• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئے عدالتی دھچکوں سے بچنے کیلئے تحریک انصاف کے پس پردہ رابطے

انصار عباسی

اسلام آباد:… پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے پارٹی بانی عمران خان اور ان کی بہن علیمہ خان سے متعلق اہم عدالتی کارروائیوں میں تاخیر کر انے کیلئے خاموشی سے پسِ پردہ کوششیں تیز کر دی ہیں ، تاہم اس حکمتِ عملی پر پارٹی کے اندر اختلافات بھی سامنے آ گئے ہیں۔یہ بات ذرائع نے دی نیوز کو بتا ئی ۔ ذرائع کے مطابق بیرسٹر گوہر نے قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجا ناصر عباس دونوں سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے اپنے ذرائع استعمال کرتے ہوئے جاری قانونی کارروائیوں میں، پارٹی کے بقول، "کچھ مہلت" دلوانے کی کوشش کریں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محمود خان اچکزئی سے درخواست کی گئی کہ وہ رانا ثناء اللہ سے رابطہ قائم کریں، جبکہ سینیٹر راجا ناصر عباس پہلے ہی ایک ایسے وفاقی وزیر سے رابطے میں ہیں جنہیں اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مقصد حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنا ہے کہ وہ دو اہم مقدمات کو جلد منطقی انجام تک پہنچانے پر زور نہ دے۔ ان میں ایک اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر کیس میں عمران خان کی اپیل ہے، جبکہ دوسرا راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں علیمہ خان کا ٹرائل ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی کی فوری تشویش علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے تشدد سے متعلق مقدمہ ہے، جوذرائع کے مطابق اپنے اختتامی مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ پارٹی کو خدشہ ہے کہ اگر جلد سزا سنائی گئی تو انہیں جیل جانا پڑ سکتا ہے، جس سے پارٹی کو پہلے سے درپیش قانونی اور سیاسی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ذرائع کے مطابق عمران خان پہلے ہی جیل میں ہیں، جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی اور ان کے بھانجے بھی قید ہیں۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر اس مرحلے پر علیمہ خان کو سزا ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف کارکنوں میں مایوسی بڑھے گی بلکہ پارٹی کو مزید سیاسی اور تنظیمی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔اسی دوران ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی اسلام آباد ہائی کورٹ میں القادر ٹرسٹ کیس، جسے 190 ملین پاؤنڈ کیس بھی کہا جاتا ہے، میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت میں بھی تاخیر چاہتی ہے۔ذرائع کے مطابق پارٹی کا خیال ہے کہ اپیل میں تاخیر اسلام آباد ہائی کورٹ یا انسدادِ دہشت گردی عدالت سے کسی منفی فیصلے کا سامنا کرنے کے مقابلے میں زیادہ سودمند حکمتِ عملی ہوگی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ سزا برقرار رکھتی ہے تو آئینی عدالت میں معاملہ پہنچنے سے پہلے پارٹی کے قانونی راستے خاصے محدود ہو جائیں گے۔اسلام آباد ہائی کورٹ پہلے ہی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل کرنے یا انہیں ضمانت دینے سے انکار کر چکی ہے۔ اگرچہ پی ٹی آئی کو توقع ہے کہ یہ معاملہ بالآخر آئینی عدالت میں جائے گا، تاہم ذرائع کے مطابق پارٹی کے حکمتِ عملی سازوں کا خیال ہے کہ فوری اپیلٹ فیصلہ ٹالنے سے انہیں سیاسی اور قانونی طور پر زیادہ گنجائش مل سکتی ہے۔تاہم ذرائع کے مطابق اس حکمتِ عملی کو پارٹی کے اندر متفقہ حمایت حاصل نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کا ایک حلقہ سمجھتا ہے کہ سیاسی رابطوں کے ذریعے تاخیر کی کوشش کرنا غلط پیغام دیتا ہے اور یہ پارٹی کے اس عوامی مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا کہ وہ اپنے قانونی مقدمات عدالتوں میں لڑ رہی ہے۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ علیمہ خان بھی مذکورہحکمتِ عملی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ انہی کوششوں کے باعث انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ان کا مقدمہ آئندہ ہفتے نمٹنے کے بجائے 12 اگست تک ملتوی کر دیا گیا ہو۔ تاہم ذرائع کے مطابق انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں سزا بھی ہوتی ہے تو وہ جیل جانے سمیت قانونی عمل کے نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، بجائے اس کے کہ عدالتی کارروائی مؤخر کرانے کے لیے کسی قسم کے انتظامات کیے جائیں۔رابطہ کرنے پر بیرسٹر گوہر نے اس حکمتِ عملی یا زیرِ سماعت مقدمات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ذرائع کے مطابق ان مختلف آرا نے پی ٹی آئی کے اندر ایک وسیع تر بحث کو نمایاں کر دیا ہے کہ آیا پارٹی قانونی ریلیف حاصل کرنے کے لیے سیاسی ذرائع استعمال کرتی رہے یا ممکنہ سیاسی نقصان کے باوجود عدالتی عمل کو اپنی رفتار سے چلنے دیا جائے۔ 

اہم خبریں سے مزید