تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک ) سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی نظام‘ساحلی ریڈار مراکز‘ میزائل ‘ڈرون تنصیبات اور چھوٹی بحری کشتیوں کو نشانہ بنایا گیاجبکہ پیراورمنگل کی درمیانی شب بھی بندر عباس میں متعدددھماکے سنے گئے ہیں‘دوسری جانب تہران نے جوابی کارروائی میں بحرین ‘اردن ‘عمان اور کویت امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایاہے ‘ صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ اس محاصرے کا مقصد ایرانی جہازوں اور اس کے گاہکوں کو آنے جانے سے روکنا ہے تاہم دیگر تمام ممالک آبنائے ہرمز کا آزادانہ استعمال کر سکیں گے‘ واشنگٹن آبنائے سے گزرنے والے تمام سامان پر 20فیصد معاوضہ وصول کرے گا‘ایران پر آج بھی حملے جاری رہیں گے ‘ امریکی فوج کے مطابق ایرانی بندرگاہوںکے محاصرے کا اطلاق آج سے ہوگا ۔صدرٹرمپ نے باقاعدہ طور پر کانگریس کو اطلاع دی ہے کہ ایران کیخلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں۔بین الاقوامی بحری تنظیم (IMO) نے ہرمز میں فیس وصولی کی مخالفت کردی ‘ دوسری جانب تہران نے خبردارکیاہے کہ خلیجی ممالک واشنگٹن کومددفراہم کرنے سے بازرہیں ‘ ہرمز میں امریکی مداخلت برداشت نہیں کریں گے ‘ ایران کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران ہمیشہ سے آبنائے ہرمز کا محافظ رہا ہے اوررہے گا۔ٹرمپ کی فیس وصولی کی بات ٹھیک ہے مگر20فیصدبہت زیادہ ہے ‘ہم انصاف سے کام لیں گےجبکہ سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر مشیر محمد مخبر کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کے کنٹرول سے دستبردار نہیں ہوگا‘برطانیہ نے پاسدارانِ انقلاب کو کالعدم دہشتگرد تنظیم قراردیتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کے منصوبوں کا اعلان کیاہے ۔ایرانی میڈیا کے مطابق پیرکو آبنائے ہرمز کو غیر قانونی طور پر عبور کرنے کی کوشش کرنے والے متعدد جہازوں کو نشانہ بنایا گیا اور پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی جانب سے انتباہی فائرنگ کر کے انہیں روک دیا گیا۔ایران کی فوج نے واضح کیاہے کہ امریکا کو ہرمز کا انتظام سنبھالنے کی اجازت نہیں دیں گے جبکہ پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکا نے آبنائے ہرمز میں مداخلت کر کے عالمی تیل اور گیس کی فراہمی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
kk