• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بی آر ٹی 8 ارب کرپشن کیس، ضمیر عباسی کی ضمانت پر اعتراض نہیں، سندھ حکومت کے پراسیکیوٹر کا موقف

کراچی (اسٹاف رپورٹر) صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ نے بی آر ٹی یلو لائن میں ساڑھے 8ارب روپے کی مبینہ کرپشن کےکیس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد کرتےہوئے کہا ہے کہ گورنمنٹ کا جلدی کام کرنے کا دباؤ ہوگا تو کیا غیر قانونی کام کرتے جائینگے۔پروجیکٹ ڈائریکٹر کیاچیف منسٹرہیں ، ورلڈ بینک کی پیمنٹ ریلیز ہوئی ملک کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے ، کیاپہلے بینک گارنٹی لی گئی تھی۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی اینٹی کرپشن کورٹ نےسابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ عدالت نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔ اینٹی کرپشن کورٹ میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی۔ سندھ حکومت کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر عدالت میں پیش ہوئے۔ اسپیشل پبلک پراسیکوٹر کا عدالت میں کہناتھا کہ ضمیر عباسی کو ضمانت دینے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ملزم کے وکیل کاکہنا تھا کہ اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ ایڈوانس میٹریل نہیں خریدا جاسکتا ہے، ضمیر عباسی کا موقف ہے کہ میٹریل کی ایڈوانس خریداری کرسکتے ہیں۔عدالت نے استفسار کیاکہ جو ٹرمز اینڈ کنڈیشن طے ہوئی تھیں کیا وہ پیمنٹ کی ادائیگی سے پہلے پوری ہوئی تھیں ۔ملزم کے وکیل کاکہنا تھا کہ بالکل تمام ٹرمز اینڈ کنڈیشن پوری ہوئی تھیں تاہم یہ بات ثابت کرنا پراسکیویشن کا کام ہے ، ضمیر عباسی نے کیا خلاف ورزی کی ہے پراسکیویشن بتائے ،کیا اینٹی کرپشن یا سی ایم آئی ٹی نے کسی سائٹ کی انسپیکشن کی تھی ،میٹریل دیکھا تھا ۔عدالت نے ملزم کے وکیل سے کہاکہ آپ ہمارے سوالوں کا تسلی بخش جواب نہیں دے رہے۔عدالت کاکہنا تھا کہ جو پیمنٹ ریلیز ہوئی تھی وہ کسیکوڈل فارمولٹی کے بغیر کی گئی ہیں ،عدالت کاکہنا تھا کہ کیا پیمنٹ ریلیز کرنے سے پہلے بینک گارنٹی لی گئی تھی، اگر گورنمنٹ کا دباؤ ہوگا کہ جلدی کام کریں تو کیا غیر قانونی کام کرتے جائیں گے۔ملزم کے وکیل کاکہنا تھا کہ جس طریقہ سے ضمیر عباسی کام کررہے تھے اسی طریقے سے اب بھی کام جاری ہے اسی کنٹریکٹر کے ساتھ ۔عدالت کاکہنا تھا کہ آپ کیا کسی کے ٹریپ میں پھنس گئے ہیں ۔ملزم کے وکیل کاکہنا تھا کہ نشانہ کوئی اور تھا شکار میں ہوگیا ہوں، ضمیر عباسی اب جیل میں ہیں ، ملک کے سینکڑوں پروجیکٹس میں اسی طرح سے کام ہورہا ہے۔عدالت کاکہنا تھا کہ ورلڈ بینک کی پیمنٹ ریلیز ہوئی ہے ملک کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے ، کنسلٹنٹ کی منظوری کے بغیر پیمنٹ کی گئی ہے، کیا پروجیکٹ ڈائریکٹر کو سارے اختیارات حاصل ہیں کیا وہ چیف منسٹر ہیں ، ورلڈ بینک کے خطوطِ میں ملک کی مبینہ طور پر بے عزتی ہوئی ہے۔عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے کوئی انکوائری کی ہے۔وکیل کاکہنا تھا کہ اینٹی کرپشن نے کوئی انکوائری نہیں کی ہے، سی ایم آئی ٹی نے انکوائری کی ہے ،عدالت کاکہنا تھا کہ آپ کو اس کیس میں اسپیشل پبلک پراسکیوٹر بنایا گیا ہے بڑے کھلاڑی ہوں گے، سی ایم آئی ٹی رپورٹ کی کیا کوئی قانونی حیثیت ہے ؟ عدالت نے اینٹی کرپشن کورٹ کے سرکاری وکیل کو طلب کرلیا ۔عدالت نے اسپیشل پبلک پراسیکوٹر سے سوال کیا کہ کیا وزیر اعلیٰ کی انکوائری کے بعد اینٹی کرپشن کی ایف آئی آر ہوسکتی ہے ؟ وکیل کاکہنا تھا کہ 1993 کے رولز میں ہے کہ وزیر اعلیٰ کو اختیار ہے کسی بھی معاملے کی انکوائری کرواسکتے ہیں، ضمیر عباسی نے رولز کو فالو نہیں کیا، نیسپاک سے پیمنٹ کی منظوری نہیں لی گئی ، انوسٹیگیشن چل رہی ہے اگر عدالت ملزم کو ضمانت دیتی ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔عدالت کاکہنا تھا کہ اس کام کے لئے آپ کو اسپیشل اے پی جی بناکر بھیجا گیا ہے پہلے ہی بتا دیتے ، ہم آپ کو یہاں سنانے کے لئے بیٹھے ہیں ۔ عدالت نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔
اہم خبریں سے مزید