کشمیری مسلمانوں کی تحریکِ آزادی کسی وقتی ردِعمل یا عارضی مطالبے کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ دو صدیوں پر محیط ایک ایسی جہد ِمسلسل ہے کہ جس کی بنیاد قربانی، استقلال اور ایمان پر رکھی گئی۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے اپنے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کی، اُسے ظلم و ستم، جبر و تشدد اور ریاستی دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا۔
کشمیر کی سرزمین بھی ایسی ہی قربانیوں کی امین ہے، جہاں ہر گھڑی، ہر لمحہ کسی ماں کی گود اُجڑتی ہے، کسی بہن کے سَر کی چادر تار تار کی جاتی ہے اور کسی باپ کے سامنے اُس کے لال کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے، لیکن یہ ظلم و ستم قربانیاں دیتے کشمیری عوام کے حوصلےکم زور نہیں بلکہ مزید مضبوط کررہے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی ظالم نےسرزمینِ کشمیر پر اپنے ناپاک پنجے گاڑنے کی کوشش کی، تو کشمیریوں کے ایمان، غیرت اور حریُت نے اسے للکارا۔ کشمیر کی تاریخ میں 13 جولائی 1931ء وہ تاریخی دن ہے کہ جو مسلمانوں کی مذہبی آزادی، قومی غیرت اور اجتماعی شعور کے احیاء کا یوم بن کر اُبھرا۔
تب ایک جانب مذہبی خطبات کو بغاوت قرار دیا جا رہا تھا تو دوسری طرف قرآنِ کریم کی توہین اور نمازِ عیدین پر پابندی سمیت دیگر شعائرِ اسلام کی کھلم کھلا بےحُرمتی کی جا رہی تھی اور ایسے میں کشمیری قوم کے نمائندے سیاسی بصیرت، دینی حمیّت اور قومی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ظُلم وجور کے خلاف ڈٹ گئے اور پھر اُس دَور کے مجاہد، عبدالقدیرخان کی پُرجوش تقریر، اس کے نتیجے میں اُن کی گرفتاری اور اس کے بعد رُونما ہونے والے دیگر واقعات نے کشمیری مسلمانوں کی تحریک کو ایندھن فراہم کیا اور کشمیری مسلمانوں کا یہی جذبہ تحریکِ آزادی کی بنیاد بنا۔
تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ 13جولائی 1931ء کو کشمیری مسلمان عبد القدیر خان کے خلاف ناجائز ریاستی مقدمے کی سماعت کے حوالے سے ایک جگہ جمع ہوکراحتجاج کر رہے تھے کہ نمازِ ظہر کا وقت آن پہنچا۔ اس موقعے پر پولیس نے احتجاجی ریلی میں اذان دینے پر گولی مار کر مؤذن کو شہید کر دیا۔ پہلے مؤذن کی شہادت پر دوسرے مؤذن نے جگہ لے لی، تو اُسے بھی گولی مار دی گئی۔ اذان مکمل کرنے لیے تیسرا شخص آگےآیا، تو اُسے بھی شہید کردیا گیا اور پھر اُس کی جگہ چوتھے شخص نے لے لی اوراس کا انجام بھی پہلے تین مؤذنین کی طرح ہوا۔
جب کشمیری مظاہرین کو اذان سے باز رکھنے کی پولیس کی ہرکوشش ناکام ہوگئی، تو اُس نےاندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ تاہم، مسلمان اُس وقت تک پیچھے نہ ہٹے، جب تک کہ اذان مکمل نہ ہوگئی اور اس دوران یکے بعد دیگرے 22 مؤذنین نے جامِ شہادت نوش کیا، جب کہ ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ان شہداء کو خواجہ بہاؤ الدین نقش بندی کے مزار سے ملحقہ قبرستان میں دفن کیا گیا اور اُس وقت سے یہ مزار اور قبرستان شہداء سے منسوب ہے۔
اس سانحے کی یاد میں دُنیا بَھر میں ہر سال 13 جولائی کو ’’یوم شہدائے کشمیر‘‘ منایا جاتا ہے۔ پہلے اس روز مقبوضہ کشمیر میں عام تعطیل ہوا کرتی تھی، مگر مودی سرکار نے 2019ء میں 13جولائی کی سرکاری تعطیل ختم کر کے کشمیر کی تاریخ کو بدلنے کی ناکام کوشش کی۔ نتیجتاً آج بھی قابض بھارتی فوج اور انتہا پسند ہندوؤں نے جنت نظیر وادی کو ظلم کی آماج گاہ بنا رکھا ہے۔
وادیٔ کشمیر جتنی خُوب صُورت ہے، اُس کے باسی اتنے ہی بد قسمت ہیں۔ اس کا اندازہ اس بات سےلگایا جا سکتا ہے کہ 1832ء میں مہاراجا رنجیت سنگھ کی فوج کے خلاف لڑنے والے بہادر کشمیری رہنماؤں سردار سبزعلی خان اور سردار ملی خان سمیت کئی حریّت پسندوں کی کھالیں تک ادھیڑ لی گئیں۔ 1846ء میں انگریز سام راج نے ظلم کی ایک نئی مثال قائم کی اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے کشمیر کو صرف 75 لاکھ روپے کے عوض ڈوگرا راجا گلاب سنگھ کے ہاتھ فروخت کردیا۔ مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی کہانیاں نہ صرف طویل ہیں بلکہ ناقابلِ یقین حد تک دردناک بھی ہیں۔
آج 2026ء میں بھی بھارت نے حریّت پسند رہنماؤں کوغیرقانونی طور پر پابندِ سلاسل کر رکھا ہے، جن میں مسرّت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبّیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی اور دیگر رہنما، کارکنان اور نوجوان شامل ہیں۔ بھارتی مظالم کا یہ سلسلہ یہیں پراختتام پذیر نہیں ہوتا بلکہ انڈین فورسز ان اسیروں پر بے پناہ تشدّد بھی کر رہی ہیں، تاکہ یہ آزادی کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں، لیکن کشمیری باشندے تشدّد کے ہر ہتھکنڈے کا جواب آزادی اور پاکستان سے اظہارِ محبّت کی صُورت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں اُن پر تشدّد مزید بڑھا دیا جاتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں سخت پابندی کے باوجود ہر سال 13جولائی کو’’یومِ شہدائے کشمیر‘‘ ضرور منایا جاتا ہے، تاکہ اُن شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھا جا سکے کہ جنہوں نے مذہبِ اسلام، اسلامی تہذیب اورآزادی کی شمع کو اپنے خون سے روشن رکھا۔ اس موقعے پرمائیں اپنے بچّوں کو اُن شہداء کی کہانیاں سناتی اور یہ باور کرواتی ہیں کہ اقوام کو ظلم کی زنجیروں میں تو قید رکھا جا سکتا ہے، لیکن ان کے خوابوں، جذبات اور ایمان پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ ان شہداء کے لہو نے کشمیر کی مٹی میں ایسی حرارت بھردی ہے کہ جو آج بھی کشمیری بچّوں، نوجوانوں ، بزرگوں اور خواتین کے لہجے میں حریّت کی خوش بُو بن کر مہکتی ہے۔
درحقیقت ’’یومِ شہدائے کشمیر‘‘ مقبوضہ خطّے کے بہادر اور جاں باز حریّت پسندوں کی جہدِ مسلسل کا ایک درخشاں باب ہے اور آج بھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا مختلف مواقع پر پاکستان سے اظہارِمحبت اُن کی پاکستان سے لازوال وابستگی کا شان دار مظہر ہے۔
ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہم بھی اپنی نسلِ نو کو بتائیں کہ اقوام کو اپنی آزادی کی قیمت اپنی قیمتی جانیں دے کر چُکانی پڑتی ہے، نیز تمام مسلمانوں کا دُکھ اور غم سانجھا ہے اور کشمیری نہ صرف پاکستان سے محبّت کرتے ہیں بلکہ وہ اس پاک دھرتی ہی کو اپنا حقیقی وطن سمجھتے ہیں اور آج بھی اپنے شہداء کو سبزہلالی پرچم میں لپیٹ کرلحد کے سُپرد کرتے ہیں۔
یاد رہے، بزرگ حریّت پسند رہنما، سیّد علی گیلانی مرحوم کشمیریوں کا لہو اس نعرے سے گرماتے تھے کہ ’’ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ سیّد علی گیلانی سمیت دیگر کشمیری شہداء کی قبروں پرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے، آمین۔
’’یومِ شہدائےکشمیر‘‘ کےموقعے پربحیثیتِ پاکستانی ہمیں کشمیری شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اِس عہد کی تجدید کرنی چاہیے کہ جب تک کشمیری مسلمان آزاد فضا میں سانس نہیں لیتے، نہ صرف ہماری آواز، ہمارے قلم اور ہمارے دِل ان کے ساتھ رہیں گے بلکہ ہم ہر سفارتی و ریاستی سطح پر بھی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ شہداء کا خون ہمارا قرض ہے، جسے ہم کبھی بھول نہیں سکتے۔ مقبوضہ کشمیر کی آزادی کا سورج ان شاءاللہ ضرور طلوع ہوگا، کیوں کہ ظلم کی رات، چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سورج کی کرنوں کو اندر داخل ہونے سے روک نہیں سکتی۔