• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بے مثل شاعر و عالم: ڈاکٹر پیر زادہ قاسم

شہرِ سمندر ہمیں مختلف حوالوں سے عزیز ہے۔ کچھ حوالے یادداشت کے ہیں، کچھ حوالے طاقِ نسیاں والے۔ تم پوچھو، ایسے کون گمبھیر راز ہیں، توصاحب! وہ داستان کسی دوسری شام کے لیے اُٹھا رکھتے ہیں۔ فی الحال تو کہانی اُس مشاعرے کی کہنا ہے، جہاں ہمیں ایک پوری لکھنوی ودہلوی کویتا، گنگا جمنی پریم رس میں ڈوبی، ایک شخص کی صُورت دکھائی دی۔ ایک شخص کہ جو سرتاپا تہذیب ہے۔ نہ محض ادیب نہ محض شاعر، ڈاکٹر پیر زادہ قاسم ایک شہرِ صد چراغ ہیں۔ خدا جانے کتنے برس قبل کا ذکر ہے۔

شہرِ سمندر یعنی کراچی میں آرٹس کونسل کا مشاعرہ تھا۔ منتظم ومہتمم کون؟جی ہاں، وہی احمد شاہ کہ جو اب پاکستانی ادب و ثقافت کو دُنیا بھر میں پہنچانے کا معروف ترین اور مستند ترین ذریعہ ہیں۔ مشاعرہ زوروں پرتھا،جب ہم نے پیرزادہ صاحب کودیکھا۔ پہلی نظر میں آنکھوں کے رستے دِل میں کُھب جانے والی شخصیت۔ خدوخال سیدھے اور تیکھے۔ پیشانی پر دستِ زماں نے جو باریک سی لکیریں کھینچ رکھی ہیں، وہ محض عُمر کے نشانات نہیں بلکہ تدبر کے اَن گنت دریچوں کا پتا دیتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے، جیسے ہرشکن میں کوئی شعر سویا ہوا ہو۔ سیاہ شیروانی میں خُوب دمک رہے تھے۔

پاجاما بھی لکھنوی انگ ڈھنگ کا۔ لانبی سی قامت۔ ہم قریب جاکر بیٹھ گئے۔ ہاتھ ملایا تو شخصیت ہی کی نرمی لمس میں بھی محسوس کی۔ انکساراُن کے انگ انگ سے پُھوٹتا ہے۔ ہم نےعرض کیا کہ رحمان فارس ہیں۔ فرمایا کہ ’’ہم آپ کوجانتےہیں۔ آپ بہت اچھا شعر کہتے ہیں۔‘‘ دل وجاں نہال ہی ہوگئے۔ کہاں مَیں، کہاں یہ مقام اللہ اللہ۔

عرض کیا کہ ’’آپ کو سامنے سامعین میں بیٹھ کرسُنیں گے۔‘‘ اُن کی باری آئی۔ ترنم شروع کیا تو تم یقین کرو، ہمارا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے۔ صاحب کیا بتائیں کہ کیا دل آویزی، دل رُبائی اور دل کشی تھی۔ تم گھنٹوں سُنو اور جی نہ بَھرے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ پیرزادہ صاحب کے لیے وہیں چار اشعار ہوئے، جو آج تک کسی کو نہیں سُنائے۔ ؎

