• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعلیٰ کے بھائی کی مبینہ سیاسی مداخلت پر پی ٹی آئی کے اندر اختلافات

پشاور(ارشد عزیز ملک )خیبر پختونخوا میں حکمران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر وزیراعلی سہیل آفریدی کے بھائی کی سیاسی اور انتظامی معاملات میں مداخلت پر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ضلع خیبر سے منتخب پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کو ایک تحریری شکایت ارسال کرتے ہوئے ان کے بھائی نوید آفریدی کی اپنے حلقہ PK-71 کے معاملات میں مبینہ مداخلت روکنے کی درخواست کر دی۔عبدالغنی آفریدی نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ  نوید آفریدی کس قانونی، آئینی یا سرکاری اختیار کے تحت کھلی کچہریاں منعقد کرتے،نوید آفریدی مسلسل ان کے حلقے کے سیاسی اور انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں، جس سے غیر ضروری گروپ بندیاں جنم لے رہی ہیں، تنظیمی نظم و ضبط متاثر ہو رہا ہے اور ایک منتخب عوامی نمائندے کی حیثیت سے ان کے سیاسی وقار کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ایم پی اے کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر پانچ مرتبہ ذاتی طور پر وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا، چار مرتبہ صوبائی وزیر مینا خان سے بھی بات کی، متعدد بار نوید آفریدی سے براہ راست درخواست کی اور ان کے اہل خانہ سے بھی انہیں مداخلت سے روکنے کی اپیل کی، تاہم ان کی تمام کوششوں کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نوید آفریدی حلقہ PK-71 میں باقاعدگی سے کھلی کچہریاں منعقد کرتے ہیں، ان کی صدارت کرتے ہیں اور ضلعی محکموں کے افسران کو ہدایات جاری کرتے ہیں۔ عبدالغنی آفریدی کے مطابق بعض مواقع پر متعلقہ افسران کو یہ بھی کہا گیا کہ اگر وہ ان کھلی کچہریوں میں شریک نہ ہوئے تو انہیں معطل یا تبادلہ کر دیا جائے گا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ نوید آفریدی کس قانونی، آئینی یا سرکاری اختیار کے تحت کھلی کچہریاں منعقد کرتے، ان کی صدارت کرتے اور سرکاری افسران کو احکامات جاری کرتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید