تھی، جو ایشیا سے ہجرت کرکے شمالی امریکا گئے تھے۔ یہ مہاجرین دو قبائل ’’اسکیمو‘‘ اور ’’ایلوٹس‘‘ پر مشتمل تھے۔

دُنیا کا قدیم ترین شہر: ’’جریکو‘‘ شہر کو دُنیا کا قدیم ترین شہر تصوّر کیا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس کی بنیاد 8000 سال قبل مسیح میں رکھی گئی تھی۔ یہ شہر بحیرۂ مُردار کے شمال میں واقع تھا اوراُس دَور کا ایک بڑا تجارتی مرکز تھا۔

یہ شہر’’اوسس‘‘ نامی صحرا میں تعمیر کیا گیا تھا۔ صحرا میں سفر کرنے والے لوگ اس شہر سے گزرتے، تو اپنی ضرورت کی اشیاء یہیں سے خریدتے تھے۔ جریکو کے باشندوں نے اپنے دفاع کے لیے ایک حفاظتی دیوار بھی تعمیر کر رکھی تھی، جو کہ کم و بیش 20 فٹ بلند اور تقریباً 6 فٹ چوڑی تھی۔

اُر : تقریباً 3500 قبل مسیح میں جنوبی عراق کےعلاقے میں دریائے فرات کے کنارے قدیم شہر، ’’اُر‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ شہر قدیم علاقے، میسو پوٹیمیا کا دارالحکومت بھی رہا ۔ ’’اُر‘‘ شہر متعدد باراُجڑا اور اُسے متعدد مرتبہ ہی بسایا گیا۔ اس شہر کا شمار قدیم دَور کے چند بڑوں شہروں میں ہوتا تھا۔

ٹرائے: 2700 قبل مسیح میں یونان کا قدیم شہر، ’’ٹرائے‘‘ آباد ہوا۔ آثارِ قدیمہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس شہر کے ارد گرد ایک بڑی سی فصیل تعمیر کی گئی تھی اور اسے دُنیا کا پہلا قلعہ بند شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

ہیلیو پولِس: ہیلیو پولِس شہر کا شمار قدیم مصر کے چند بڑے شہروں میں ہوتا تھا۔ یہ شہر 1500قبل مسیح میں تعمیر کیا گیا۔ اس کے باشندے سورج کی پوجا کیا کرتے تھے۔ بعد ازاں، اس شہر کو قدیم مصر کا دارالحکومت بنا دیا گیا۔ اس شہر میں ایک بڑی عبادت گاہ بھی تھی اور بادشاہِ وقت اُسی عبادت گاہ میں اپنا دربار لگایا کرتے تھے، جب کہ شاہی ریکارڈ بھی اسی عبادرت گاہ میں  رکھا جاتا تھا۔

کورنتھ 800 : قبل مسیح میں مشہو یونانی شہر، ’’کورنتھ‘‘ تعمیر کیا گیا، جو ایک چھوٹی سی بندرگاہ پر مشتمل تھا۔ یہ یونان کا ایک اہم تجارتی مرکز تھا۔ ساحل پر واقع ہونے کی وجہ سے یہاں سے بحری تجارت بھی کی جاتی تھی۔ کورنتھ کا شمار دُنیا کے بڑے تاریخی شہروں میں ہوتا ہے۔

روم: 753 قبل مسیح میں مشہورِ زمانہ شہر، روم وجود میں آیا۔ اس شہر کو ’’رومولس‘‘ اور ’’ریمس‘‘ نامی دو جڑواں بھائیوں نے تعمیرکیا تھا۔ گرچہ روم کی ابتدا ایک چھوٹے سے شہر سے ہوئی، مگر بعد ازاں یہ ایک عظیم الشّان سلطنت کا مرکز بن گیا۔

بازنطیم: 657 قبل مسیح میں مشہور شہر، بازنطیم کی بنیاد رکھی گئی۔ آج یہ شہراستنبول کہلاتا ہے، لیکن اُس وقت یہ قدیم رومن سلطنت کا حصّہ تھا۔

مقدونیہ : 640 قبل مسیح میں مقدونیہ کی قدیم سلطنت کی بنیاد رکھی گئی۔ اس کا بانی ’’پرڈکاس اوّل‘‘ تھا، جو ایک خانہ بدوش قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔ آج یہ شہر یونان کے شمال میں واقع ہے۔

قاہرہ: قاہرہ کی بنیاد دولتِ فاطمیہ کے دَور میں 969ء میں رکھی گئی، جس کے بانی فاطمی خلیفہ، المعز لدین اللہ تھے، جب کہ ان کے سپہ سالار، جوہر السقلی نے اس شہرکی منصوبہ بندی اور تعمیر کا کام سرانجام دیا۔

یہ شہر دریائے نیل کے کنارے آباد کیا گیا اور اسے فاطمی خلافت کا دارالحکومت بنایا گیا۔ اسی دَورمیں یہاں مشہور جامعہ الازہر کی تعمیر بھی شروع ہوئی۔ قاہرہ کو اپنے اسلامی طرزِ تعمیر کی وجہ سے ’’ہزار میناروں کا شہر‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔

اوسلو: اوسلو، ناروے کا دارالحکومت ہے۔ اس کا سنگِ بنیاد 1047ء میں رکھا گیا۔ 1624ء میں اس کا نام بدل کر ’’کرسچیانیا‘‘ رکھا گیا، مگر 1995ء میں اس شہرکا پرانا نام ’’اوسلو‘‘ بحال کر دیا گیا۔

ماسکو: 1156ء میں رُوس کے دارالحکومت، ماسکو کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ شہر دریائے ماسکو کے کنارے آباد کیا گیا۔ 1381ء میں پہلی مرتبہ تاتاریوں نےاس شہرکو نذرِآتش کیا اور اس کے بعد اسے تین مرتبہ جلایا گیا، جب کہ 1830ء میں اس شہر کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔

جیمز ٹاؤن: ورجینیا کمپنی آف لندن نے 1607ء میں انگریز باشندوں کی مستقل رہائش کے لیے شمالی امریکا کے علاقے، ورجینیاکی طرف تین جہاز بھیجے۔ ان جہازوں میں مجموعی طور پر 120افراد سوار تھے، جو دریائے جیمز کے کنارے آباد ہوگئے اور اس شہر کا نام ’’جیمز ٹاؤن‘‘ رکھا گیا۔ یہ امریکا میں آباد ہونا والا پہلا باقاعدہ شہر تھا۔

سنڈے میگزین سے مزید