مشاعرے میں ترنُم سے پڑھ رہا تھا کوئی

ترنُم ایسا کہ بہرے بھی شاد ہوجاتے

اگر وہ جانِ غزل لکھنؤ میں پڑھتا غزل

تو میر بھی ہمہ تن حرفِ داد ہوجاتے

جمالیات کی ضَو یُوں رواں تھی اُس کے ہاں

کہ مصحفی کو بھی وہ شعر یاد ہوجاتے

پھر اُس کے بعد بھلے چاند بھی سُناتا کلام

تو سامعین ذرا بے سواد ہوجاتے

خیر، یہ تو کچھ مصرعہ ہائےمعترضہ درمیان میں آن پڑے۔ بات یہ ہےکہ آج کل کےشاعرجو ترنّم سے پڑھتے ہیں، چاہے پاکستان کےہوں یا بھارت کے، وہ (بصد معذرت) فلمی موسیقی اورغزلیہ ترنّم میں فرق نہیں جانتے۔ اُدھر سرحد پار کی کچھ محترمائیں ہیں، تم مائیک اُن کے سپرد کرو تو الامان والحفیظ۔ ایک تو نتھلی، ماتھا جھومر لگا سنوار کر آئیں گی، پھر گلےبازی شروع ہوگی تو لَےکی تھتھیم ایک سے سولہ تک دکھائیں گی کہ دیکھیے صاحبو! ہمیں یہ بھی آتاہے۔

یہ رہا تتکارکا کمال۔ اجی سُنتے ہو؟ یہ بھیروں ہے، وہ بھی نئی تانتی میں۔ یہ غزل ایمن کلیان میں بنا کے لائے ہیں، بطورِ خاص آپ کے لیے۔ یہ سب کچھ ہوگا، مگر مجال ہے کہ کہیں غزلیہ، پُرسکون سُر لگا ہو۔ کمی صرف یہ بچے گی کہ دو ڈھائی سارنگیےغلاف اتار کر طربیں ملانے لگیں۔ ایک آدھ طبلہ نواز اپنی میلی گٹھڑی مٹھڑی کھول کردائیں کو ہتھوڑی سے ملائے اور پھر پنچم کا تان پورہ سُریلا کرے۔

اِدھراِس سب تام جھام کے بغیر ہمارے پیرزادہ بھلے تحت اللفظ ہی میں غزل سنائیں، تومشاعرہ پیٹ ڈالیں۔ ایسا کیوں بھلا؟ ارے بھئی، اُن کے پاس غزل ہے، خالص غزل۔ اور پھر چوبیس قیراط خالص سونے جیسی اس شخصیت پرغزلیہ ترنم کا سہاگا بھی ہو تو اللہ اللہ۔ جگرمُراد آبادی یاد آتے ہیں۔ آج کل تو بھیّا، ہمارے ہاں مشاعروں میں وہ لُدھڑ بھی ترنم سے پڑھتے ہیں کہ جن کا ترنم سُن کر آنکھیں نہ تر ہوتی ہیں نہ نم۔ وجہ؟ صاحب! ان میں ترنم کم کم اور بےسُری تانوں، مُرکیوں اور پلٹ پلٹ آنے والے پلٹوں کا بےہنگم پن ہے۔ ترنم تغزل کے ساتھ لُطف دیتا ہے۔ محض گلے بازی یا گائیکی کسی کو شاعر نہیں بنا سکتی۔

پیرزادہ قاسم کے بقول ’’شاعری میں جوفکرہے، اس کے اظہار کے لیے ترنم ضروری نہیں، لیکن جب کوئی چیز لحن کے ساتھ پڑھی جائے تو اُس کی اثرانگیزی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ سامع کی ذات کی اندرونی پرتوں میں جو سلسلے بنتے ٹوٹتے ہیں، ترنم اُن سے جُڑت کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ لیکن خیال رہے کہ شاعرانہ ترنم الگ ہے، گائیکی کا ترنم الگ۔‘‘مشاعرے کےبعد ہم تاک میں بیٹھے رہے کہ موصوف کھانے کی میز پر جہاں بھی تشریف رکھیں، ہم بھی اُچک کر پہلو میں آن بیٹھیں۔ اور ہماری سازش کام یاب رہی۔ پہلو میں جگہ بھی میسّر آگئی اور گفتگو کا موقع بھی۔

شائستگی اُن کی فطرت کا حصّہ ہے۔ خُود ہی سوچو کہ کیا دَورچل رہا ہے! مگر گالی گلوچ، دھکامُکی اور لپاڈگی کے اس دَور میں دھیرج اور دھیمے پن سے بھرا یہ شخص اپنے آپ میں بھولی بسری روایات کی جامعہ اور متروک مُحاسن کا مجموعہ ہے۔ اُن کی ہر ادا مروت کا ادارہ ہے کہ تُم آن کی آن اِن کے دالان میں آن بیٹھو اور سیکھ لو۔ مجھے لگا کہ یہ تُو اُس دَور کے ہیں، جب گلی میں آکرسقہ بصد ادب کہا کرتا تھا کہ ’’حضور! آبِ حیات پلاؤں؟

فلاں کنویں کا ہے۔‘‘ جس طرح سوندھ پن اور داغ کا مزہ کھیر میں وہی بتا پائےگا، جو نانی، دادی کے ہاتھ کا ذائقہ یاد میں لیے پھرتا ہے۔ اِسی طرح پیرزادہ قاسم کی شخصیت کا رچاؤ علم میں رچے پُچے دل ہی جان پہچان سکتے ہیں۔ اُنہیں دیکھ کر لگا، پیرزادہ ادبی سیاست کی دانتاکل کل سے دُور اور مشاعراتی جھپا جھپ سے جھینپتے ہیں۔

ان کی ایک تصویر دیکھ کر دھیان میں خیال در آیا کہ اُن کی صُورت مُورت جناح سےکس قدر ملتی ہے۔ وہی نازک سا پیکر، مگر عزمِ مصمّم بھرا چہرہ۔ وہی پتلے دُبلے ہاتھ پاؤں مگر سینہ فولاد سا۔ تسلیم کہ پیرزادہ نازک سے لگتے ہیں، مگر تم خُود ڈھونڈ ڈھانڈ کر بتادو۔ اور میاں میرے! خدا لگتی کہنا۔ کیا آج کل ان کے پائے کی شخصیات خال خال نہیں؟ سچ ہے کہ ہُنر اور فن میں گاؤ زوری نہیں چلتی۔

یہ صاحب اپنی ذات میں انوکھے ہیں۔ سائنس کی طرف رُجحان اور شاعری کی طرف میلان یعنی ایک پرت سائنس دان تو ایک پرت صاحبِ دیوان، کہاں تجربہ گاہِ منطق و دلیل، کہاں شعر و سخن کی سبیل۔ اُنہوں نے ان دو مختلف الاصل چراغوں کو ایک ہی طاق میں روشن کر رکھا ہے اور لُطف کی بات یہ ہے کہ دونوں کی لَویں ایک دوسری میں مدغم اور ضم ہو کر کم یا مدھم نہیں ہوتیں، مزید چمک دمک اُٹھتی ہیں۔

خُود بتاتے ہیں کہ جب یہ لڑکے بالے تھے تو رجحان یہی تھا کہ یا تو لڑکا ڈاکٹر بنے اور مسیحا کی صُورت مریضوں کے درد کا درماں کرے یا انجینئر بنے اور ایجاداتِ نَو سے نوعِ انساں کی زندگی آساں کرے۔ اب چُنیں تو کیا چُنیں؟ لیکن پیرزادہ قاسم کے دل کی اندرونی ترین پرتوں میں کہیں ایک پُراسرار قندیل روشن تھی اور وہ تھی درس و تدریس سے منسلک ہوجانے کی خواہش۔ خدا شَکرخورے کو شَکر دے ہی دیتا ہے۔ سو، اللہ نے ہمارے شاعرِ شکر لب کو اُس کی تمنائے دل کےعین مطابق درس و تدریس سے متعلق کردیا۔ پچاس برس سے زیادہ یہی شغلِ سنجیدہ رہا۔ بجاطور پر کہہ سکتے ہیں کہ یہ نصف صدی کا قصّہ ہے، دو چار برس کی بات نہیں۔

سُہیل ضرار خلش ہمارے برادرِعزیز، اسلام چینل برطانیہ کی ایک معتبر آواز، بہترین منتظم اور بہترین شاعر ہیں۔ برطانیہ میں اُردو زبان وادب کے حوالے سے اُن کی خدمات اہلِ نظر سے پوشیدہ نہیں۔ صاحبانِ علم و ہنرشخصیات کی گہری پرتوں تک رسائی اور ریسرچ اُن کا علمی و ادبی مشغلہ ہے۔ اُن سے ایک ملاقات میں پیرزادہ صاحب نےکُھل کر اپنے بچپن، لڑکپن کی بارے میں گفتگو کی۔ بولے کہ گھر میں تصوّف کا ماحول تھا۔ والد بھی شاعر، دادا بھی صاحبِ کتاب شاعر، گھرانے میں ایک خانقاہی نظام بھی تھا۔ لحن میں جودل گدازسوزعطا ہوا، وہ والدہ کی جانب سے ہے۔

مزید فرمایا کہ کوئی بھی زمانہ ہو، گھر کے واقعات و حالات بچّے کی تربیت و شخصیت پر بہت اثر کرتے ہیں۔ لیکن محض گھر کا ماحول کافی نہیں ہوتا۔ کیوں کہ بھائیوں میں کسی نے شعر نہیں کہا۔ ویسے گھرکا ہرفرد اگر چاہتا تو شعر کہہ سکتا تھا، کیوں کہ شعر کو سمجھنا، مصرعہ موزوں کرنا تو خیر گھر کی تربیت سے آجاتا ہے۔ طالبِ علمی کے دورمیں ٹیلی ویژن وغیرہ کا اتنا رواج نہیں تھا۔ لڑکے بالے کاغذ قلم لیے ایک ڈائری میں اپنے پسندیدہ شعر نوٹ کرتے تھے۔ پھر اس کا چرچا ہوتا تھا، اُس پر بات ہوتی تھی۔

اِسی گفتگو نے شعر کہنا سکھا دیا۔ اور پھر پیرزادہ قاسم نے ایسی غزل اور ایسی نظم کہی کہ زبانِ اردو جہاں جہاں بولی، سُنی، پڑھی، برتی، چاہی، سراہی، جانی، مانی اور پہچانی جاتی ہے، وہاں وہاں اُن کا نام گونجا اور آج تک گونج رہا ہے۔ غزل کی طرف رجحان البتہ زیادہ رہا۔ اب تک کے تینوں مجموعوں میں نظمیں شامل ہیں، مگراُن کی غزلیں زیادہ لوگوں کی توجّہ کا مرکز رہیں اور تاحال ہیں۔ اشعار تو دیکھیے، صاحب! ؎

گاہ گاہ وحشت میں گھر کی سمت جاتا ہوں

اس کو دشتِ حیرت سے واپسی نہ سمجھا جائے

خاک کرنے والوں کی کیا عجیب خواہش تھی

خاک ہونے والوں کو خاک بھی نہ سمجھا جائے

؎ سانحہ نہیں ٹلتا سانحے پہ رونے سے

حبسِ جاں نہ کم ہوگا ،بے لباس ہونے سے

؎ شہر طلب کرے اگر تم سے علاجِ تیرگی

صاحبِ اختیار ہو، آگ لگا دیا کرو

’’تُند ہوا کے جشن میں‘‘، ’’شعلے پہ زباں‘‘ اور ’’بے مسافت سفر‘‘ ان کے بےمثال شعری مجموعے ہیں۔ تب شاید صبر و ضبط کا زمانہ تھا۔ پیرزادہ صاحب کے قریبی دوست جون ایلیا نے بھی ساٹھ باسٹھ برس کی عُمر میں پہلا مجموعہ دیا۔ ان کے کئی پیش رَو بھی اساتذہ کا مقام پانے تک اپنی کتاب نہیں لائے۔ جمال احسانی کا ایک شعر ہے۔ ؎

