پشاور(سٹاف رپورٹر) خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیرصدارت تقریباً تین گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا، تلاوتِ کلامِ پاک، حدیثِ مبارکہ اور قومی ترانے کے بعد وقفہ سوالات کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان کے کچہ علاقے میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور متاثرین کو معاوضوں کی ادائیگی کا معاملہ ایوان میں زیر بحث آیا،پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کچہ علاقے میں سیلاب کے باعث وسیع پیمانے پر زرعی زمینیں اور مکانات متاثر ہوئے تاہم ریلیف ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے پیش کیا گیا ڈیٹا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا، انہوں نے کہا کہ صرف 32 متاثرین کو معاوضے کے چیک جاری کیے گئے، جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈسٹرکٹ سطح کی سروے کمیٹیوں میں عوامی نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ شفاف اور درست سروے یقینی بنایا جا سکے،عوامی نیشنل پارٹی کے رکن ارباب عثمان نے کہا کہ ایک جانب جمہوریت کے دعوے کیے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب بلدیاتی نظام کو نظرانداز کرکے تمام اختیارات بیوروکریسی کے حوالے کر دیے گئے ہیں،وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان کو بتایا کہ 2025 کے سیلاب متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی کی جا چکی ہے تاہم اگر سوال اٹھانے والے رکن کو اعداد و شمار یا سروے پر تحفظات ہیں تو معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھیجا جا سکتا ہے، سپیکر بابر سلیم سواتی نے معاملہ ریلیف سے متعلق قائمہ کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے کمیٹی کا اجلاس جلد طلب کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