• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لسانی گروہ سر اٹھا رہے ہیں، اداروں کو پالیسی درست کرنا ہوگی، حافظ نعیم

لاہور(نیوزرپورٹر)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ ملک میں لسانی گروہ دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں، اس لیے ریاستی اداروں کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی، ملک اس وقت ملک مہنگائی، سیاسی افراتفری، بدامنی کے سنگین مسائل کے نرغے میں ہے،ہم اس صورتحال میں بھرپور کردار ادا کرنے اور تعاون کیلئے تیار ہیں، ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر باعث تشویش ، افغان حکومت کو یقینی بنانا ہوگا اسکی سرزمین پاکستان کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال نہ ہو ۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو منصورہ میں جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مجلس شوریٰ عوامی مسائل کے حل، سیاسی کردار کے فروغ اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے اہم فیصلے اور اعلانات کریگی۔ انہوں نے کہا بلوچستان اور آزاد کشمیر کی صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ تیل، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ حافظ نعیم نے کہا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے مسئلے پر خاموش اور غیر متعلق نہیں رہ سکتی۔ آزاد کشمیر کی صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ خطہ میں سیاسی عمل کو کمزور کیا گیا، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی تحریک کے ابتدائی مطالبات تو تسلیم کیے گئے، تاہم بعد میں اسمبلی میں راتوں رات تبدیلیاں کرکے ایسے شخص کو وزیر اعظم بنایا گیا جس کے ساتھ کوئی سیاسی قوت موجود نہیں تھی، اکثریت کو وزارتوں اور مشاورت کے ذریعے تقسیم کر دیا گیا۔ موجودہ مرحلے میں مسائل کے حل کے لیے ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے بجائے سخت طرزِ عمل اختیار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام میں مایوسی اور ردعمل بڑھ رہا ہے۔
اہم خبریں سے مزید