کلثوم پارس
تم لوگوں کے آ جانے سے گزرے دنوں کی خوشبو اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ عود آئی ہے۔ میری نابینا آنکھیں پھر سے بینا ہونے لگی ہیں اورمجھےتمام مناظر بالکل صاف دکھائی دے رہے ہیں۔ تمہارا بچپن، لڑکپن، جوانی… وہ دیکھوہرطرف قہقہےگونج رہےہیں… یاد کرو!وہ وقت، جب تم نےمیرے کندھوں پر جھولے جھولے تھے۔ زندگی کے میلوں سے لُطف اٹھاتے ہوئے اپنی روح سرشارکرتےتھے۔ جاڑوں کی سرد راتوں میں، مَیں نے کتنے ہی جسموں کو اپنی حدّت سے سکون بخشا تھا۔
گرم تھپیڑے مارتے سورج کے سامنے خُود کو جلا کر تمہارے لیے راحت کا سامان کیا تھا۔ کتنی ہی خزائیں بہاروں کے انتظار میں بیت گئیں…اور کتنی ہی بہاریں گزر کر امر ہوگئیں۔ دالان میں پڑی کرسیوں پر بیٹھے تم سب کے ہاتھوں میں بھاپ اڑاتے چائے کے کپ… ٹن ٹن بجتی ٹیلی فون کی گھنٹی… اٹکھیلیاں کرتی شوخ ہوا کے جھونکے… گرمیوں میں پتنگ بازی کے مقابلے… سردیوں میں چھت پر باربی کیو کے چٹخارے… آہ… ہا… مجھے آج بھی یاد ہے… جب بڑا احسن نیا نیا مبتلائے عشق ہوا تھا، تو تحسین سے چپکے چپکے چھت پر ملاقاتوں کا سلسلہ تھا کہ تھمتا ہی نہ تھا، نہ پڑھائی کی فکر، نہ کھانے کا ہوش… ہوش تھا تو بس تحسین کی ایک جھلک دیکھنے کا کہ جان میں جان آئے۔ اور… اور… وہ دن بھی جب منجھلے محسن نے نئی نئی شاعری شروع کی تھی۔ پہروں بغل میں ڈائری دابے کبھی اِس کونے میں تو کبھی اُس کونے میں دُبکا بیٹھا ہوتا تھا۔
لفظ گھنگرو پہنے اس کے ارد گردناچتےتھے۔ گویا قلم وقرطاس پہ بکھری نغمگی ہرجا گونجنے لگی تھی۔ مَیں گواہ تھا ان سُریلی یادوں کا، جن کا سحر ابھی ٹوٹا نہیں۔ ؎ مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو۔ ہائے!! صد افسوس!!! اب وہ نغمگی، یاسیت کی چادر اوڑھ، آنکھوں میں ایسی بسی ہے، جیسے کیمرے سے لی گئی کسی تصویر کا ہول ناک منظر بدلائے نہیں بدلتا۔ ’’دیکھو، ذرا دیکھو!! کیا حال ہوگیا ہے میرا…‘‘
آج بھی راہ گیر کبھی میری حالتِ زار دیکھ کر تمسخر اُڑاتے ہیں تو کبھی تاسف بھری نظروں سے دیکھ کر ہنکارا بھرتے ہیں۔ کیا ٹھاٹھ باٹھ ہوا کرتے تھے میرے…یہ تمسخر نہیں بلکہ میری بے بسی کے منہ پر زور دار طمانچا ہے، جس کی گونج مَیں ہر روز محسوس کرتا ہوں۔ طمانچے سے یاد آیا، جب تمہاری بہن ماہ جبیں کے کسی لڑکے سے دوستی کی ہلکی سی بھنک احسن کو پڑی تھی۔ تو کیسے اُس کی آنکھیں لال انگارہ ہوئی جاتی تھیں۔
غصّے کی شدت سے اُس کے منہ سے کف اُڑنے لگا تھا۔ وہ ماہ جبیں کی سانسیں کھینچنے کے درپے ہوگیا تھا، ایسا زوردار طمانچا اس کے منہ پہ رسید کرتے ہوئے تنبیہ کی تھی کہ کئی دنوں تک بےچاری کُھل کر سانس بھی نہیں لے پائی تھی۔ پھر بڑی بہو آئی تھی، تو اس نے کیسے گھر کی ہر چیز کو سہج سہج رکھا تھا۔ ہر طرف محبّت کے شگوفے پُھوٹتے تھے۔ ضیافتوں میں نئے نئے پکوان بنتے۔ محبّت بھرے لہجوں میں چاشنی گھلی ہوتی تھی۔
