• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بچوں کومعاشرے میں دوبارہ انضمام اور اصلاحی انصاف کے مواقع فراہم کئے جائیں

پشاور( لیڈی رپورٹر)خیبر پختونخوا کے 13 اضلاع سے تعلق رکھنے والی جووینائل جسٹس کمیٹیوں (JJCs) کے ارکان کے لئے ’’ڈائیورژن اور بچوں کے لئے دوستانہ انصاف‘‘ کے موضوع پر دو روزہ تربیتی پروگرام پشاور میں اختتام پذیر ہوگیا، تربیت خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن (KPCPWC) اور یونیسیف پاکستان کے اشتراک سے ’’ری امیجننگ جسٹس فار چلڈرن‘‘ پروگرام کے تحت منعقد کی گئی، جس کا مقصد جووینائل جسٹس کمیٹیوں کے ارکان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا تھا تاکہ وہ جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنا سکیں، بالخصوص قانون سے متصادم بچوں کے لیے ڈائیورژن کو ترجیحی حکمتِ عملی کے طور پر اپنایا جا سکے۔تربیتی نشستوں میں اس امر پر زور دیا گیا کہ جہاں ممکن ہو بچوں کو غیر ضروری رسمی عدالتی کارروائیوں سے دور رکھا جائے اور انہیں بحالی، معاشرے میں دوبارہ انضمام اور اصلاحی انصاف کے مواقع فراہم کیے جائیں، جو قومی قوانین اور بچوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہوں۔تربیت میں پشاور، چارسدہ، صوابی، مردان، نوشہرہ، بنوں، کوہاٹ، ایبٹ آباد، بٹگرام، لوئر دیر، سوات، لوئر چترال اور اپر چترال سے تعلق رکھنے والے جوڈیشل مجسٹریٹس، سینئر سول ججز، ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹرز، پروبیشن افسران اور بار کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جووینائل جسٹس کمیٹیاں وزارتِ انسانی حقوق پاکستان کی جانب سے جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ (JJSA) 2018 کے تحت تشکیل دی گئی ہیں۔
پشاور سے مزید