• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جذبہ ایمانی نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا

ارشد مبین احمد

ڈاکٹر محمّد کمال اسمٰعیل، مصر سے تعلق رکھنے والے مشہور ماہرِ تعمیرات تھے۔ اُنہوں نے حرمین شریفین یعنی مسجد الحرام اور مسجدِ نبویؐ کی ڈیزائننگ اور توسیع میں اہم کردار ادا کیا، لیکن چوں کہ وہ ایک گوشہ نشیں اورخبروں کی دُنیا سے دُور رہنے والےشخص تھے، لہٰذا اُن سےمتعلق لوگ بہت کم معلومات رکھتے ہیں۔ وہ 1908ء میں پیدا ہوئے اور 2008ء میں جہانِ فانی سے رخصت ہوگئے۔

محمّد کمال اسمٰعیل نے 1930ء کی دہائی میں قاہرہ یونی ورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی اور پھر فرانس کی بوزال یونی ورسٹی سےآرکیٹیکچر اور انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کیا۔ بعدازاں، وہ مصر کی ایمیری بلڈنگ اتھارٹی سے وابستہ ہوئے اور 1948ء میں ترقی کرتے ہوئے اس کے ڈائریکٹر بن گئے۔ اس دوران انہوں نے کئی بڑے تعمیراتی منصوبوں کی تکمیل میں اہم کردارادا کیا، جن میں مصر کی ہائی کورٹ کی عمارت اور صلاح الدین مسجد بھی شامل ہیں۔

ڈاکٹرمحمّد کمال اسمٰعیل نے 1990ء کی دہائی میں حرمین شریفین کی توسیع اور ڈیزائننگ کے تاریخی منصوبوں میں اہم کردار ادا کیا، لیکن اُس وقت کے سعودی فرماں روا، شاہ فہد اور بن لادن کمپنی کی کوششوں کے باوجود اُنہوں نے اپنی خدمات کامعاوضہ لینے سے انکارکر دیا اور ایک خطیر رقم کا چیک لوٹاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر مَیں حرمین شریفین کے لیے خدمات ادا کرنے کے عوض رقم لیتا ہوں، تو بروزِ قیامت اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھاؤں گا؟‘‘

واضح رہے، ان تاریخی منصوبوں کی تکمیل پراربوں ڈالرز کی لاگت آئی تھی اور اگر ڈاکٹر کمال اسمٰعیل چاہتے، تو اس پیش کش کو قبول کر کے ایک خطیر رقم کے مالک بن سکتے تھے، لیکن اُنہوں نےدنیاوی منفعت کی بجائےاُخروی انعام کوترجیح دی۔

ڈاکٹر کمال اسمٰعیل نے 44 سال کی عُمر میں شادی کی۔ ایک بیٹے کی پیدائش کے بعد اُن کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا، جس کے بعد اُنہوں نے دوسری شادی نہیں کی اور اپنی پوری زندگی حرمین شریفین کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے کسی ستائش اور صلے کی تمنّا کے بغیر ہی حرمین شریفین کے لیے خدمات انجام دیں اور مرتے دَم تک خُودنمائی سےدُور رہے۔

ذیل میں ڈاکٹر محمّد کمال اسمٰعیل کی زندگی کا ایک ایمان افروز واقعہ پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا کہ جب وہ حرمین شریفین کی توسیع اور ڈیزائننگ میں مصروف تھے۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ جذبۂ ایمانی سے ناممکن کو بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

اس اجمال کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ مسجد الحرام میں لگانے کے لیےایسے سنگِ مرمر کی ضرورت تھی، جو گرمی میں بھی ٹھنڈا رہے اور یہ پتّھر صرف یونان کے پہاڑ میں پایا جاتا تھا۔ لہٰذا، ڈاکٹر کمال اسمٰعیل سعودی عرب سے یونان گئے اور بیت اللہ شریف کے لیے اس پتّھر کا تقریباً آدھا پہاڑ خریدنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ بعدازاں، یہ سنگِ مرمر حرم شریف کے فرش پر لگایا گیا۔

تاہم، مسجد الحرام کی توسیع مکمل ہونے کے کم و بیش 15 برس بعد سعودی فرماں روا نے ڈاکٹر کمال سے وہی سنگِ مرمر مسجد نبویؐ میں بھی استعمال کرنے کی فرمائش کی۔ اب چوں کہ اس واقعےکو15برس گزرچُکے تھے اور وہ پتّھر صرف یونان کے پہاڑ ہی میں پایا جاتا تھا اور نصف پہاڑ وہ خُود پہلے خرید چُکے تھے، لہٰذا یہ سوچ کر پریشان ہوگئے کہ نہ جانے اب وہ خاص سنگِ مرمر ملتا بھی ہے یا نہیں۔

بہرکیف، ڈاکٹر کمال اسمٰعیل دوبارہ اُسی یونانی کمپنی کے سی ای او کے پاس گئے اور اُن سے باقی بچنے والے ماربل سے متعلق میں استفسار کیا، تو اس نے بتایا کہ ’’وہ ماربل تو ہم نے آپ کے جانے کے بعد ہی کسی کو فروخت کردیا تھا۔‘‘ یہ سُن کر ڈاکٹر کمال کی پریشانی مزید بڑھ گئی، لیکن انہوں نے ہمّت نہیں ہاری۔ وہ وہاں موجود آفس سیکریٹری سے ملے اوراس سے گزارش کی کہ’’مُجھےاس شخص کا پتا بتائیں، جس نے باقی ماندہ ماربل خریدا تھا۔‘‘اُس نےجواب دیا کہ ’’15برس پرانا ریکارڈ تلاش کرنا بہت مشکل کام ہے، لیکن آپ مُجھے اپنا فون نمبر دیجیے۔ مَیں اُس کا نام و پتا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔‘‘

اُنہوں نے آفس سیکریٹری کو اپنا فون نمبر اور ہوٹل کا ایڈریس دیا اور اپنے ہوٹل واپس آگئے۔ ماربل کمپنی کے دفتر سے نکلنے سے پہلے ہی ڈاکٹر کمال اسمٰعیل نے یہ سوچ کر سارا معاملہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا کہ ’’کسی نے بھی ماربل خریدا ہو، اللہ تعالیٰ خُود ہی بندوبست کر دے گا۔‘‘ پھر اگلےروز روانگی سےکچھ دیر قبل انہیں اطلاع ملی کہ باقی ماندہ ماربل کا خریدار مل گیا ہے۔

ڈاکٹر کمال یہ سُن کر بہت خوش ہوئے، لیکن اس کے ساتھ ہی اُنہیں یہ دھڑکا بھی لگا ہواتھا کہ اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد اس خریدار سے ملاقات بھی ہو پائے گی یا نہیں۔ بہرکیف، جب وہ ماربل کمپنی کے دفتر پہنچے، تو سیکریٹری نے سنگِ مرمر کے خریدار کا ایڈریس اُن کےسپرد کردیا۔ ڈاکٹر کمال نے وہ پتا دیکھا، تو کچھ دیرکے لیے دم بخود رہ گئے، کیوں کہ باقی ماندہ ماربل کی خریدار ایک سعودی کمپنی تھی۔

ڈاکٹرکمال اسمٰعیل سعودی عرب پہنچنے کے بعد فوراً ماربل خریدنے والی کمپنی گئے اور اس کے مالک سے ملاقات کی۔ اُنہوں نے کمپنی کےمالک سے پوچھا کہ ’’آپ نے یونان سےخریدا گیا سنگِ مرمر کہاں استعمال کیا؟‘‘ اُس نے اپنے اسٹور فون کر کے ماربل سے متعلق پوچھا، تو جواب ملا کہ ’’وہ سارا ماربل جوں کا توں اسٹور ہی میں موجود ہے اور گزشتہ 15 برس کے دوران اُسے کہیں استعمال ہی نہیں کیا گیا۔‘‘ یہ سُن کر ڈاکٹر کمال ایک بچّے کی مانند بِلک بِلک کررونے لگے۔

اُنہوں نےکمپنی مالک کو پوری کہانی سُنائی اورایک بلینک چیک دیتے ہوئے کہا کہ ’’تمہیں جتنی بھی رقم چاہیے، اس پرلکھ دو، لیکن وہ سارا ماربل میرے حوالے کردو۔‘‘ لیکن کمپنی مالک نے یہ کہتے ہوئے رقم لینے سے انکار کردیا کہ ’’یہ سارا سنگِ مرمر مسجدِ نبویؐ کے فرش میں استعمال ہوگا اور میری غیرتِ ایمانی گوارا نہیں کرتی کہ مَیں اِسے کسی کو فروخت کروں۔ شاید مَیں اسی لیے یہ ماربل استعمال کرنا بھول گیا تھا کہ اِسے ایک روز مسجدِ نبویؐ میں لگایا جانا تھا۔‘‘

بعدازاں، یہی سنگِ مرمر، اُس مسجدِ نبویؐ کی زینت بنا کہ جس کی بنیاد پیغمبرِ اکرم، حضرت محمدﷺ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے رکھی تھی اور اس کی تعمیر میں خلفائے راشدینؓ نے حصّہ لیا تھا اور وہ بھی کیسے خوش بخت لوگ ہیں کہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے دُنیا کے مقدّس ترین مقامات کی توسیع اور تزئین وآرائش کے لیے منتخب کیا۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر کمال اسمٰعیل کو جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں حرمین شریفین کی زیارت اور نیک اعمال کی توفیق نصیب کرے۔ آمین۔

سنڈے میگزین سے مزید