• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تخلیق کا زوال، تجارتی و نمائشی تعبیر اردو ادب کا سب سے بڑا فکری بحران ہے

معروف مصنفہ، شاعرہ، معلمہ، پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ سے گفتگو
معروف مصنفہ، شاعرہ، معلمہ، پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ سے گفتگو

بات چیت: رؤف ظفر، لاہور

دورِ حاضر میں جن خواتین نے شاعری اور تحقیق و تنقید کے میدان میں قابلِ ذکر کام کیا ہے، اُن میں پروفیسر ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ اُن کی17کتابیں شائع ہو چُکی ہیں، جب کہ مختلف یونی ورسٹیز میں ایم فِل اور بی ایس آنرز کی سطح پر اُن کے تحقیقی و تخلیقی کام پر ریسرچ ہورہی ہے۔ گزشتہ برس اُن کی تخلیقات پر15مقالات شایع ہوئے۔

نیز، اُن کے ناولز کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہو چُکا ہے۔ وہ فارمن کرسچن کالج یونی ورسٹی (ایف سی کالج یونی ورسٹی )کے شعبۂ اردو کی چیئرپرسن ہیں۔ گزشتہ دنوں اُن سے ایک تفصیلی نشست میں اُن کی علمی و ادبی زندگی سے متعلق بات چیت ہوئی، جس کا احوال نذرِ قارئین ہے۔

س: ڈاکٹر صاحبہ سب سے پہلے تو اپنے بچپن، خاندان وغیرہ سے متعلق کچھ بتائیے؟

ج: بچپن پیار و محبّت، عزّت و احترام اور خاندانی اقدار کی ایسی پُرسکون فضا میں گزرا، جہاں تربیت کو محض نصیحت نہیں، کردار سازی سمجھا جاتا تھا۔ والدین نے شفقت، علم دوستی اور تہذیبی شعور کے ساتھ ہماری ایسی آب یاری کی کہ مطالعہ، وقت کی قدر، بزرگوں کا احترام اور خوش اخلاقی ہماری شخصیت کا مستقل حوالہ بن گئے۔ آج بھی زندگی میں جو وقار، توازن اور فکری سنجیدگی ہے، وہ اُسی تربیت یافتہ بچپن کی دین ہے۔

س: لاہور جیسے علمی و ادبی مرکز نے آپ کی شخصیت سازی میں کیا کردار ادا کیا؟

ج: لاہور محض ایک شہر نہیں، تہذیب، علم اور تخلیقی شعور کی زندہ علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بجا طور پر’’سٹی آف لٹریچر‘‘کہا جاتا ہے۔ یہاں ادب صرف لفظوں کی آرائش نہیں، بلکہ زندگی، سماج اور انسان کے باطن کی تفہیم ہے۔ لاہور اپنے دامن میں اُنہی اذہان کو جگہ دیتا ہے، جن کے اندر فکر کی تازگی، وژن کی وسعت اور تخلیق کی حرارت موجود ہو۔

اِس شہر کی ادبی فضا نے مجھے یہ شعور دیا کہ سچّا ادب وہی ہے، جو اپنی مٹّی، عہد اور انسان کے دُکھ سُکھ سے جُڑا ہو۔ یوں کہیے، لاہور نے میری فکر کو وسعت، لہجے کو وقار اور تخلیق کو ایک نئی معنویت عطا کی۔

س: بچپن میں کون سی شخصیت آپ کی آئیڈیل رہی؟

ج: بچپن دراصل شعور کی ابتدائی تشکیل کا زمانہ ہوتا ہے، اِس لیے اُس عہد کی آئیڈیل شخصیات بھی عموماً گھر کے بزرگ ہی ہوتے ہیں۔ ہماری مشرقی تہذیب میں والدین، دادا دادی، نانا نانی، اساتذہ اور خاندان کے باوقار افراد محض رشتے نہیں، اخلاق، تہذیب اور تربیت کے اوّلین استعارے سمجھے جاتے ہیں۔ انسان ابتدا میں اُنہی کے طرزِ عمل، شفقت اور وقار سے متاثر ہو کر زندگی کی سمت متعیّن کرتا ہے۔

