کراچی (ٹی وی رپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں جو ہو رہا ہے وہ مرکزی نظام کی سوچ کی عکاسی ہے رجیم جو بھی ہو پالیسی ایک ہی رہتی ہے، الیکشن ہوں تو عمران کو کے پی بری شکست ہوگی وہ جیو نیوز کے پروگرام ’جرگہ‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کر رہے تھے۔ تفصیلات کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا کہ افغانستان سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے میری جانب سے بھیجے گئے پیغام کا کوئی جواب نہیں ملا۔ گزشتہ دس پندرہ برس سے ایک مخصوص جماعت نظریاتی طور پر دہشت گردوں کی حمایت کرتی رہی ہے۔ اگر آج انتخابات ہوں تو عمران خان خیبرپختونخوا میں بری طرح شکست کھائیں گے جبکہ پنجاب میں کلین سوئپ کریں گے۔ کیونکہ جہاں ان کی سیاسی طاقت ہے وہاں انہیں اختیار نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو خیبر پختونخوا میں اسی مقصد کے لئے آگے لایا گیا تاکہ وہی پالیسیاں جاری رہیں جو چلتی آرہی ہیں۔ فوج کو مضبوط بنانے کے ساتھ جمہوریت کو بھی آزاد ہونا چاہئے پاکستان کو ہمسایہ ممالک سے تعلقات اور تجارت بہتر بنانی چاہئے اور وفاقی ترجیحات کا اندازہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کے تقابل سے لگایا جا سکتا ہے۔ وزیرستان کو بھی وہی حقوق ملنے چاہئیں جو راولپنڈی کو حاصل ہیں خیبرپختونخوا کی پیدا کردہ بجلی پنجاب منتقل کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں جو ہو رہا ہے وہ مرکزی نظام کی سوچ کی عکاسی ہے رجیم جو بھی ہو پالیسی ایک ہی رہتی ہے ۔ یہ پارٹی نظریاتی طور پر گزشتہ دس پندرہ سال سے ان دہشت گردوں کو سپورٹ کرتی رہی ہے۔