• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈیجیٹل اثاثوں کی شرعی حیثیت، مفتی تقی عثمانی کیساتھ تعمیری اور مفید بات چیت ہوئی، چیئرمین ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی

اسلام آباد ( ٹی وی رپورٹ،ایجنسیاں) پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نےکہا ہےکہ انکی مفتی تقی عثمانی صاحب کے ساتھ ڈیجیٹل اثاثوں (Digital Assets) اور انکی شرعی حیثیت سے متعلق جاری مباحثے پر ایک تعمیری اور مفید بات چیت ہوئی۔ ایکس پر جاری بیان میں بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ وہ اور مفتی تقی عثمانی ایک بنیادی مقصد پر متفق ہیں اور وہ یہ ہےکہ پاکستانی عوام کو دھوکہ دہی، استحصال اور مالی نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔ بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ مفتی تقی عثمانی سے ملاقات میں انہوں نے یہ مؤقف پیش کیا کہ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثے، اسٹیبل کوائنز (Stablecoins) اور حقیقی اثاثوں پر مبنی ٹوکنائزڈ اثاثے (Tokenized Real-World Assets) مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز پر مشتمل ایک وسیع میدان ہیں، اس لیے ان کا جائزہ ایک ہی زاویے سے لینےکے بجائے، انکی تکنیکی نوعیت کا باریک بینی سے تجزیہ کرنےکے ساتھ ساتھ ان کا جامع شرعی جائزہ بھی ضروری ہے۔ بلال بن ثاقب نے مزیدکہا کہ چونکہ یہ شعبہ مسلسل ترقی کر رہا ہے، اس لیے میری خواہش ہےکہ معزز علمائے کرام، متعلقہ ریگولیٹری اداروں اور صنعت سے وابستہ ماہرین کے درمیان مسلسل مشاورت اور مکالمہ جاری رہے، تاکہ پاکستان کی پالیسی اسلامی اصولوں اور ابھرتی ہوئی جدید ٹیکنالوجیز کی مکمل اور درست سمجھ کی بنیاد پر مرتب کی جاسکے۔خیال رہےکہ گزشتہ دنوں صدر وفاق المدارس العربیہ و دارالعلوم کراچی مفتی محمد تقی عثمانی کا کرپٹو کرنسی سے متعلق فتویٰ سامنے آیا ہے۔ مفتی محمد تقی عثمانی کے مطابق ماہرین کی اب تک کی تحقیق اور رائے کے مطابق کرپٹو کرنسی مال نہیں ہے بلکہ کھاتے میں فرضی نمبروں کا اندراج ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ چاہے یو ایس ڈی ٹی میں ہو یا کرپٹو ٹوکن کی صورت میں ہو ، کرپٹو کرنسی سے خریدنا جائز نہیں ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے صاحبزادے حسن عثمانی نے جیو نیوز کو تصدیق کی کہ کرپٹو کرنسی سے متعلق سامنے آنے والا فتویٰ مفتی تقی عثمانی کا ہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید