• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

این ای ڈی داخلہ ٹیسٹ، نتائج نے سندھ کے تعلیمی بورڈز کی کارکردگی پر پھر سنگین سوالات اٹھا دیئے

کراچی (سید محمد عسکری) جامعہ این ای ڈی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج نے سندھ کے سرکاری تعلیمی بورڈز، بالخصوص اندرون سندھ کے بورڈز اور سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کی تعلیمی معیار اور امتحانی نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ غیر ملکی بورڈز، کیمبرج، آغا خان ایجوکیشن بورڈ اور فیڈرل بورڈ کے طلبہ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جامعہ این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ڈاکٹر طفیل نے جنگ/ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انٹر میڈیٹ سالِ اول میں 70اور 80فیصد سے زائد نمبر حاصل کرنے والے متعدد طلبہ داخلہ ٹیسٹ میں کامیاب نہ ہو سکے، جو امتحانی نظام اور نمبروں کی ساکھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ نتائج کے مطابق غیر ملکی بورڈز کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب 95.65 فیصد رہا، جبکہ کیمبرج کے طلبہ کی کامیابی 94.32 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ آغا خان ایجوکیشن بورڈ کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب 88.84 فیصد اور فیڈرل بورڈ کے طلبہ کا 83.71 فیصد رہا۔ کراچی بورڈ کے طلبہ نے 79.91 فیصد کامیابی حاصل کی۔ اس کے برعکس سندھ کے بیشتر سرکاری بورڈز کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ سب سے خراب نتائج سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے سامنے آئے، جہاں کامیابی کا تناسب محض 13.95 فیصد رہا۔ اندرون سندھ کے بورڈز میں حیدرآباد بورڈ کے طلبہ کی کامیابی 46.83 فیصد، نواب شاہ بورڈ 42.03 فیصد، میرپورخاص 40.43 فیصد، لاڑکانہ 36.71 فیصد اور سکھر بورڈ 35.06 فیصد رہی۔ ڈاکٹر طفیل کے مطابق این ای ڈی یونیورسٹی کے مطابق داخلہ ٹیسٹ میں 13,056 امیدوار شریک ہوئے، جن میں سے 9,252 کامیاب قرار پائے اور مجموعی کامیابی کا تناسب 70.86 فیصد رہا۔ یونیورسٹی میں داخلہ ٹیسٹ پاس کرنے کے لیے کم از کم 50 فیصد نمبر حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے، جس کے بعد اوپن میرٹ کی بنیاد پر داخلوں کا عمل شروع ہوتا ہے۔ نتائج نے ایک مرتبہ پھر سندھ کے سرکاری تعلیمی بورڈز کے امتحانی نظام، تدریسی معیار اور انتظامی ڈھانچے کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر 70 سے 80 فیصد نمبر لینے والے طلبہ بنیادی اہلیت کے امتحان میں بھی مطلوبہ معیار حاصل نہ کر سکیں تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بورڈ امتحانات میں نمبروں کی تقسیم اور حقیقی تعلیمی استعداد کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ مزید برآں، سندھ کے تقریباً تمام تعلیمی بورڈ کئی برس سے مستقل انتظامی قیادت سے محروم ہیں۔ بیشتر بورڈز میں مستقل چیئرمین، سیکریٹری، ناظم امتحانات اور آڈٹ افسر تعینات نہیں، جبکہ حیدرآباد بورڈ اور کراچی میٹرک بورڈ بھی کئی ماہ سے مستقل چیئرمین کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقل سربراہان کی عدم موجودگی، ایڈہاک انتظامیہ، ناقص نگرانی اور اصلاحات کے فقدان نے سرکاری بورڈز کی کارکردگی کو مسلسل زوال کا شکار کر دیا ہے، جس کا براہ راست نقصان ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو پہنچ رہا ہے۔
اہم خبریں سے مزید