پھر وقت، تجربات اور مطالعہ انسان کے زاویۂ فکر کو مسلسل وسعت دیتے رہتے ہیں، اِس لیے عُمر کے ہر مرحلے میں انسان کے فکری مراکز بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ادبی دنیا میں میر و غالب جیسے عظیم تخلیق کاروں نے میرے شعور کو جِلا بخشی، جب کہ زندگی نے یہ سِکھایا کہ سماج خود ایک بڑی درس گاہ ہے، جہاں ہر تجربہ انسان کا معلّم بن جاتا ہے۔

تاہم، اگر کامل آئیڈیل کی بات کی جائے، تو میرے نزدیک وہ ذات صرف حضور نبی کریم ﷺ اور اہلِ بیتِ اطہارؓ کی ہے، کیوں کہ باقی تمام شخصیات سے انسان کچھ اوصاف ضرور اخذ کرتا ہے، مگر کمالِ انسانیت کا اعلیٰ ترین نمونہ وہی مقدّس ہستیاں ہیں۔

س: گریجویشن کے بعد مختلف مضامین میں ایم-اے کرنے کی لائن لگا دی، حالاں کہ بالعموم ایک ایم-اے کافی ہوتا ہے؟

ج: جوانی کا ذہن جستجو اور اشتیاق سے بھرپور ہوتا ہے۔ میرے متجسّس ذہن نے بھی مجھے کسی ایک مضمون تک محدود نہیں رہنے دیا۔ چناں چہ ایم اے اردو، ایم اے پنجابی، ایم اے پولیٹیکل سائنس، ایم اے اسلامیات اور ایم اے ایجوکیشن کے میدانوں سے بھی رشتہ استوار ہوتا چلا گیا۔ جوانی کا ذہن ایک شفّاف آئینے کی مانند ہوتا ہے۔ تازہ، متجسّس، جستجو سے معمور اور سیکھنے کی غیر معمولی صلاحیت سے آراستہ۔

شاید اِسی فطری اشتیاق نے مجھے خُود کو کسی ایک علمی دائرے تک محدود رہنے نہیں دیا۔ ویسے میرے نزدیک علم محض اسناد کا حصول نہیں، شعور کے نئے دریچوں کی دریافت کا نام ہے۔ ہر نیا مضمون، زندگی کو سمجھنے کا ایک تازہ زاویہ عطا کرتا رہا اور فکر و آگہی کے نئے امکانات وا کرتا گیا۔ مَیں ہمیشہ یہ محسوس کرتی رہی کہ انسان کے اندر اگر جستجو کی پیاس زندہ ہو، تو وہ کسی ایک ساحل پر نہیں ٹھہر سکتا۔

قدرت ہر انسان کو ایک خاص استعداد ودیعت کرتی ہے، مگر اس استعداد کی بے داری انسان کی اپنی ذمّے داری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے شوقِ علم، مسلسل سیکھنے کی لگن اور فکری توانائی عطا کی، جب کہ گھر والوں کی طرف سے سازگار ماحول اور حوصلہ افزائی نے یہ سفر مزید آسان کر دیا۔

اُس وقت زندگی کی بھاری ذمّے داریاں بھی اس شدّت سے حائل نہ تھیں، اِس لیے مَیں پوری یک سُوئی کے ساتھ اپنی علمی و فکری پیاس بُجھانے میں مصروف رہی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ سفر کسی باقاعدہ منصوبہ بندی سے زیادہ ایک باطنی کشش، فکری جستجو اور ربّانی توفیق کا حاصل تھا، جو میری ایک علم سے دوسرے علم کی سمت رہنمائی کرتا رہا۔

