اسلام آباد (این این آئی)وفاقی آئینی عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کا تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے منصوبے کی تکمیل تک کسی بھی عدالت کو اس معاملے میں مداخلت سے روکدیا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ہائیکورٹ نے قانون کو مدنظر رکھے بغیر غلط ہدایات جاری کیں جبکہ اپنے احکامات میں تنازعات کے حل سے متعلق معاہدے، واپڈا ایکٹ اور نیب قوانین کو بھی پیش نظر نہیں رکھا۔ڈیم کی تعمیر سے متعلق تمام تنازعات کا حل فریقین کے درمیان طے شدہ معاہدے کے مطابق کیا جائے۔ عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے اور احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ڈیم کی تعمیر سے متعلق تمام تنازعات کا حل فریقین کے درمیان طے شدہ معاہدے کے مطابق کیا جائے۔ چیف جسٹس امین الدین خان کی جانب سے تحریر کیے گئے 17 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کی ہدایات کا مقصد مزید قانونی چارہ جوئی کو ایک اہم عوامی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بننے سے روکنا ہے۔