جمال کھیل نہیں ہے کوئی غزل کہنا

کہ ایک بات بتانی ہے، اِک چُھپانی ہے

آج کل چُھپانے کا رُجحان نہیں رہا۔ جس ذکر کو پوشیدہ، ملفوف اور ڈھکا چُھپا رہنا چاہیے، اُسے بھی سرِبازار عیاں بلکہ عُریاں کیاجارہا ہے، وہ بھی انتہائی بدسلیقگی، پھوہڑپن اور بھونڈے انداز سے۔ بات کہنے کا سلیقہ، قرینہ طریقہ سِرے سے موجود ہی نہیں۔ ’’کاتا اور لے دوڑی‘‘ کا رُجحان ہے۔ صاحب زادے نے نومشقی مگر وارداتِ عشقی کے زیرِ اثر رات گیارہ بجے لشتم پشتم غزل کہہ لی، تو رات گیارہ ہی بج کر ایک آدھ منٹ پراُسے فیس بُک پر ضرور جڑ دیویں گے کہ مُستحقین تک پہنچ جائے، چند ہی ثانیوں بعد ایک آدھ شعر انسٹا گرام پر چمکا کر اپنے تئیں میر اور بےوزن پڑھنت میں دو ڈھائی شعر کی ویڈیو یُوٹیوب پر چپکا کر بزعمِ خود غالب بن بیٹھیں گے۔

لو بھئی، ہوچُکا شاعری کا حق ادا اور ہوچُکی ادبِ عالیہ کی خدمت۔ اُستاد یوسفی کہا کرتے تھے کہ بھئی، ہم تو جو کُچھ نیا لکھتے ہیں، کسی مٹکے میں بند کر کے زمین میں داب دیتے ہیں کہ چھے ماہ سال بھر میں نکال کردیکھیں گے کہ کوئی دَم ہے یا نرے سوختنی ہیں۔ پیرزادہ کے عالمِ شباب میں صاحبِ کتاب بننے میں ایک حجاب بھی حائل تھا۔ جونیئر شاعر اپنے سینئرز کو دیکھا کرتے کہ صاحب! ابھی تو فُلاں ابنِ فلاں اور فُلاں ابنِ فُلاں کا مجموعہ بھی نہیں چھپا اور وہ دونوں ہم سے بہت سینئر ہیں۔

ہم بھلا بےادب بن کر کتاب کیسے چھاپ دیں؟ مگر وہ دن گئے کہ خلیل میاں ادب و احترام کی فاختہ اُڑایا کرتے تھے۔ آج کل تو خلیل میاں فاختہ کو عُمرِ شرعی تک پہنچنے سے پہلے ہی بھون کرکھا جاتے ہیں۔ پیرزادہ فرماتے ہیں کہ شعر کہنے کا شوق اور اُسے منظرِعام پرلانے کی خواہش اپنی جگہ، مگرجدید پلیٹ فارمز یعنی سوشل میڈیا کو بھاگم دوڑ کی بجائے سیکھنے کے عمل کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتاہے کیوں کہ انہی مقامات پرآپ کواصلاح، بہتری اور بڑھوتری کے امکانات بھی بہم ہوسکتے ہیں۔

فرماتے ہیں کہ شاعری محض زندگی کی تصویر نہیں، تفسیر ہونی چاہیے۔ تب کہیں زندگی کی تہہ داریاں، انسانیت کی فلاح اور مافی الضمیر کے سچے اظہار جیسے ارفع مقاصد کی بذریعہ ادب تکمیل ہوتی ہے۔ مُشاعرے عمومی ذوق کی تسکین کا ذریعہ تو ہیں، مگر اُنہیں ثقافت کا عَلم بردار بھی بننا چاہیے۔

ڈاکٹرسید ابوالخیر کشفی ان کے راست اُستاد تھے اور پیرزادہ اپنی کسی گفتگو میں اپنے اساتذہ کوخراجِ تحسین پیش کرنا نہیں بھولتے۔ شاگردِ رشید کے بقول کشفی صاحب محض زبان وادب نہیں، زندگی پڑھایا کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ جو بھی شاعر وادیب ہے، یہ اُس کی ذمّے داری ہے کہ اپنے کاندھوں پر بدلتی ہوئی ساری دُنیا کا بوجھ سہار سکے۔ سائنس کے طالبِ علم کو ’’دو اور دو چار‘‘ سے نکال کرغزلیہ کیفیت سے دو چار کر ڈالنے میں انہی دوچاراساتذہ کاہاتھ تھا۔

پیرزادہ اپنی نسل کو خوش قسمت گردانتے ہیں کہ اُنہیں نثر و نظم کے ایسے نادرِروزگار اساتذہ اور پیش رَو میسر آئے کہ جن کا ایک ہی زمانے میں مجتمع ہوجانا کسی ادبی کرامت سےکم نہ تھا۔ فیض صاحب، کیفی اعظمی، علی سردار جعفری، اخترالایمان، احمد ندیم قاسمی، کیا کیا ستارے چمک رہے تھے۔ اُن کے بقول جون ایلیا کو فی الحال نسلِ نَو محض فوری طور پر دل کو لگنے والے اشعار کے پرتو میں ہی پرکھ رہی ہے، لیکن جون ایک بے بدل اسکالر تھے۔ جون کے اندرونے کی عالمانہ جہت کو تلاش کرنا چاہیے۔

ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی اُن صاحبانِ کمال میں سے ہیں، جن پر اہلِ علم کی ہمیشہ نگاہِ قدرومنزلت ہی ٹھہرتی ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کی تدبیر و تنظیم، درس و تدریس کی آب یاری، تحقیق و تفکّر کی شمع افروزی اورجامعات کی کشتی کو بھنور سے نکال کر کنارے لگانے کا ذکر ہو تو ان کانامِ نامی ضرور بالضرور آئے گا۔ نصف صدی سے زیادہ کا زمانہ انھوں نے علم کی خدمت میں اس طرح بسر کیا کہ نہ قدم ڈگمگائے، نہ حوصلہ پست ہوا۔ عُمربھر قلم بھی ہاتھ سے نہ چھوٹا اور انتظام کی باگ بھی مضبوطی سے تھامے رکھی۔

آج بھی جامعۂ ضیاء الدین، کراچی کے منصبِ شیخ الجامعہ پر متمکّن ہیں۔ گئے دِنوں میں جامعۂ کراچی سے بی۔ ایس سی (آنرز) اور ایم۔ایس سی کی اسناد حاصل کیں۔ پھر جستجو کا دامن تھامے دیارِ فرنگ پہنچے اور انگلستان سے ڈاکٹریٹ کی سند لے کر لوٹے۔

علم کا دریا جتناپیا، اُتنی ہی پیاس بڑھی۔ چناں چہ بنکاک کے ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے پیشہ ورانہ ترقی کا سندنامہ حاصل کیا اور برطانیہ کی لیڈر شپ فاؤنڈیشن فار ہائر ایجوکیشن سے اعلیٰ تعلیمی قیادت کی تربیت بھی پائی۔ پاکستان کی سرکاری اور نجی جامعات میں شیخ الجامعہ کی ذمّےداری انھوں نے سولہ برس تک ایسی دیانت، تدبراور خوش اسلوبی سے نبھائی کہ دوست بھی معترف ہوئے اور مخالف بھی انگشت بدنداں رہ گئے۔

صاحبو! روایاتِ اُردو جب جب مقاماتِ تہذیب سے ملیں گی، اُن کے سنگم پر پُھوٹنے والا ٹھنڈا میٹھا چشمہ ہمیشہ ’’ڈاکٹر پیرزادہ قاسم‘‘ کی صُورت ہی میں نمودار ہوگا۔

(خاکہ نگار اسلام آباد میں تعینات سینئر بیوروکریٹ، نہایت مقبول شاعر اور بہترین کالم نگار ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید