• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رنگ، دھنک، یہ مہکا بادل سب تصویریں تیری ہیں...

تحریر: شائستہ اظہر صدیقی، سیال کوٹ

ماڈل: قبطیہ راجپوت

ملبوسات، زیورات: QDS Collection

آرائش: دیوا بیوٹی سیلون

عکّاسی: عرفان نجمی

لے آؤٹ: نوید رشید

برکھا رُت، ساون کا مہینہ، قدرت کے حسین وجمیل رنگوں اور جذباتی کیفیات کا ایک خُوب صُورت سنگم ہے، جو عموماً وجودِ انسانی کوگہرائی تک متاثر کرتا ہے۔ آسمان پرجب گھن گھورگھٹا چھاتی ہے، تو ہر ایک ہی پر کچھ عجب سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، جو دل کو تھوڑا پریشاں بھی کرتی ہے، مگر ساتھ ہی بےحد انوکھی کشش بھی رکھتی ہے۔ اس کی وسعت، تاثیر کا اندازہ اِس بات سےلگایا جاسکتا ہےکہ اِدھر بادلوں کا لشکر آسمان پر نمودار ہوا، اُدھر زمین کے ساتھ ذہن ودل کی کیفیات بھی یک سربدل گئیں۔

اچانک، سیاہی مائل سُرمئی بادلوں کا چھا جانا گویا ایک طلسماتی سی فضا بنا دیتا ہے۔ جنگلوں میں بانس کے جُھرمٹوں کا جُھومنا، کھیت کھلیانوں میں فصلوں کا لہلہانا اور ان سب کے بیچ و بیچ گزرتی تیز ہواکا شور، قدرت کےسازوں میں ڈھلی موسیقی تخلیق کرتا آن کی آن میں سارے ماحول ہی کو خُوب سحر انگیز کر ڈالتا ہے۔

کہیں ڈھولک، نقّاروں کی تھاپ، تو کہیں ست رنگی دھنک کے سائے میں اپنی سر مستی میں مگن مور، اُس پر بجلی کی چمک، بادلوں کی کڑک مل کر ایسا زور دکھاتے ہیں کہ بس پھر تو اِس میگھ ملھار، ساون بھادوں میں ڈوب کر گویا پورا منظرنامہ ہی نئے سرے سے جی اُٹھتا ہے۔ جیسے گرد و پیش مل کر کسی قدیم تر، پُراسرار ترین ساز پر محوِ رقص ہوں۔

ساون کی فضاؤں میں پہلا جُھولا جانے کب، کہاں اور کیوں ڈالا گیا ہوگا، مگر یہ سو فی صد سچ ہے کہ موسمِ برسات، رِم جِھم برکھا، میگھ ملھار اور اِن پینگوں، جُھولوں کا ساتھ لازم و ملزوم ہے، جو اِس کافرادا رُت کی رونق ہی دوبالا نہیں کرتے، حُسن بھی دوآتشہ کردیتے ہیں۔ اِدھر کسی درخت پر کوئی پینگ، جھولا پڑا، اُدھر ست رنگے آنچل بادلوں کو چُھو گئے۔ ابر کی گود میں بیٹھی خوشیاں قطاردرقطار زمین پر اُترآئیں۔

سکھیوں سہیلیوں کے سریلے گیت فضاؤں میں رس گھولنے لگے۔ ؎ ’’باغوں میں پڑے جُھولے، تم بُھول گئے ہم کو، ہم تم کو نہیں بُھولے۔ ؎ امبوا کی ڈالیوں پر جُھولنا جُھلا جا، اب کے ساون تو سجن گھر آ جا۔ ؎ رِم جھم رِم جھم پڑے پھوار، تیرا میرا نِت کا پیار۔ ؎ ساون آئے، ساون جائے، تُجھ کو پُکاریں گیت ہمارے۔؎ آئے موسم رنگیلے سہانے، جیا نہیں مانے، تو چُھٹی لے کے آجا بالماں۔ ؎ اے ابرِ کرم! آج اتنا برس، اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں۔ ؎ ساون کے دن آئے بالم، جُھولا کون جُھلائے۔

؎ تیری دو ٹکیاں دی نوکری، میرا لاکھوں کا ساون جائے ؎ کچھ دیر تو رُک جاؤ، برسات کے بہانے۔ ؎ ساون کا مہینا پوَن کرے شور۔ ؎ رِم جِھم گرے ساون، سلگ سلگ جائے من۔ ؎ لگی آج ساون کی پھر وہ جھڑی ہے۔ ؎ برسو رے میگھا میگھا برسو۔ ؎ ٹپ ٹپ برسا پانی۔ ؎ رِم جھم رِم جھم، رُم جُھم رُم جُھم، بھیگی بھیگی رُت میں، تم ہم، ہم تم۔ ؎ محبّت برسا دینا تُو، ساون آیا ہے، تیرے اور میرے ملنے کا موسم آیا ہے۔‘‘ دوسری طرف یہ ساون بڑا بے دردی بھی ہے کہ اکثر یہ رُت بھولی بسری یادوں کے دریچے کھول کے رکھ دیتی ہے۔

اندر کے موسم متحرک کر کے، آنکھوں میں نمی، دل میں بےنام سی اداسی بھر دیتی ہے۔ زمین پر گرتی بارش کی ہرہر بوند کسی ایسی یادکی دستک بن کراُبھرتی ہے، جو طویل عرصے سے خاموش پڑی تھی۔ جب بوندوں کے تال میل سےدھرتی کا انگ انگ کِھل رہا ہو، ہجر کے مارے دل کا انتظار بےکسی کا احساس بن کر ساون کی نمی ہی میں تحلیل ہو کے کسی بچھڑے کو ہُوک لگاتا ہے۔

؎ پھر ساون رت کی پون چلی تم یاد آئے… پھر پتّوں کی پازیب بجی تم یاد آئے…پھر کونجیں بولیں گھاس کے ہرے سمندر میں…رُت آئی پیلے پھولوں کی تم یاد آئے…پھر کاگا بولا گھر کے سونے آنگن میں…پھر امرت رس کی بوند پڑی تم یاد آئے…پہلے تو مَیں چیخ کے رویا اور پھر ہنسنے لگا…بادل گرجا بجلی چمکی تم یاد آئے۔

چلیں بھئی، اب، ساون بھادوں ہی کی مناسبت سے ہلکے پھلکے فیبرک میں کچھ رنگارنگ ملبوسات سے آنکھیں چار، دو دو ہاتھ کیے لیتے ہیں۔ ذرا دیکھیے، لان کا زرد رنگ چُنری اسٹائل تھری پیس لباس، جس پرسفید رنگ کی ہم آمیزی بہت ہی غضب ڈھا رہی ہے، خصوصاً شیفون دوپٹے نے تو جیسے پہناوے کو چار چاند لگا دیئے ہیں۔

گہرے پستئی رنگ کے ساتھ طلائی رنگ کنٹراسٹ بھی کمال ہے کہ قمیص اور شلوار پرحسین کڑھت کا جلوہ ہے، تو ساتھ شیفون کے پلین گولڈن رنگ دوپٹے کا انتخاب بھی زبردست ہے۔

آف وائٹ فلورل پرنٹڈ لباس کی قمیص پر بڑے پھولوں کا پرنٹ نمایاں ہے، تو ساتھ پلین ٹراؤزر اور ہم آہنگ پرنٹ ہی کا حسین دوپٹا ہے۔

جب کہ ٹرکوائز رنگ پلین ٹراؤزر کے ساتھ پرنٹڈ قمیص کا نفیس پرنٹ اور دوپٹے کے جان دارشوخ رنگوں کا تضاد اِس پہناوے کو بےحد جاذبِ نظر بنا رہاہے، تو ہلکے گلابی رنگ میں خُوب صورت کڑھت سے مزین قمیص، سادہ ٹراؤزر اور ہلکے شیفون دوپٹے کے انتخاب کے بھی کیا ہی کہنے۔

سنڈے میگزین سے مزید
جنگ فیشن سے مزید