پشاور(جنگ نیوز) اٹک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پاکستان کے فاؤنڈر صدر، سابق نائب صدر و چیئرمین کوآرڈینیشن ایف پی سی سی آئی، مرزا عبدالرحمن نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اٹک شہر میں سابق ڈپٹی کمشنر اور ان کی ٹیم کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے باعث شہر کا تاریخی حسن اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سو سالہ قدیم چوک فوارہ اور اس سے ملحق چاروں کشادہ مرکزی شاہراہیں، جو اٹک شہر کی شناخت اور خوبصورتی سمجھی جاتی تھیں، طویل عرصے سے تعمیراتی رکاوٹوں اور بندشوں کے باعث کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں ۔مرزا عبدالرحمن نے کہا کہ مختلف مقامات پر بڑے بڑے آہنی گیٹ نصب کرکے عوام اور گاڑیوں کی آمدورفت محدود کر دی گئی ہے، جس کے باعث مرکزی بازاروں، بینکوں اور دیگر کاروباری مراکز میں تجارتی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری شدید مالی مشکلات کا شکار ہے جبکہ عام شہری بھی روزانہ کی بنیاد پر شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس منصوبے پر اربوں روپے خرچ کیے گئے، لیکن اس کے باوجود شہر کے بیشتر علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ عوامی نمائندوں نے بھی اس اہم عوامی مسئلے کے حل میں مؤثر کردار ادا نہیں کیا، جس کے باعث تاجروں اور شہریوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