مگر…ایسے میں چھوٹے حسّان نے جب بیرونِ مُلک جانے کی ضد باندھی، تو سارے گھر کا ماحول سوگوار ہوگیا تھا۔ ایک بار تو میرا بھی دل دہل گیا۔ یکایک کلیجہ منہ کو آنے لگا تھا۔ دستورِزمانہ ہے، ماں باپ بچّوں کی ضد کی ڈور کے ساتھ کھنچے چلے جاتے ہیں۔ آخر ضد جیت گئی اور ماں نے اپنے سارے زیور گِروی رکھ کر حسّان کے خواب خرید لیے۔
بیٹے کے یوں چلے جانے پر ماں زاروقطار روئی تھی۔ ایسا بستر پکڑا کہ پھر بستر ہی کی ہو کے رہ گئی۔ مَیں بھی تمہارے کمرے کی ہر چیز کے ساتھ تمہاری یاد میں آنسو بہاتا تھا۔ جانے والے شاذونادر ہی لوٹ کر آتے ہیں۔ یہ گمان تھا، جو سچ ثابت ہوا۔ ماں کی آنکھیں تمہارا انتظار کرتے کرتے بجھ گئیں۔ ماں کا یوں چلے جانا اور ماہ جبیں کی رخصتی کے لمحات دونوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں کر پایا مَیں۔ دونوں ہی مجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئیں۔ مجھے بڑا مان تھا، احسن بڑا بیٹا میرا سہارا بنے گا۔ یہ مان تھا یا گمان تھا… دونوں ہی ٹوٹ گئے۔
تم بھی اپنے بیوی بچّوں کے ہم راہ مجھ سےکئی سو کلومیٹر دُور جابسے اور مَیں کسی شاعر کی بے وزن غزل کی طرح کسی پرانی ڈائری کے خستہ حال اوراق میں گم ہوتا چلا گیا۔ جسے شاعر نے کبھی درست کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ میری فریاد اُس ماں کے جیسی تھی، جس نے اپنی اولاد کو جوانی اور خونِ جگر دے کر پالا ہو اور اُس کے جگر کے ٹکڑوں کے پاس اُسے دینے کے لیے وقت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہو۔
تم سب ایک ایک کر کے اُڑان بَھرتے گئے اور مَیں تمہیں پتھرائی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ تمہیں روکنے کی کوشش بھی کی مگر!تمہاری تمنائیں زیادہ زور آور تھیں، جو تمہیں اپنے ساتھ بہا لے گئیں۔ اور…میرے آنسو قطرہ قطرہ ان سیم زدہ دیواروں کا حصّہ بن کر کب ان میں جذب ہوتے چلے گئے، پتا ہی نہیں چلا۔
مگرخیر… میری آنکھیں تمہارےانتظارمیں پتھرائی ضرور تھیں لیکن بجھی نہیں تھیں، اِس امید کےساتھ کہ تم آؤگے اور مَیں پھر سے جی اُٹھوں گا اور…دیکھو! ذرا دیکھو!! تم آئے تو سہی۔ اور کچھ وقت کے لیے جذ باتی بھی ہوئے مجھے دیکھ کر۔ پھر اچانک منہ کھولا اور…تم نے تو کمال ہی کر دیا یار!! مَیں جو خُود کو جیتا جاگتا وجود محسوس کرتا تھا، مگر تم نے مجھے وہی سمجھا، جو میں تھا۔ ’’ملبہ، خستہ حال عمارت کاملبہ…‘‘پراپرٹی ڈیلر نے بھی تو یہی کہہ کر میرے دام لگائے تھے ناں۔