کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر/این این آئی ) شہداء زیارت کے لواحقین اور آل پارٹیز کے مطالبات تسلیم ہونے پر 9روز سے کوئٹہ میں کوئلہ پھاٹک شہداء چوک پر جاری احتجاجی دھرنا ختم کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق زیارت میں دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین اور آل پارٹیز کی جانب سے کوئٹہ میں کوئلہ پھاٹک پر 9 روز سے احتجاجی دھرنا جاری تھا۔اس سلسلے میں زیارت شہداء کے لواحقین و آل پارٹیز اور حکومت کے درمیان کئی روز سے مسلسل مذکرات جاری رہے۔اور زیارت شہداء کے لواحقین و آل پارٹیز کی جانب سے حکومتی وفد کو اپنے مطالبات پیش کئے گئے۔جس پر گذشتہ کئی دنوں سے مشاورت جاری رہی۔اور ہفتہ کی رات کو زیارت شہداء لواحقین و آل پارٹیز اور حکومت وفد کے درمیان مذکرات کامیاب ہوگئے۔اور حکومت نے زیارت شہداء لواحقین و آل پارٹیز کیجانب سے پیش کئے گئے مطالبات تسلیم کرلئے۔جس کے بعد زیارت پولیس شہداء کے لواحقین و آل پارٹیز کی جانب سے کوئلہ پھاٹک شہداء چوک پر جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا گیا۔اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر اے این پی کے صوبائی صدر و آل پارٹیز کے رہنماء اصغر خان اچکزئی نے مذاکرات کے کامیاب ہونے اور زیارت شہداء لواحقین و آل پارٹیز کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات کے تسلیم ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ مسلسل طویل مذاکرات کے بعد حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کرلئے ہیں۔ این این آئی کے مطابق بلوچستان حکومت اور زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین اور دھرنا کمیٹی نے 8نکاتی معاہدے پر دستخط کردئیے جمعہ کو بلوچستان حکومت اور زیارت شہداء کی دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کا فیصلہ کن دور پشتونخواء ملی عوامی پارٹی کے رہنما عبدالرحیم زیاتوال کی رہائشگاہ پر منعقد ہوا جس میں حکومتی کمیٹی کی سربراہی وزیر صحت بخت کاکڑ ،صوبائی وزراء میر ضیاء لانگو،میر سلیم خان کھوسہ ،میر عاصم کرد گیلو، سینیٹر منظور کاکڑ بلال کاکڑ اور کمشنر کوئٹہ شاہ زیب کاکڑ شامل تھے جبکہ زیارت شہداء دھرنا کمیٹی کی نمائندگی عبدالرحیم زیارتوال، اصغر خان اچکزئی ،ڈاکٹر اسحاق بلوچ، میر اختر حسین لانگو سمیت دیگر نے کی ۔ معاہدے کے بعد حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی مفاہمتی کوششیں کامیاب ہوگئیں جس کے بعد حکومت بلوچستان اور دھرنا کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہوئے ، تحریری معاہدہ طے پا گیا ہے ۔ فریقین نےشہدائے زیارت کے لواحقین کے مطالبات پر عملدرآمد اور صوبے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا ہے ۔ معاہدے میں شہدائے زیارت کے واقعے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے ، وزیر اعلیٰ بلوچستان کی سربراہی میں امن و امان کی صورتحال پر اپوزیشن جماعتوں اور شہدا کے لواحقین کا مشترکہ ان کیمرہ اجلاس منعقد ہوگا،بلوچستان کے شہری علاقوں میں پولیس فورس کی استعداد، افرادی قوت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