کراچی( نصر اقبال /اسٹاف رپورٹر) انتہاپسندی، دہشت گردی کے خلاف ملکی تاریخ میں اہم پیش رفت، مختلف مسالک کے جید علما و مشائخ کا جامعہ الرشید کراچی کا دورہ، ایک امام کے پیچھے نماز مغرب ادا کی، ملک میں مذہبی ہم آہنگی، وحدت اور اتحاد کی جانب ایک غیر معمولی ، تاریخی اقدام اور سنگ میل قرار، طاہر اشرفی، عارف واحدی،محمد حسین اکبر، مفتی عبدالرحیم، ضیاء اللہ بخاری، مفتی کریم و دیگر شامل تھے۔ تفصیلات کے مطابق انتہاپسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب قومی پیغام امن کمیٹی، حکومتِ پاکستان کے زیرِ اہتمام تمام مکاتبِ فکر کے جید علما و مشائخ، مختلف دینی مدارس کے نمائندگان اور رہنماؤں نے جامعہ الرشید کراچی کے دورے کے دوران ایک امام کے پیچھے نماز مغرب ادا کی،جس کو ملک میں مذہبی ہم آہنگی، وحدت اور اتحاد کی جانب ایک غیر معمولی اور تاریخی اقدام اور سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، تاریخی اجتماع میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، علامہ عارف واحدی، علامہ محمد حسین اکبر، مفتی عبدالرحیم، علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، مفتی محمد کریم خان، ڈاکٹر آصف میر، مفتی یوسف کشمیری، علامہ توقير عباس ،علامہ اسد زیدی، حافظ مقبول احمد سمیت مختلف وفاق ہائے مدارس کے نمائندگان نے شرکت کی یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ کسی بڑے دینی ادارے میں تمام مکاتبِ فکر کے علما و مشائخ نے اس انداز میں اکٹھے ہو کر ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہوئے وحدتِ امت اور قومی یکجہتی کا عملی پیغام دیا،قومی پیغام امن کمیٹی، حکومتِ پاکستان کے کوآرڈینیٹر اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل، کرم اور احسان سے آج وہ عظیم دن آ گیا ہے جس کا پوری قوم اور امتِ مسلمہ کو انتظار تھا۔ ہماری خواہش تھی کہ پاکستان میں بھی حرمین شریفین کی طرح تمام مسلمان ایک امام کے پیچھے نماز ادا کریں۔