اسلام آباد (نمائندہ جنگ) 75 ارب کے ترقیاتی فنڈز کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں، آڈٹ نے شفافیت پر سوالات اٹھا دیے۔ کابینہ ڈویژن آڈٹ کو یہ بھی آگاہ کرنے میں ناکام رہا یہ فنڈز کن منصوبوں پر، کن علاقوں میں اور کس حد تک خرچ کیے گئے۔ گزشتہ سال چاروں صوبائی حکومتوں، وفاقی محکموں اور ارکانِ پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے جاری کیے گئے 75 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز تازہ ترین آڈٹ تحقیقات کی زد میں آ گئے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق پسماندہ علاقوں کی ترقی کے لیے مختص اربوں روپے کے استعمال کا مکمل ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔ مزید برآں کابینہ ڈویژن آڈٹ کو یہ بھی آگاہ کرنے میں ناکام رہا کہ یہ فنڈز کن منصوبوں پر، کن علاقوں میں، اور کس حد تک خرچ کیے گئے۔ ریکارڈ کی عدم دستیابی کے باعث آڈٹ 75 ارب روپے کے اخراجات اور ان کے نتائج کی تصدیق نہ کر سکا، جس سے پروگرام کی شفافیت اور نگرانی پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