• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا ایران میں دوبارہ کشیدگی، آبنائے ہرمز 5 روز سے بند، عالمی سپلائی چین شدید متاثر

کراچی(رفیق مانگٹ)امریکا ایران میں دوبارہ کشیدگی،آبنائے ہرمز 5روز سے بند، عالمی سپلائی چین شدید متاثر ،ہرمز 4 دن 20 گھنٹے سے بند،آخری 24گھنٹوں میں صرف 3 جہاز گزر سکے، درجنوں جہاز سیکورٹی کلیئرنس کے منتظر،مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی معیشت کی شہ رگ آبنائے ہرمز کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشمکش کے نتیجے میں ہزاروں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو چکی ہے۔ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں وسیع پیمانے پر ناکہ بندی، پھر عارضی جنگ بندی کے بعد جزوی بحالی، اور اب دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے صورتحال کو نہایت غیر یقینی بنا دیا ہے، جس کے اثرات عالمی تیل کی ترسیل، تجارتی نظام اور توانائی کی قیمتوں پر گہرے انداز میں مرتب ہو رہے ہیں۔تفصیلی رپورٹ کے مطابق ایران امریکہ کشیدگی نے عالمی تجارت کی شہ رگ سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو شدید متاثر کر دیا ہے، جہاں جنگ کے ابتدائی مرحلے میں مارچ کے دوران ایران کی جانب سے عملی ناکہ بندی  کے بعد ہزاروں بحری جہاز پھنس گئے۔ رپورٹس کے مطابق تقریباً 800 سے 1500 سے زائد آئل ٹینکرز، بلک کیریئرز اور دیگر تجارتی جہاز خلیج فارس میں رُک گئے، جن پر 15 ہزار سے 20 ہزار سے زائد ملاح سوار تھے، جبکہ کم از کم 20 جہازوں پر حملے اور بعض کی ضبطی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔اس کشیدہ صورتحال کے باعث عالمی تیل کی ترسیل شدید متاثر ہوئی اور انشورنس لاگت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کئی جہازوں نے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے گریز کیا جبکہ درجنوں بحری جہاز کھلے سمندر میں لنگر انداز ہو کر سیکیورٹی کلیئرنس کے منتظر رہے۔ ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر عالمی سپلائی چین کو بڑا دھچکا لگا اور توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی۔جون  میں امریکا اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد حالات میں جزوی بہتری آئی اور محدود پیمانے پر بحری ٹریفک بحال ہونا شروع ہوئی۔ اس دوران روزانہ تقریباً 20 سے 50 جہاز گزرنے لگے، جو کہ معمول کے 60 سے زائد جہازوں کے مقابلے میں نمایاں کمی تھی۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس عرصے میں کم از کم 136 جہازوں اور 2900 سے زائد ملاحوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا گیا، جبکہ درجنوں بڑے آئل ٹینکرز سمیت کئی سو جہاز مرحلہ وار اس علاقے سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔تاہم مکمل بحالی میں وقت درکار تھا اور ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ تمام پھنسے ہوئے جہازوں کی کلیئرنس میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اسی دوران سیکیورٹی خدشات، معائنے کے سخت اقدامات اور وقفے وقفے سے پیش آنے والے واقعات نے بحری سرگرمیوں کو سست رکھا، جس کے باعث عالمی تجارتی روانی مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

اہم خبریں سے مزید