اسلام آباد (رپورٹ: حنیف خالد) ملک بھر میں گندم کی آزادانہ بین الصوبائی نقل و حرکت کو یقینی بنا کر ہی گندم کی حقیقی صورتحال کا تعین، مصنوعی قلت کا خاتمہ اور قیمتوں میں استحکام لایا جا سکتا ہے، پنجاب سے10لاکھ ٹن گندم باہر جانے کا دعویٰ حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین بدرالدین کاکڑ نے روزنامہ جنگ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں، وفاقی وزارتِ غذائی تحفظ کے اجلاس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز، فوڈ سیکریٹریز اور متعلقہ حکام نے اپنی اپنی گندم کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب نے فلور ملوں کے پاس 15لاکھ ٹن ڈیکلئرڈ گندم اور سرکاری خریداری کی تقریباً 4 لاکھ 80 ہزار ٹن گندم موجود ہونے کا بتایا، تاہم صوبے سے 10 لاکھ ٹن گندم باہر جانے کے دعوے کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی مقدار کی ترسیل کے شواہد یا پرمٹس موجود نہیں۔ ان کے مطابق سندھ نے مؤقف اختیار کیا کہ قیمتیں بڑھنے کے باعث سرکاری خریداری ممکن نہ ہو سکی اور اس وقت محدود ذخائر موجود ہیں۔