س: اپنے ڈاکٹریٹ کے لیے منیر نیازی ہی کو کیوں چُنا؟

ج: میری بنیادی شناخت ایک شاعرہ کی ہے۔ مَیں شاعرہ تھی، ہوں اور رہوں گی۔ شاعری میرے لیے محض اظہار نہیں، بلکہ ایک داخلی، روحانی اور فکری واردات ہے۔ شاید اِسی لیے جب مَیں نے ڈاکٹریٹ کا سفر شروع کیا، تو ابتدا میں میرا موضوع کچھ اور تھا، مگر پھر ایک ایسا لمحہ آیا، جس نے میری فکری سمت بدل دی۔ منیر نیازی کے انتقال نے میرے اندر ایک گہری خلش پیدا کی۔

بحیثیت شاعرہ مَیں نے اُن کے ساتھ کئی مشاعروں میں شرکت کی، جب کہ طالبِ علمی کے زمانے میں لاہور کے متعدّد ادبی اعزازات بھی اُنہی کے ہاتھوں وصول کیے۔ یوں اُن کی شخصیت اور فن سے ایک خاموش، مگر گہرا تعلق پہلے ہی قائم ہو چُکا تھا۔ اُن کے انتقال کے بعد میرے اندر یہ احساس شدّت اختیار کر گیا کہ میری تحقیقی کاوش کا محور بھی وہی ہونے چاہئیں۔

چناں چہ فیصلہ کیا کہ ڈاکٹریٹ کا موضوع منیر نیازی کی شخصیت اور فن ہوگا۔ اگرچہ یونی ورسٹی کی سطح پر اِس فیصلے کی مزاحمت ہوئی اور یہ سوال بھی اُٹھایا گیا کہ منیر نیازی پر پی ایچ ڈی کے درجے کا کیا کام ہو سکتا ہے، مگر میرے اندر ایک تخلیقی ضد جاگ چُکی تھی۔ مَیں نے تہیّہ کرلیا کہ اگر تحقیق کروں گی، تو اِسی موضوع پر، وگرنہ نہیں۔ بالآخر میری استقامت رنگ لائی اور اجازت مل گئی۔

س: درس و تدریس کے شعبے کے انتخاب کی کیا وجہ تھی؟

ج: تدریس کا شعبہ میرے لیے محض ایک پیشہ کبھی نہیں رہا، یہ ایک روحانی، فکری اور تہذیبی ذمّے داری کا استعارہ ہے۔ شاید میرے لاشعور میں ابتدا ہی سے یہ احساس راسخ تھا کہ معلّمی ایک مقدّس منصب ہے۔ یہ وہ شعبہ ہے، جسے انبیائے کرامؑ سے نسبت ہے، کیوں کہ علم دراصل انبیائے کرامؑ کی میراث ہے۔ اِسی لیے میرے اندر ہمیشہ یہ عقیدہ موجود رہا کہ اگر دنیا میں کوئی شخصیت انسان کو حقیقی معنوں میں’’انسان‘‘ بنا سکتی ہے، تو وہ استاد کی شخصیت ہے۔

س: پہلی نظم، غزل یا کتاب کون سی تھی؟

ج: مجھے درست طور پر ہرگز یاد نہیں کہ میری اوّلین نظم، پہلی غزل، ابتدائی افسانہ یا اوّلین تنقیدی تحریر کون سی تھی، کیوں کہ لکھنے کا عمل میری زندگی میں کسی باقاعدہ اعلان کے ساتھ نہیں آیا، بلکہ یہ ایک تدریجی اور فطری بہاؤ کی صُورت میرے شعور کا حصّہ بنا۔ مَیں ادبی حلقوں، بالخصوص حلقۂ اربابِ ذوق کی نشستوں میں ابتدا ہی سے شریک رہی، لکھتی بھی رہی اور سُناتی بھی رہی۔

بعد ازاں، اپنی ایک تحریر حلقے میں پیش کرنے کے بعد باقاعدہ رُکنیت حاصل کی، مگر تخلیق کا سفر اِس سے کہیں پہلے خاموشی سے میرے اندر شروع ہو چُکا تھا۔ ہاں، اِتنا ضرور یاد ہے کہ میری پہلی باقاعدہ تصنیف 2005ء میں منظرِ عام پر آئی۔ یہ شاعری کا مجموعہ تھا اور شاید میرے داخلی احساسات، خوابوں اور فکری ارتعاشات کا پہلا باضابطہ اظہاریہ بھی۔ اُس کتاب کے بعد پھر اردو، پنجابی اور گورمکھی میں یکے بعد دیگرے کئی کتب ہوئیں اور یوں تخلیق کا یہ سفر وسعت اختیار کرتا چلا گیا۔

درحقیقت اُس زمانے میں، جب میری پہلی کتاب شائع ہوئی، مَیں جامعہ کی طالبہ تھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی صلاحیتوں سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتا، مگر اس کے گرد موجود لوگ اُس کے باطن میں چُھپی روشنی پہلے پہچان لیتے ہیں۔ میری پہلی کتاب بھی دراصل اِسی اجتماعی اعتماد، رفاقت اور علمی ماحول کی عطا تھی، جس نے ایک طالبہ کو باقاعدہ شاعرہ بننے کا حوصلہ دیا۔

س: اپنے تخلیقی سفر میں اردو ادب کو کیا کچھ دیا؟

ج: اگر میرے ادبی سفر کے منظرنامے پر نگاہ ڈالی جائے، تو یہ سفر محض لفظوں کی ترتیب نہیں، بلکہ احساس، فکر، تجربے اور تخلیقی ریاضت کی ایک مسلسل داستان ہے۔ الحمدللہ، اب تک میری 17کتابیں شائع ہو چُکی ہیں، جن میں شاعری، تنقید، تحقیق، ناول، افسانہ اور اخباری کالم اپنے اپنے فکری اور تخلیقی حوالوں کے ساتھ شامل ہیں۔

میرے لیے ادب کبھی ایک صنف تک محدود نہیں رہا۔ شاعری میرے باطن کی آواز ہے، افسانہ میرے مشاہدے کی تعبیر، تحقیق میرے شعور کی جستجو اور ناول میرے عہد کے انسان کی داخلی کہانی۔ اِسی لیے مَیں نے کسی ایک جہت پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہر صنفِ ادب میں اپنے احساس اور فکر کو اظہار دینے کی کوشش کی۔ خصوصاً ناول نگاری نے حالیہ برسوں میں میرے ادبی سفر کو ایک نئی وسعت عطا کی ہے۔

میرے کئی ناول پاکستان اور بھارت سے شائع ہوئے۔ بھارت سے شائع ہونے والے ناولز میں’’زندگی ایک ناراض متن‘‘، ’’سمے کا ساحل‘‘،’’غیر مطبوعہ جیون‘‘ اور’’ مضراب خاک‘‘ شامل ہیں۔ یہ بات میرے لیے باعثِ مسرّت ہے کہ کئی معروف اداروں نے نہ صرف میرے ناولز شائع کیے، بلکہ’’زندگی ایک ناراض متن‘‘ کا انگریزی ترجمہ ’’Life is an Anguish Text‘‘ کے نام سے بھی ہوا۔

جو گزشتہ برس منظرِ عام پر آیا اور اب دیگر ناولز بھی اردو کے ساتھ، انگریزی زبان میں شائع کیے جا رہے ہیں۔’’زندگی ایک ناراض متن‘‘ کا فارسی ترجمہ بھی کیا جا چُکا ہے۔ کئی کتابیں زیرِ ترتیب ہیں، کئی مسوّدے وقت کے دریچوں میں سانس لے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آنے والا وقت اُنھیں کب اور کس صُورت منظرِ عام پر لاتا ہے۔

س: آپ کے ناولز پر ریسرچ بھی ہو چُکی ہے، اِس کی کیا تفصیلات ہیں؟

ج: جی ہاں، میرے ناولز پر جس سنجیدگی اور تواتر کے ساتھ تحقیقی کام ہو رہا ہے، وہ میرے لیے محض ایک ادبی اعزاز نہیں، بلکہ تخلیق کے اثر پذیر ہونے کی ایک خوش آئند علامت بھی ہے۔ پاکستان میں تو مختلف جامعات میں میرے ناولز پر مسلسل علمی و تنقیدی مکالمہ جاری ہے، مگر میرے لیے یہ امر خاص طور پر باعثِ مسرّت ہے کہ میرے تخلیقی سفر کی بازگشت سرحدوں سے باہر بھی سُنائی دے رہی ہے۔

میرے نزدیک کسی بھی تخلیق کار کے لیے اِس سے بڑی خوش نصیبی شاید اور کوئی نہیں کہ اُس کے لفظ کتاب کے صفحات سے نکل کر علمی اداروں، قاری کے شعور اور تحقیقی مباحث کا حصّہ بن جائیں۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے، جب تخلیق محض ذاتی اظہار نہیں رہتی، بلکہ اجتماعی شعور کی دستاویز بن جاتی ہے۔

س: شاعری میں میلانِ طبع نظم کی جانب زیادہ ہے یا غزل کی جانب؟

ج: مَیں آج تک اس معمّے کی تہہ تک نہیں پہنچ سکی کہ آخر حرف سے میرا رشتہ کس ساعتِ اسرار میں استوار ہوا۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ میرے وجدان کی اقلیم پر جملے کی حُکم رانی زیادہ ہے یا مصرعے کی۔ میرا قلب شعر کی رمزیت سے زیادہ وابستہ ہے یا نثر کی وسعتوں سے، تنقید کی ژرف نگاہی مجھے زیادہ اپنی جانب کھینچتی ہے یا تحقیق کی متانت و ثقاہت، غزل کے نازک آہنگ میرے مزاج سے قریب تر ہیں یا نظم کی بے کراں داخلی وسعتیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے لفظ خود میری رُوح کے دریچوں پر دستک دیتے ہیں اور مَیں محض ایک وسیلہ بن جاتی ہوں۔ جو خیال میرے باطن میں ارتعاش پیدا کرتا ہے، جو احساس میری رُوح کو مضطرب کرتا ہے، جو منظر میرے وجدان پر نقش ہو جاتا ہے، مَیں اُسے صفحۂ قرطاس کے سپرد کر دیتی ہوں، خواہ وہ ایک بے ساختہ جملے کی صُورت میں ہو، کسی مصرعِ تر کی شکل میں یا کسی فکری تحریر کے قالب میں۔

پھر یہ فیصلہ میرے قارئین پر موقوف رہتا ہے کہ وہ میرے لفظوں کو کس جہت سے قرأت کرتے، کن معنوی زاویوں میں دریافت کرتے ہیں۔ مَیں نے زندگی کو ہمیشہ ایک آزاد اور خود مختار تجربے کے طور پر برتا ہے۔ مَیں نے محرومیوں اور ملال کی سُلگتی راکھ کو اپنے مزاج پر غالب نہیں آنے دیا۔

میرا دل جس شے کی طرف مائل ہوا، مَیں نے اُسے اختیار کیا، جس ذائقے کو رُوح نے قبول کیا، اُسے چکھا اور جس چیز سے طبیعت نے انکار کیا، اُسے بے تکلّفی سے رَد کر دیا۔ خواہ معاملہ لباس کا ہو، طرزِ زیست کا، مطالعے کا، تحریر کا یا تخلیق کا، مَیں نے ہمیشہ اپنی داخلی آواز کو خارجی ضابطوں پر ترجیح دی ہے۔

س: آپ کے خیال میں موجودہ اردو ادب کا سب سے بڑا فکری بحران کیا ہے؟

ج: میرے نزدیک موجودہ اردو ادب، شاعری اور فکشن کا سب سے بڑا فکری بحران اخلاصِ تخلیق کا زوال اور ادب کی تجارتی و نمائشی تعبیر ہے۔ ادب، جو کبھی احساس، شعور اور تہذیبی وقار کا امین تھا، آج بڑی حد تک شہرت، مفاد اور سطحی سوشلائزیشن کی نذر ہوتا دِکھائی دیتا ہے۔

سوشل میڈیا اور تیز رفتار عہد نے فکر کی گہرائی، مطالعے کی سنجیدگی اور تخلیقی ریاضت کو شدید متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً ادب میں وہ فکری بصیرت، تہذیبی شعور اور انسانی کرب کم ہوتا جا رہا ہے، جو کسی بھی عظیم تخلیق کی اساس ہوتے ہیں۔ تاہم، سچّا ادیب اب بھی موجود ہے، وہ ہجوم، اشتہار اور وقتی پذیرائی سے بےنیاز ہو کر اپنے عہد کی اذیّت کو لفظوں میں ڈھالنے کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

س: شاعری اور ناول نگاری میں کون سی صنف زیادہ دشوار محسوس ہوتی ہے؟

ج: شاعری اور ناول نگاری دونوں ہی نہایت دشوار اور ریاضت طلب اصناف ہیں، تاہم فنی و فکری اعتبار سے ناول زیادہ صبر آزما صنف ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ناول ایک وسیع تہذیبی و سماجی کینوس کا متقاضی ہوتا ہے، جہاں متعدّد کردار، متوازی کہانیاں، متنوّع زاویۂ ہائے فکر اور مختلف سطح کے مسائل ایک مربوط وحدت میں سمونے پڑتے ہیں۔

شاعری میں اگرچہ ایک شعر میں جہانِ معنی سمو دیا جاتا ہے، تاہم وہاں موضوعاتی انتقال کی گنجائش موجود رہتی ہے، جب کہ ناول نگار اپنے منتخب موضوع، فضا اور فکری محور سے انحراف کا متحمّل نہیں ہو سکتا۔ اِسی لیے ناول محض تخلیق نہیں، ایک مسلسل ذہنی، فکری اور نفسیاتی مجاہدہ ہے۔

س: کیا آج کا قاری سوشل میڈیا کی وجہ سے سنجیدہ ادب سے دُور ہو رہا ہے؟

ج: بالکل، قاری کی عادتیں ضرور بدل گئی ہیں۔ کبھی سنجیدہ قاری کتابوں کی گرد آلود الماریوں، کتب خانوں کی خاموش راہ داریوں اور طویل مطالعے کے سفر سے گزر کر کسی نتیجے تک پہنچتا تھا، مگر اب ایک بٹن کے لمس پر بے شمار معلومات، آدھی سچّائیاں اور منتشر آرا اُس کے سامنے بکھری پڑی ہیں۔ سوشل میڈیا کی سطحیت اور مصنوعی ذہانت کی بعض اوقات غلط معلومات نے قاری کے ذہن میں انتشار بھی پیدا کیا ہے۔

اس کے باوجود، ادب ابھی مکمل تنہائی کا شکار نہیں ہوا۔ آج بھی چند لوگ ایسے ہیں، جو ادب کو محض مشغلہ نہیں، اپنا داخلی مسئلہ سمجھ کر پوری سنجیدگی سے فِکشن اور شاعری تخلیق کر رہے ہیں۔ تاہم، یہ بھی سچ ہے کہ جس طرح ہماری دوسری اقدار متاثر ہوئی ہیں، ادب بھی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکا۔

س: کیا خواتین لکھاریوں کو آج بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟

ج: خواتین لکھاریوں کو آج سنجیدگی سے تسلیم کیا جا رہا ہے، بشرطیکہ اُن کی تخلیق میں فنی پختگی، فکری گہرائی اور ادبی معیار موجود ہو۔ اچھی شاعری، مضبوط افسانہ، مؤثر تنقید یا معیاری ناول اپنی شناخت خود بناتا ہے اور قاری کو اپنی طرف متوجّہ کرتا ہے۔

س: پنجابی ادب سے آپ کی وابستگی کتنی گہری ہے؟

ج: میری پنجابی ادب سے گہری اور قلبی وابستگی ہے، اور میں اُردو کے ساتھ، پنجابی میں بھی مسلسل تخلیقی کام کر رہی ہوں۔ میرے فِکشن اور شاعری کا دائرہ دونوں زبانوں میں یک ساں طور پر پھیلا ہوا ہے، تاہم مجھے یہ احساس رہا کہ اُردو ادب نے جس محبّت، پذیرائی اور ادبی وقار سے میری تخلیقات کو قبول کیا، پنجابی حلقوں میں وہ اعتراف نسبتاً کم دِکھائی دیا۔ اس کے باوجود، میرا رشتہ پنجابی زبان اور اس کی تہذیبی رُوح سے آج بھی اتنا ہی مضبوط اور زندہ ہے۔

س: کیا اردو ادب عورت کے مسائل حقیقی انداز میں پیش کر رہا ہے؟

ج: اردو ادب نے عورت کے دُکھ، محرومی، داخلی کرب اور معاشرتی جبر کو ضرور موضوع بنایا ہے، مگر ابھی یہ سفر مکمل نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں ادب کی بڑی روایت مرد قلم کاروں نے تشکیل دی، اِس لیے اکثر عورت کو ایک کردار، علامت یا جذبے کے طور پر دیکھا گیا، ایک مکمل انسان کے طور پر کم سمجھا گیا۔

اگرچہ عصری ادب، خصوصاً خواتین لکھاریوں کے ہاں، عورت کی نفسیات، شناخت، خواب، خوف اور سماجی جدوجہد زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں سامنے آئی ہے، مگر اب بھی عورت کے مسائل کو وہ فکری اور عملی سنجیدگی نہیں مل سکی، جس کی ضرورت ہے۔

ادب صرف جنس کا مقدمہ نہیں، انسان کی داخلی سچّائی کا آئینہ ہوتا ہے اور جب تک عورت کو بھی مکمل انسانی وجود، شعور اور تجربے کے ساتھ نہیں دیکھا جائے گا، یہ بیانیہ ادھورا رہے گا۔ تاہم، خوش آئند بات یہ ہے کہ نئی نسل کا ادب اب عورت کو محض موضوع نہیں، بلکہ ایک خودمختار آواز کے طور پر قبول کرنے لگا ہے۔

س: آئندہ کے کیا منصوبے ہیں؟

ج: میرے نزدیک ادبی زندگی ایک مسلسل جستجو، ایک ناتمام سفر ہے۔ مستقبل کے حوالے سے میری خواہش محض مزید کتابوں کا اضافہ نہیں، بلکہ ایسے فکری اور تخلیقی آثار کی تشکیل ہے، جو اپنے عہد کی رُوح کو منعکس کریں اور آنے والے زمانوں کے لیے بھی معنویت کا سرمایہ بن سکیں۔

بطور ادیبہ میری خواہش ہے کہ نئی نسل میں ایسے اہلِ قلم پیدا ہوں، جو روایت کی گہرائی، عصرِ حاضر کی بصیرت اور مستقبل کے امکانات کو ایک ہی تخلیقی دھارے میں سمو سکیں۔ میرا اگلا منصوبہ کوئی نیا عُہدہ یا نئی کتاب نہیں، بلکہ آگہی کے اِس سفر کو مزید وسعت دینا ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید